صفحہ اول > ہمارا تعارف

ہمارا تعارف

مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان

مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان الحمدللہ دعوت واصلاح ، تعلیم وتربیت ، علم وتحقیق ، نشرواشاعت،تنظیم واحصائیات اور تعمیرات ورفاہ عامہ جیسے اہم محاذوں پر بھرپورجدوجہد کررہی ہے جس کے مبارک ثمرات ملکی سطح پرمحسوس کیے جارہے ہیں اورخود موقر مجالس عاملہ وشوری مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان نے بھی اپنے حالیہ اجلاسوں میں جمعیت کی ہمہ جہت کارکردگی پراطمینان کااظہار فرمایاہے۔  شعبہ دعوت واصلاح کے تحت ملکی سطح پر دعوتی کانفرنسوں اور جلسوں میں شرکت کا سلسلہ جاری ہے، ملک پاکستان کے تمام شہروں ومضافات کی مساجد میں خطبات جمعہ ودروس کا اہتمام کیاجاتا ہے اور پورے ملک میں دعاۃ ومبلغین دعوتی دورے مسلسل کررہے ہیں ۔ شعبہ تنظیم کے تحت صوبوں میں تنظیمی کنونشنوں کا انعقاد کیا جارہا ہے تاکہ افراد جماعت کے اندر دعوت وتعلیم کے حوالے سے جوش وجذبہ اوربیداری پیدا کی جاسکی۔ اسی طرح شعبہ رفاہ عامہ کے تحت ملک کے مختلف گوشوں میں آفات سماویہ کے موقع پر ریلیف کاکام کیا جاتا ہے اورتمام اہم قومی وملی معاملات میں بھی جمعیت سرگرم رہتی ہی۔یہ ہے مرکزی جمعیت اہل حدیث کی سرگرمیوں کی ایک جھلک جوکہ کثیر سرمایہ کی متقاضی ہیں۔اورجواللہ تعالی کی توفیق اوراحباب ومحسنین جماعت کے تعاون سے جاری ہیں۔ان کے علاوہ دیگرمنصوبے اہل خیرحضرات کے تعاون کے منتظر ہیں۔

جماعت کو جانئیے

قارئین کرام مرکزی جمعیت اہلحدیث الحمداللہ ملک بھر سمیت بیرون ملک حاملین کتاب و سنت کی نمائندہ جماعت ہے ۔ یہ واحد جماعت ہے کہ جس کا ملک کے کونے کونے میں نظم موجود ہے ۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث نام ہے اس وفاق المدارس کا کہ جس کے تحت ملک بھر میں سینکڑوں ادارے قرآن و حدیث کے علوم کی شمع روشن کر رہے ہیں ، مرکزی جمعیت نام ہے ان چھ سو کے قریب ارض پاک کے ہرہرشہر سے نمائندگی کرنیوالے ارکان شوری کا ۔ یہ جماعت وہ ہے کہ جس کے تحت ہر سال سینکڑوں مدارس و مساجد تعمیر کی جاتی ہیں ۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث نام ہے سعودی جامعات میں زیر تعلیم ان طلبہ کا کہ جن کے لئے اس جماعت سے منسلک قائدین اور علمائے کرام کی تصدیق سے حصول علم کے دروازے کھلتے ہیں۔ یہ جماعت نام ہے امام کعبہ کی زیر قیادت قائم اس گورننگ باڈی کا کہ جس کے تحت پیغام ٹی وی اور کتاب و سنت کی دعوت عام کرنے کے لئے منصوبہ جات چلائے جاتے ہیں ۔ مرکزی جمعیت نام ہے برطانیہ ، سعودی عرب ، یونان ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں قائم جماعتوں کا کہ جو رہنمائی اور تعلق مرکز سے حاصل کرتی ہیں ۔ یہ جماعت نام ہے ان حجاج کرام کہ جو سعودی عرب کے شاہی خاندان اور دیگر اداروں کی دعوت پرہرسال فریضہ حج کی سعادت حاصل کرتے ہیں ۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث نام ہے ان عوامی خطباء و مبلغین کا کہ جو ہر روز ملک بھر کے گلی کوچوں ، بازار ، مساجد و مدارس میں دروس اور تقاریر کے ذریعے کتاب و سنت کی صدائیں بلند کرتے ہیں ۔مرکزی جمعیت اہلحدیث نام ہے ان بے سہارا اور محتاجوں کا کہ جو جماعت کی ریلیف سرگرمیوں سے مستفید ہوتے ہیں ۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کی چھتری تلے کسی بھی دینی جماعت کا پہلے موبائل ہسپتال بنایا گیا جو کہ انتہائی کامیابی سے عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہے ۔ یہ جماعت ہے اس ویب اور سوشل میڈیا نیٹ ورک کا کہ جس سے ہر روز ہزاروں کی تعداد میں دنیا بھر میں موجود لوگ مستفید ہو کر کتاب و سنت کی دعوت سے مالا مال ہوتے ہیں ۔ جی ہاں قارئین مرکزی جمعیت اہلحدیث کے معاشرے میں کردار کو کسی تنگ نظری ، تعصب ،غلط فہمی یا اختلاف کی بنا پر انتہائی محدود بنا کر پیش کرنا انصاف کا تقاضہ نہیں ہے ۔ اصلاح کی گنجائش ہر جگہ ہوتی ہے اور یقینا اس جماعت کے کردار و عمل میں بھی کچھ کمی کوتاہی موجود ہو گی لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ جماعت اپنے فرائض سے غافل ہے اور جمود کا شکار ہے ۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث اور اس کی قیادت پر اعتراض ضرور کیجئیے لیکن اس سے پہلے جماعت کی مختلف شعبہ جات میں کارکردگی سے ضرور آگاہی حاصل کریں۔ آئیے ہم ذرا مرکزی جمعیت اہلحدیث کے قائدین کی جانب سے شروع کئے جانیوالے مختلف منصوبہ جات اور جماعت کی مختلف شعبہ جات میں سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

