صفحہ اول > ڈاکٹر حافظ عبدالکریم

ڈاکٹر حافظ عبدالکریم

ڈیرہ غازی خان اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث ملک بھر میں اہم ترین مقام رکھتا ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے یہ علاقہ بعض خاندانوں اور وڈیروں کی انا پرستی اور بالادستی کے باعث تعلیم اور ترقی کے میدان میں بہت پیچھے رہا ۔علاقے کو اپنی جاگیر سمجھنے والوں کے ہاں تو شاہانہ محلات اور عیش و عشرت کی ہمیشہ سے فراوانی تھی لیکن دوسری طرف اس دھرتی کے لاکھوں محنت کش پانی کی بوند بوند کو ترستے رہے۔ غریبوں کے ووٹوں سے منتخب ہوکر ایوان اقتدار سنبھالنے والوں نے اہل علاقہ کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے اپنی تجوریاں بھرنے اور جائیدادیں بنانے پر زیادہ توجہ دی ۔حلقے کو اپنی جاگیر سمجھنے والوں نے ملک کے اعلی ترین عہدے پر فائز رہنے کے باوجود ڈیرہ غازی خان کی عوام کو بنیادی وسائل سے محروم رکھا ۔ ائیر پورٹ اور مہنگی سٹرکیں تو تعمیر کرا دی گئیں لیکن بھوک سے سسکتے بچوں ، بے روزگار پھرتے نوجوانوں، پانی کے حصول کے لئے مشقت اٹھاتی خواتین اور علاج معالجے سے محروم بچوں کے لئے کچھ بھی نہ کیا ۔

انہی حالات میں ڈیرہ غازی خان کے ایک پسماندہ گاوں میں پیدا ہونیوالی ایک اعلی تعلیم یافتہ شخصیت نے اہل علاقہ کی خدمت کا آغاز کیا ۔ بیرون ملک پرکشش ملازمت کو ٹھکرا کر آنیوالے اس بندہ خدا کا واحد مقصد یہاں پر رقص کرتی غربت ، جہالت اور بنیادی وسائل کی کمی کو ختم کرنا تھا ۔ ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کو حکومتی سرپرستی حاصل نہ تھی اور نہ ہی مقامی وڈیروں اور جاگیرداروں کی آشیرباد تاہم ان کے دل میں تن تنہا اہل علاقہ کی خدمت کا جذبہ پوری شدت سے موجود تھا۔ اور پھر اہل ڈیرہ غازی خان نے دیکھا کہ انہوں نے ایسے ایسے شاندار اور دلکش منصوبے مکمل کئے جن کی مثال ملنا مشکل ہے ۔ ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے ذاتی طور پر اس قدر فلاحی اور تعلیمی خدمات سرانجام دیں کہ اس پورے علاقے کی سرکاری مشینری اس معیار کا تصور بھی نہیں کر سکتی

ڈاکٹر حافظ عبدالکریم ڈیرہ غازی خاں سے بارہ کلو میٹر کے فاصلے بستی وڈورو میں 15اکتوبر1961ء کو پیدا ہوئے ۔ والد محترم کا نام نواب قادر بخش بلوچ ہے جو کورائی بلوچ قبیلے کے ایک بڑے زمیندار اور معزز شخصیت تھے ۔ والد محترم انتہائی دیندار اور شریف النفس انسان تھے۔ وہ اپنے قبیلہ ہی میں نہیں بلکہ دوسرے قبیلوں میں بھی انہیں انتہائی عقیدت کے مستحق سمجھے جاتے تھے۔ اپنے خاندان میںوہ پہلی شخصیت ہیں جنہیں مسلک اہلحدیث سے روشناسی ہوئی ،اور پھر انہوں نے اپنے گائوں میں ایک گھر خرید کر مسجد کے لئے وقف کیا جہاں انہوں نے اپنے ذاتی وسائل سے گائوں میں سب سے بڑی مرکزی مسجد تعمیر کروائی۔ حافظ صاحب نے ابتدائی تعلیم اپنی بستی وڈورو میں ہی حاصل کی ۔ محترم استاد صوفی اللہ بخش سے قرآن مجید ناظرہ پڑھنے کا شرف حاصل ہوا،۔تعلیم قرآن کے ساتھ ساتھ گائوں سے ہی پرائمری تک کی عصری تعلیم مکمل کی اور پھر ڈی جی خان شہر میں اپنے بڑے بھائی مولانا الشیخ محمد عمر کے پاس ا گئے جو کہ شہر کی مرکزی مسجد میں امامت وخطابت کے فرائض سر انجام دیتے تھے۔ جامعہ محمدیہ چوٹی زیریں میں درس نظامی کے ابتدائی اسباق پڑھے ،۔ دس نظامی کے تیسرے سال عظیم دانشگاہ جامعہ محمدیہ اہلحدیث گوجرانوالہ میں شیخ الحدیث مولانا عبد الحمید ہزاروی،شیخ الحدیث مولانا محمد رفیق سلفی،شیخ الحدیث مولانا حافظ عبد المنان نور پوری،فضیلۃ الشیخ مولانا جمعہ خان جیسے ارباب علم وفن کی مجالس سے کسب فیض کیا۔ جامعہ محمدیہ میں دوران تعلیم ہی معہد الحرم مکہ مکرمہ میں داخلہ ہو گیا ۔، اس عظیم ادارہ میں درجہ ثانویہ مکمل کیا ،پھر ام القریٰ یونیورسٹی مکہ مکرمہ میں زیر تعلیم رہے ۔ یہاں کلیۃ الدعوہ قسم القرأت سے بی اے کیا۔ اسی دوران حفظ القرآن بھی مکمل کیا اور تجوید کا کورس بھی امتیازی پوزیشن سے پاس کیا ۔حافظ عبدالکریم کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے حرم شریف میں شعبہ حفظ القرآن میں بطور مدرس تقریبا پانچ سال خدمات سر انجام دیں۔اس کے بعد مسجد عبد الباقی بخاری مکہ میں آٹھ سال بطور امام مسجد خدمات سرانجام دیں ۔ اور اس مسجد میںجمعیت تحفیظ القرآن کے 5حلقہ جات کے نگران بھی رہے ،اس دوران ام القریٰ یونیورسٹی مکہ مکرمہ میں تعلیمی سفر بھی مسلسل جاری رہا۔ ام القراء یونیورسٹی مکہ مکرمہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد 1990ء میں پاکستان تشریف لائے ۔

سعودی عرب میں انہیں فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن بازؒ،فضیلۃ الشیخ عبد اللہ بن حمیدؒ،اور فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین ؒ جیسی بہت ساری عظیم علمی شخصیتوںکی صحبتوں سے اپنے قلب وذہن کو منور کرنے کا موقعہ بھی ملا ۔ انہیں تعلیمی میدان میں اعلی کارکردگی پر ایک تقریب میں گورنر مکہ امیر ماجدبن عبد العزیزکے دست مبارک سے انعام و اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ پاکستان واپسی پر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے اپنے آپ کو تعلیمی اور فلاحی سرگرمیوں کے لئے وقف کر دیا ۔

ڈیرہ غازی خان جیسے علاقے میں لڑکیوں کی دینی و دنیاوی تعلیم کا انتظام کرنا انتہائی مشکل کام تھا جس کا بیٹرہ حافظ عبدالکریم نے اٹھایا ۔ ان کی زیر نگرانی قائم ہونیوالا ادارہ اب گرلز اسلامک یونیورسٹی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے ۔اس کی پرشکوہ عمارت شہر بھر میں نمایاں مقام رکھتی ہے ۔ اس ادارے سے ہزاروں طالبات فارغ التحصیل ہوکر معاشرے میں مثبت تبدیلی کے لئے کوشاں ہیں ۔ دو ہزار کے قریب طالبات اس ادارے میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں جنہیں درس و تدریس ، رہائش ، ٹرانسپورٹ کی مفت سہولیات فراہم کی گئیں ہیں جبکہ ان کو ہنر مند بنانے کے لئے سلائی کڑھائی مرکز اور کمپیوٹر سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ چورہٹہ اور دیگر مقامات پر بھی دختران قوم کے لئے سکولز اور تعلیمی ادارے قائم کئے گئے ہیں ۔حافظ عبدالکریم کی زیر نگرانی لوگوں کو قرآن پاک کی تعلیمات سے بہرہ ور کرنے کے لئے بنائے گئے تین سو سے زائد اداروں میں بارہ ہزار کے قریب طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔

دی ویژن ہائی سکول اور انڈس انٹرنیشنل انسٹیٹوٹ اہل ڈیرہ غازی خان کے لئے حافظ عبدالکریم کے شاندار تحفے ہیں ۔ ان اداروں کی بدولت اہل علاقہ کو پرائمری ایجوکیشن سے لیکر ماسٹرز تک اعلی تعلیم کے مواقع جدید ترین سہولیات کے ساتھ حاصل کرنے کا موقع میسر آیاہے ۔ ڈیرہ غازی خان میں ان اداروں کا قیام جہاں ایک طرف حافظ صاحب کی علم دوستی کا ثبوت ہے تو دوسری جانب اہل علاقہ کے لئے بھی یہ ادارے کسی نعمت سے کم نہیں ۔ حافظ صاحب کا ماننا ہے کہ علاقہ کی محرومی کا واحد حل صرف تعلیم کے میدان میں ترقی سے ہی ممکن ہے ۔

حافظ عبدالکریم کی مرکزی جمعیت اہلحدیث کے لئے خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ پیغام ٹی وی کا قیام ان کی انتھک محنت ، بے پناہ دلچسپی اور خصوصی لگن کی بدولت ہی ممکن ہوا ۔اس کے علاوہ ملک میں زلزلہ اور سیلاب جیسی آفات کے موقعے پر جماعتی سطح پر فلاحی سرگرمیوں کی نگرانی بھی انہوں نے خود کی ۔ حافظ صاحب نے ملتان میں اہلحدیث کانفرنس کے موقعے پر پہلی مرتبہ باقاعدہ جماعتی سرگرمیوں میں شمولیت اختیار کی ۔امیر محترم سینیٹر پروفیسر ساجد میر کی ہدایت پر انہوں نے جماعت کی مضبوطی اور نظم کو فعال بنانے کے لئے بھرپور کردار ادا کیا ۔ انہیں صوبہ پنجاب کا ناظم اعلی منتخب کیا گیا ۔ ریلیف کمیٹی کے چئیرمین رہے ۔ بعدازاںحافظ صاحب کی محنت اور لگن کو دیکھتے ہوئے انہیں مرکزی ناظم اعلی منتخب کر لیا گیا ۔ ان کی زیر نظامت 2008ء میں شاندار اہلحدیث کانفرنس مینار پاکستان میں منعقد ہوئی ۔