پیغام ٹی وی نیٹ ورک

مرکزی جمعیت اہلحدیث کا حالیہ دور میں اہم ترین کاررنامہ الیکٹرانک میڈیا کے میدان میں قدم رکھنا ہے ۔الحمداللہ آج سے تین سال قبل شروع ہونیوالاپیغام ٹی وی اب دو زبانوں اردو اور پشتو میں نشریات پیش کر رہا ہے ۔ امام کعبہ معالی الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمٰن السدیس حفظہ اللہ اسکے چئیرمین ہیں جبکہ دنیا بھر سے نامور شیخصیات اس کے بورڈآف ڈائریکٹرز میں شامل ہیں ۔آج عوام میں اپنی مقبولیت کے باعث پیغام ٹی وی پاکستان کے معتبر دعوتی و تبلیغی اور صحافتی و سماجی حلقوںکے لئے ایک موئثرپلیٹ فارم بن چکاہے۔ پیغام ٹی وی کے تربیت یافتہ علمائے کرام اور سکالرزکو پیس ٹی وی انڈیا پربھی مدعو کیا گیا ۔ اس وقت پیغام ٹی وی، سیٹلائٹ پرپاکستان سمیت 65 سے زائد ممالک میںاورانٹرنیٹ ،موبائل ایپلی کیشنزپرلائیوسٹریمنگ کے ذریعے دنیا بھر میں دیکھا جارہاہے۔ سوشل میڈیا پر روزانہ وزٹرزکی تعدادایک لاکھ سے زائد جبکہ پیغام ویب سائٹ سے استفادہ کرنے والوں اور روزانہ آن لائن فتوی کے زریعے اپنی اصلاح کرنے والوں کی تعدادبھی لاکھوں میں ہے۔اس کے آئندہ اہداف میں پیغام ٹی وی کو یورپ کے ناظرین تک پہنچانے کے لیے سیٹلائٹ کا حصول اور ایک ایسے ٹی وی کا اجراء ہے جس پر سارا دن آئمہ حرمین کی تلاوت اردو ترجمے کے ساتھ جاری رہے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کی بیدار مغز قیادت نے ہی دور حاضر کی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے پیغام ٹی وی نیٹ ورک کے اجراء کے لئے بھرپورکوشش کی اور اس منصوبے کو انتہائی کامیابی کے ساتھ چلایا جارہاہے ۔ اس کی وجہ سے نہ صرف جماعت کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے بلکہ کتاب وسنت کی دعوت بھی گھر گھر پہنچ رہی ہے۔ 

ویب اینڈ سوشل میڈیا

مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کی مرکزی عاملہ کے اجلاس میں جماعت کی ایک جدید ترین خصوصیات کی حامل ویب سائٹ بنانے اور سوشل میڈیا پر جماعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا فیصلہ ہوا ۔ الحمداللہ آج ناصرف جماعت کی آفیشل ویب سائٹ مکمل طور پر فعال ہے بلکہ سوشل میڈیا پر ماہانہ لاکھوں لوگ خالص کتاب وسنت کی دعوت سے مستفید ہورہے ہیں ۔ اس ویب سائٹ پر جماعتی سرگرمیوں ، قائدین کے بیانات ، ملک بھر میں ہونیوالے جلسوں کی ویڈیوز ، کتب،تصاویر ، احادیث گرافکس اور ہفت روزہ اہلحدیث سمیت مسلکی مواد مہیا کیا گیا ہے ۔ الحمدللہ اس ویب سائٹ اور سوشچ؎؎؎ل میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے دنیا بھر میں موجود حاملین کتاب و سنت کو جوڑنے اور انہیں ایک فعال نیٹ ورک فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے ۔ انشاء اللہ مستقبل میں اس ویب سائٹ پرالگ سے آن لائن فتوی سیکشن اور اہلحدیث فورم کا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے تاکہ دنیا بھر میں موجود مسلکی جذبہ رکھنے والے افراد اس سے مستفید ہو سکیں ۔

جماعتی مقبولیت اوردینی حلقوں کے لئے ایک پلیٹ فارم

مرکزی جمعیت اہلحدیث کے قائدین کی محنتوں ثمر ہی ہے کہ جماعت کو ملک بھر سمیت دنیا بھر کے دینی حلقوں میں بھرپور پزیرائی ملی ہے ۔ میں یہاں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران مرکزی دفتر اور مختلف اداروں کا وزٹ کرنیوالی شخصیات کا ذکر کرنا چاہوں گا تاکہ یہ اندازہ ہو سکے کہ مرکزی جمعیت اہلحدیث اور اس کی قیادت کو کس قدر نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ یہ انتہائی مسرت کی بات ہے کہ مرکزی جمعیت اہلحدیث کی موجود قیادت ایک ایسا مضبوط نیٹ ورک بنانے میں کامیاب رہی ہے جس کی بدولت نہ صرف ملک بھر بلکہ دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات مرکزی دفتر کا وزٹ کرکے اپنے نیک جذبات کا اظہار کر چکی ہیں ۔ وزیر مذہبی امور سعودی عرب ڈاکٹر الشیخ سلیمان اباالخیل، نا ئب وزیر برائے مذہبی امور سعودی عرب ڈاکٹر الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ العمار،وزیر مذہبی امورپاکستان سردارمحمدیوسف، جامعۃ الامام محمد بن سعود کے چانسلر ، سابق سعودی سفیرعبدالعزیزبن ابراہیم الغدیراور ممتاز انڈین مصنف مظہریاسین صدیقی، مرسی مشن انٹرنیشنل کے سربراہ ڈاکٹر توفیق کے علاوہ برطانیہ ، یونان، کویت اور دیگر ممالک کے جماعتی و دینی وفود سمیت ملک بھر کی نامور جماعتی اور غیر جماعتی شخصیات پیغام ٹی وی میں تشریف لا چکی ہیں۔الحمدللہ پیغام ٹی وی اور دعوتی سرگرمیوں کی بدولت مرکزی جمعیت اہلحدیث نے مختلف انداز میں دعوت و تبلیغ سے منسلک افراد اور اداروں کے لئے ایک اجتماعی پلیٹ فارم کی حیثیت حاصل کر لی ہے ۔ملک کی مختلف دینی و سماجی تنظیموں سے منسلک افراد کو پروگرامز میں شرکت کے لئے مدعو کیا جاتا ہے ۔ مرسی مشن انٹرنیشنل ، الہدی انٹرنیشنل ، النور انٹرنیشنل ، یوتھ کلب ، لائیو دین، اور دیگر کئی اداروں اور تنظیموں کے عہدیداران اور افراد کو پیغام ٹی وی کے پروگرامز میں شمولیت کا موقعہ دیا گیا ہے۔اس کا مقصد جماعت کو معاشرے کے تمام طبقات میں مقبول بنانا اور معاشرے میں دینی حلقوں کا ایک مثبت تاثر پیش کرنا ہے۔