حافظ صاحب نے جہاں ایک طرف جماعت کو ملک بھر میں مقبول بنانے کے لئے کام کیا وہیں سعودی عرب اور دیگر ممالک میں بھی مرکزی جمعیت اہلحدیث کو مزید ترقی نصیب ہوئی ۔ 2012ء میں مرکزی شوری کے سیالکوٹ میں ہونیوالے اجلاس میں انہیں ایک بار پھر ناظم اعلی منتخب کر لیا گیا ۔ حافظ صاحب نے جماعتی مصروفیات اور دیگر ذمہ داریوں کے باوجود تعلیمی اور فلاحی میدان میں اپنی خدمات جاری رکھیں ۔ تعلیمی میدان میں شاندارے اداروں کے قیام کے ساتھ ساتھ فلاحی سرگرمیوں میں بھی حافظ عبدالکریم سب سے آگے نظر آتے ہیں ۔ پانی کا حصول اس علاقے کے غریب عوام کا سب سے بنیادی مسئلہ ہے ۔ کئی بار اقتدار کی مسندوں پر براجمان رہنے والوں نے بھی اس مسئلے پر کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔ حافظ صاحب نے اہل ڈیرہ غازی خان کی علمی پیاس بجھانے کے ساتھ ساتھ پانی کی محرومی دور کرنے کے لئے بھی بڑے پیمانے پر کام کیا ۔ ان کی زیر نگرانی اب تک پانچ لاکھ سے زائد نلکے ، ایک لاکھ سے زائد ڈونکی پمپ اور ٹینکیاں ، بارہ سو کے قریب بڑی ٹربائنز لگائی جا چکی ہیں جبکہ پچاس کنویں بھی کھدوائے گئے ہیں ۔ حافظ صاحب کی زیر نگرانی عیدین اور دیگر مواقع پر غریب افراد اور بیوگان کو خصوصی گفٹس دئیے جاتے ہیں ۔ اب تک پچاس ہزار سے زائد سلائی مشینیں بانٹی جاچکی ہیں ۔

ڈیرہ غازی خان پر جب بھی سیلاب یا کسی اور صورت میں کوئی آفت آئی تو حافظ عبدالکریم سب سے پہلے مدد کو پہنچے۔ سیلاب زدگان کو کھانے ، خیموں ، ادویات اور دیگر ضروریات کی فراہمی پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے ۔ حافظ عبدالکریم نے تباہ ہو جانیوالے بستیوں میں دو سو سے زائد مکانات تعمیر کرکے غریب افراد کے حوالے کئے ۔ علاقہ بھر میں قائم کی جانیوالی فری میڈیکل ڈسپنسریوں سے ابتک لاکھوں افراد مستفید ہو چکے ہیں ۔ اسی طرح اہل علاقہ کی دینی تربیت اور عبادت کے لئے پندرہ سو سے زائد مساجد تعمیر کرائی جا چکی ہیں ۔

حا فظ عبدالکریم تعلیمی اور فلاحی میدان میں اپنی خدمات کے حوالے سے کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ اہل علاقہ کو بعض خاندانوں اور وڈیروں کے تسلط سے آزاد کرانے اور ڈیرہ غازی خان کے عوام کی آواز ایوان اقتدار تک پہنچانے کے لئے انہوں نے میدان سیاست میں قدم رکھا ۔ عوام نے تعلیمی اور فلاح و بہبود کے میدان میں اپنی پہچان بنانے والے اپنے محسن کو خوب پذیرائی بخشی ۔ شائد پہلی بار کسی نے قبائلی روایات اور سرداری نظام کی بدولت حکمرانی کرتے طاقتور خاندانوں کی عوامی طاقت سے نیندیں حرام کیں ۔ دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں عوام نے تو ڈاکٹر صاحب کے حق میں فیصلہ سنا دیا لیکن ایک ڈکٹیٹر کی آشیر باد سے عوام کی اس فتح کو تسلیم نہ کیا گیا ۔ نتائج تبدیل کرکے عوام کے مسترد شدہ قبائلی سردار کو کامیاب کرا دیا گیا ۔ ڈاکٹر صاحب اس بار پھر عوام کی عدالت میں پوری شان و شوکت کے ساتھ اترے ۔

ان کا اثاثہ کسی قبائلی سردار سے تعلق یا اہل اقتدار کی آشیرباد نہیں بلکہ وہ اپنی شرافت ، خدمت اور عوامی مقبولیت کے سہارے اہل علاقہ کی نمائندگی کے امیدوار تھے ۔ ۔ اہل ڈیرہ غازی خان اپنے اس محسن کے حق میں فیصلہ سنا دیا ۔ اور نو ہزار سے زائد کی برتری سے انہوں نے لغاری سرداروں کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا ۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ حافظ صاحب کی اس کامیابی کو جماعت اور دینی حلقوں کے لئے مفید بنائے ۔ انہیں ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے جدوجہد کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*