عرب اور بیرون دنیا سے تعلقات

بعض حلقوں کی جانب سے جماعت کے عرب دنیا سے تعلقات کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جاتے ہیں ۔ ان کیا خیال ہے کہ ایک ’’ سنہری دور ‘‘ کے بعد اب جماعت عرب دنیا میں اپنا اثرو رسوخ مکمل طور پر کھو چکی ہے ۔ میرا خیال ہے کہ یہ افراد جماعتی سرگرمیوں سے لاعلم ہیں جس وجہ سے انہیں حالات کا ٹھیک سے ادراک نہیں ہے ۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے عرب شخصیات ، حکومتی اداروں ،دینی تنظیموں اور دیگر ممالک میں تعلقات انتہائی حوصلہ افزاء ہیں۔امام کعبہ نے امیرمحترم سینیٹرساجدمیراور ناظم اعلی ڈاکٹرحافظ عبدالکریم کی دعوت پر بخوشی پیغام ٹی وی کی چئیرمین شپ قبول کی جو کہ دنیا بھر میں کسی بھی واحد ٹی وی چینل کا منفرد اعزاز ہے ۔ ان کی میزبانی میں حرمین الشریفین کے آڈیوٹوریم ابتک تین تقاریب منعقد ہو چکی ہیں جن میں انہوں نے کھل کر جماعت ،قائدین اور پیغام ٹی وی سے اپنی محبت کا اظہار کیا ۔ اسی طرح عرب کے نامور علمائے کرام اور شخصیات پیغام ٹی وی کے ساتھ منسلک ہیں ۔ امیر محترم کو رابطہ عالم اسلامی میں خصوصی اعزاز سے نوازا گیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل نائب امیر مرکزیہ الشیخ علی محمد ابو تراب کی زیر قیادت ایک اعلی سطحی جماعتی وفد مفتی اعظم سعودی عرب ، وزیر مذہبی امور اور دیگر اعلی ترین حکام سے ملاقاتیں کر چکا ہے ۔ الشیخ علی محمد ابو تراب کو دنیا بھر کی اسلامی رفاعی تنظیموں کے اتحاد کا نائب صدر منتخب کیا گیا ہے۔ اسی طرح پیغام ٹی وی کو واحد اردو چینل کے طور پر رابطۃ العلام تنظیم کی ممبر شپ بھی دی گئی ہے جس کے تحت ترکی ، مصر ، سوڈان اور سعودی عرب میں ہونیوالے اجلاسوں میں ناظم اعلی مرکزیہ ڈاکٹر حافظ عبدالکریم ، الشیخ علی محمد ابوتراب اور دیگر رہنما شرکت کرچکے ہیں ۔

سرکاری اداروں میں نمائندگی

ملک بھر میں مختلف سرکاری اداروں اور ہر اس فورم پر کہ جہاں مسلک اور جماعتی نمائندگی کی ضرورت پیش آتی ہے تو مرکزی جمعیت اہلحدیث ہی اپنا فریضہ سمجھ کر اس ضرورت کو پورا کرتی ہے ۔اسلامی نظریاتی کونسل کی ممبر شپ ایک اہم ترین اعزاز ہے جو کہ نائب امیر مرکزیہ کے پاس موجود ہے ۔ صوبہ پنجاب میں بین المسالک ہم آہنگی کمیٹیوں ، امن کمیٹیوں ، وزیر اعلی کی خصوصی مشاورت اور دیگر اہم عہدوں اور نامزدگیوںپر مرکزی جمعیت اہلحدیث کے نمائندگان موجود ہیں ۔مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی ممبر شپ کے علاوہ پنجاب میں صوبائی بیت المال کے چئیرمین کا عہدہ بھی مرکزی جمعیت اہلحدیث کی سفارش پر محترم ملک سلمان کودیا گیا ہے ۔ اسی طرح مرکزی جمعیت اہلحدیث کو ہی وفاق اور صوبائی سطح پر مسلک اور دیگر مذہبی امور پرمشاورت اور نمائندگی کا موقع دیا جاتا ہے ۔ دراصل یہ سب ملک کے اندر اپنے وجود کا احساس دلانے اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کا ایک اظہار ہوتا ہے ۔اس سے مسلک اہلحدیث کے بارے میں نہ صرف اچھا تاثر پیدا ہوتا ہے بلکہ انتظامی اور حکومتی امور سے بھی آگاہی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ تمام اضلاع میں بھی امن کمیٹیوں اور بین المسالک ہم آہنگی کے حوالے سے بنائے جانیوالی کمیٹیوں میں بھی مرکزی جمعیت اہلحدیث کے مقامی عہدیداران موجود ہوتے ہیں ۔

وفاق المدارس کا انتظام اور تعمیر مساجد

مرکزی جمعیت اہلحدیث کی قیادت تعلیمی ، تبلیغی و دعوتی سرگرمیوں سے پوری طرح آگاہ ہے ۔الحمداللہ جماعت کے تحت وفاق المدارس کا نظام انتہائی احسن طریقے سے چل رہا ہے ۔ امتحانات ، ڈگری ایشو کرنے اور نصاب کے حوالے سے کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔ وفاق المدارس السلفیہ کے تحت ملک بھر میں نہ صرف اداروں کی تعداد بڑھی ہے بلکہ طلبہ میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے ۔ اسی طرح نئے مدارس و مساجد کی تعمیر کے حوالے سے بھی امیرمحترم سینیٹر ساجد میر ، ناظم اعلی ڈاکٹر حافظ عبدالکریم اور اس شعبہ کے سربراہ محترم شریف چنگوانی کی کاوشیں قابل قدر ہیں ۔ دو سال پہلے تک کے اعدادوشمار کے مطابق صرف حافظ عبدالکریم صاحب 1500 مساجد تعمیر کرا چکے ہیں ، ان کی زیر نگرانی 300 حفظ القرآن و درس نظامی کے اداروںمیں 12000 سے زائد طلبہ و طالبات تعلیم و تربیت میں مصروف ہیں ۔ یہ صرف ایک شخص کی کارکردگی ہے دیگر اداروں اور افراد کی جانب سے بھی ہزاروں کی تعداد میں مساجد و مدارس تعمیر کئے گئے ہیں اور انتہائی احسن طریقے سے چل بھی رہے ہیں ۔

رفاحی و دعوتی سرگرمیاں

مرکزی جمعیت اہلحدیث کی جانب سے دکھی انسانیت کی خدمت پر بھی بھرپور توجہ دی جاتی ہے ۔ زلزلے ، سیلاب اور ملک بھر میں موجود غریب و مسکین افراد کی امداد کا خصوصی انتظام کیا جاتا ہے ۔حالیہ سیلاب کے دوران جماعت کے تحت لاکھوں روپے کی رقم اور امدادی سامان تقسیم کیا گیا۔اس کے علاوہ ضلعی اور شہری جماعتوں نے بھی اپنے طور پر پریشان حال لوگوں کی مدد کی ۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے تحت مستقل رفاحی کاموں کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔صرف ڈاکٹرحافظ عبدالکریم کی جانب سے ایسے علاقے کہ جہاں پانی کی سہولت میسر نہیں وہاں ایک لاکھ نلکے اور دیگر واٹر پراجیکٹس لگائے گئے ہیں ۔ اسی طرح آفت زدہ لوگوں کے لئے دو سو کے قریب تیار گھر بھی تقسیم کئے گئے۔ جماعت سے ہی منسلک دیگر اداروں اور افراد کی کارکردگی اس کے علاوہ ہے۔ اہلحدیث یوتھ فورس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے’’ ساجد میر موبائل ہسپتال‘‘ بنا رکھا ہے جو کہ تھر جیسے دور دراز علاقوں میں بھی جا کر لوگوں کو طبی امداد فراہم کرتا ہے۔ یہ سب رفاحی سرگرمیاں جماعتی قائدین کی زیر نگرانی سرانجام پاتی ہیں۔ اسی طرح سال کا شائد ہی کوئی دن ہو کہ جس دن مرکزی جمعیت اہلحدیث کی ضلعی ، شہری یا مقامی جماعتوں کی جانب سے کوئی نہ کوئی جلسہ،درس یا تقریب نہ منعقد کی جاتی ہو۔ یہ سب کی سب سرگرمیاں مسلکی دعوت کا اظہار ہیں ۔الحمداللہ ملک بھر کے جید علمائے کرام اور سکالرز مرکزی جمعیت کے ساتھ منسلک ہیں جو کہ لوگوں کو کتاب و سنت کی سچی تعلیمات سے مستفیدفرماتے ہیں ۔ جماعت کی جانب سے مدارس کے طلبہ میں تحریر وتقریر کا شوق ابھارنے کے لئے مقابلے کرائے جاتے ہیں ۔

سیاست اور پارلیمنٹ میں نمائندگی

مرکزی جمعیت اہلحدیث بنیادی طور پر ایک دعوتی اور تبلیغی اورمسلک کی نمائندہ جماعت ہے لیکن اس کے ساتھ ملکی معاملات اور سیاسی حوالے سے بھی سرگرم ہے۔ ملکی سیاست میں حصہ لینا اور پارلیمنٹ میں نمائندگی کا واحد مقصد مسلک کی ترویج ہوتا ہے۔ یہ مرکزی جمعیت اہلحدیث کی کبھی بھی مجبوری نہیں رہی بلکہ ہر موقعے پر انتہائی باوقار انداز میں اپنا موقف پیش کیا گیا ۔ امیر محترم کو مسلسل چار بار ایوان بالا کا ممبر بننے کا اعزاز حاصل ہے جبکہ ناظم اعلی ڈاکٹرحافظ عبدالکریم ممبر قومی اسمبلی ہیں ۔ اس کے علاوہ جماعتی سفارش پر بھی کئی افراد کو ٹکٹ جاری کئے جاتے ہیں جن میں سے کچھ تو منتخب ہو کر پارلیمنٹ تک بھی پہنچے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ملک کے مخصوص سیاسی حالات کے باعث کوئی بھی دینی جماعت تنہا کچھ زیادہ موثر ثابت نہیں ہو سکتی ۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کا ایک بڑی سیاسی پارٹی سے اتحاد محض بہت سی دیگر جماعتوں کے کردار و عمل کو چانچنے کے بعد کچھ بہتر افراد کا چناو ہی قرار دیا جا سکتا ہے ۔ قائدین بار ہا اس بات اظہار کر چکے ہیں کہ سیاسی میدان میں کسی کے ساتھ رہنا ہماری مجبوری نہیں جبکہ کبھی بھی کسی عہدے یا ٹکٹ کے لئے دیگر افراد و جماعتوں کی طرح ’’ بھیک ‘‘ نہیں مانگی گئی ۔ الحمداللہ مرکزی جمعیت کا دامن دیگر سیاسی جماعتوں جن میں بعض دینی جماعتں بھی شامل ہیں ، ان کی طرح کسی کرپشن یا بدعنوانی کے الزام سے داغدار نہیں ہے ۔ حتی کہ ایک سیکولرآمر جنرل کے خلاف واحد ووٹ کا اعزازبھی اگر کسی کے حصے میں آیا تو وہ شخصیت امیرمحترم سینیٹر ساجد میر کی تھی ۔ سیاست میں حصہ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے ملک میں معاشرتی ،دینی و تبلیغی کردار کا صرف ایک پہلو ہے اور اسے کبھی بھی دعوت و تبلیغ اور مسلکی حوالے سے مجبوری نہیں بننے دیا گیا ۔ اس کو صرف اور صرف جماعت کے لئے جائز فوائد اور نمائندگی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ ملک بھر میں موجود جماعتی کارکنان اور منسلک افراد کے بے پناہ سرکاری و انتظامی مسائل امیر محترم و ناظم الحمداللہ حکومتی اداروں و عہدیدران سے حل کراتے ہیں ۔ قائدین کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کے باعث ہی حکومت اور دیگر اداروں کے ساتھ معاملات کرنے میں آسانی رہتی ہے ۔

مرکزی جمعیت اہلحدیث کی ان سرگرمیوں کا مختصر احوال بیان کرنے کا مقصدصرف اور صرف یہ ہے کہ کارکنان کو جماعت کی سرگرمیوں سے آگاہ ہونا چاہیے ۔اس تحریر کا مقصد اعدادوشمار دینا نہیں ہے صرف چند پہلووں پر روشنی ڈالنا ہے کہ جس سے جماعتی کارکردگی اور قائدین کی کاوشوں سے آگاہی ہو سکے۔ جماعت کے بارے میں بہت سے افراد کی غلط فہمیوں کی ایک بڑی وجہ ان کی لاعلمی بھی ہے ۔ وہ بعض وجوہات یا اپنی مصروفیات کے باعث جماعتی سرگرمیوں سے آگاہی نہیں رکھتے ۔ ایسے میں بعض لوگوں کو یہ پروپیگنڈاکرنے کا بھی موقع مل جاتا ہے کہ جماعت تو جیسے جمود کا شکار ہے ۔ کارکنان کو چاہیے کہ جماعت اور قائدین کی سرگرمیوں کے متعلق بھرپور معلومات رکھیں تاکہ وہ کسی بھی مزموم پروپیگنڈے کا بھرپور جواب بھی دے سکیں ۔

تصویر ایک دوسرا رخ

اس اہم موقعے پر جماعت کے حوالے سے پیدا کی جانیوالی غلط فہمیوں ، اشکالات ،الزامات اور اس صورتحال کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے کہ جس کے باعث مرکزی جمعیت اہلحدیث اور قائدین بعض گروہوں کی جانب سے مسلسل تنقید کی زد میں رہتے ہیں۔ اس کی بہت سے وجوہات ہیں اور چند گھسے پٹے الزامات اور غلط فہمیاں ہیں جن پر ذرا کھل کر بات ہونی چاہیے۔اسے کے ساتھ ساتھ ان افراد اور گروہوں کو بھی آئینہ دیکھانے کی ضرورت ہے کہ جو مرکزی جمعیت اہلحدیث کی کارکردگی پر بھرپور تنقید بھی کرتے ہیں ، قائدین پر الزامات بھی لگاتے ہیں لیکن خود اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کرتے ۔ان کو بتانے کی ضرورت ہے کہ اپنے تحفظات کے اظہار اور جماعتی کارکردگی سے خوش نہ دیکھائی دینے کے ساتھ ساتھ خود انہیں کس نے کارکردگی دیکھانے سے روک رکھا ہے ۔وہ بھی تو اپنی کارکردگی ، مسلکی خدمات اور عوامی مقبولیت کو میدان میں لیکر آئیں ۔ خود ان لوگوں نے گزشتہ کئی سالوں سے کیا کیا کاررنامے سرانجام دئیے ہیں ذرا ان کے بارے میں بھی بات ہو جائے۔ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ کچھ احباب خاندانی انا یا بعض دوسری وجوہات کی بنا پر جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کرتے ، انہیں ملک میں دینی جماعت چلانے اور معاشرے میں اسے مقبول بنانے کا ہرگز کوئی تجربہ نہیں ہے لیکن وہ جو لوگ جماعت کے ساتھ کام کر رہے ہیں ان پر تنقیدکا کوئی بھی چھوٹے سے چھوٹا موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ۔ ملک کے مخصوص حالات اور حکومتی و سکیورٹی اداروں کی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ ملکی معاملات میں بعض مغربی طاقتوں کے اثر و رسوخ کے باعث دینی جماعتوں کا کام کچھ اتنا آسان بھی نہیں ہے ۔انہیں ہر ہر موقعے پر طرح طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ہمارے یہ دوست ان حالات کا ذرا برابر بھی ادراک نہیں رکھتے بس اپنے خیالات عالیہ سے عوام میں پروپیگنڈا کرنا ہی اپنی اولین ڈیوٹی سمجھتے ہیں ۔ بعض لوگ تو نہ صرف خود جماعت کو ہدف تنقید بناتے ہیں بلکہ اپنے یار دوست صحافیوں کی مدد سے بھی آئے روز کوئی نہ کوئی ایسا شوشا ضرور چھوڑتے رہتے ہیں کہ جس سے نہ صرف مسلک بلکہ جماعت کو بھی سبکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

حالیہ سینٹ الیکشن جیتنے کے بعد جہاں ایک طرف مبارکبادیں آنے لگیں وہیں کچھ حلقوں کی جانب سے ایک بار پھر ’’ سینٹ کی صرف ایک سیٹ‘‘ اور جماعت نے کیا کیا ہے؟ نیز نواز شریف کی غلامی اور جماعت کو گروی رکھنے جیسی باتیںبھی سامنے آئیں.میرا خیال ہے کہ یہ سب سے اہم موقع ہے کہ ہم اس حوالے سے بات کریں کیونکہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ یہ چند افراد پر مشتمل گروہ نہ تو جماعت میں شمولیت اختیار کرتے ہیں .اپنی الگ شناخت کا دعوی کرتے ہیں لیکن اپنی نااہلیوں.. علمائے کرام . احباب جماعت اور کارکنان کی جانب سے مسترد ہونے کا غصہ ان گھسے پٹے الزامات کو لگا کر نکالتے ہیں. 

نمائندگی کا دعوی لیکن ذمہ داریوں سے فرار

قارئین کرام میں آپ کے سامنے ایک مقدمہ رکھنا چاہتا ہوں . فیصلہ آپ کے اپنے اختیار میں دیتا ہوں. جب بھی مسلک اہلحدیث کی نمائندگی کی بات ہو تو بہت سے گروہ اور افراد اپنا اپنا جھنڈا اور لیٹر پیڈ لہراتے پائے جاتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ جب معاشرے میں مسلک کی ترویج اور دعوت و تبلیغ کے فریضے کو ادا کرنے کی ذمہ داری کا تذکرہ ہو تو الزام صرف اور صرف پروفیسر ساجد میر اور مرکزی جمعیت پر لگتا ہے؟؟. سوال یہ بھی ہے کہ اگر مرکزی جمعیت کی.جانب سے معاشرے میں دعوت و تبلیغ اور اثرو رسوخ بڑھانے کے حوالے سے کوئی کمی کوتاہی رہ گئی ہے تو دن رات مخالفت کا راگ الاپنے والے مسلک کی نمائندگی کے ان دعویداروں کو کس نے روک رکھا ہے. وہ معاشرے میں کتاب و سنت کی تعلیمات نافذ کرنے کے لئے اپنا کردار کیوں ادا نہیں کر رہے. سینٹ کی ایک سیٹ کے لئے جماعت کو گروی رکھنے اور آستانہ رائیونڈ پر جھکانے کے الزامات لگانے کو چاہیے کہ ذرا اپنی کارکردگی بھی تو بتائیں. دس بارہ سال سے یہ ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس عرصے میں وہ شخصیات کیا ملک بھر میں اپنا جماعتی نظم بنا پائی ہیں. ملک تو دور کی بات کیا صرف کسی ایک صوبے میں ان کا سیٹ اپ موجود ہے صوبہ بھی بڑی بات کیا وہ کسی ایک شہر میں اپنی بھرپور نمائندگی کو ثابت کر سکتے ہیں حتی کہ اپنے اپنے مخصوص ایک ایک مدرسہ کے علاوہ کوئی ایک بھی دوسرا ادارہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں.

سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا ملک بھر میں موجود علمائے کرام میں سے صرف چند کو ہی اپنا ہم خیال بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں یا اگر کوئی کسی وجہ سے ساتھ آ بھی گیا تھا تو اسے بھی دور کر دیا گیا ہے. جناب عالی کوئی تقریر کے لئے بلائے یا پھر مخصوص لوگوں کی نجی محفلوں میں الزامات لگانا تو بہت آسان سا کام ہے لیکن کارکردگی کو ثابت کرنا زرا مشکل ہوتا ہے. یہ کتنا عجیب سا لگتا ہے کہ آپ نمائندگی کے دعویدار تو دھڑلے سے ہوں لیکن ذمہ داریوں سے منہ چھپائیں. ایسے میں صرف انا پرستی اور خاندانی تعلق کی بنا پر متاثر کرنے کے دعوے کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے. یہ خواہش رکھنا کہ کیونکہ میرا تعلق فلاں شخصیت کے خاندان سے ہے اس لئے قیادت کا حق بھی میرا ہی ہے جبکہ معاشرے میں محنت کرتے اور جماعت کی مضبوطی اور اتحاد و اتفاق کے لئے کردار ادا کرنیوالوں ، ملک بھر میں مساجد و مدارس کا جال پھیلا دینے والوں اور بیرون ممالک میں تعلقات بنا کو جماعت کے لئے مفید بنانے والوں کی کوئی بھی حیثیت نہیں ہے ۔

محنت، مقبولیت یا خاندانی تعلق

کیا کوئی امیر محترم سینیٹر ساجد میر کے بچوں کے نام بتا سکتا ہے؟ . میرا دعوی ہے کہ بہت سے اہم جماعتی عہدیداران بھی نام تک سے بھی واقف نہیں ہوں گے۔ کہاں ان کو اپنی سیاسی و جماعتی مسند کے لیے تیار کرنا . ناظم اعلی ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کے خاندان کے پاس اس سے پہلے کونسا عہدہ تھا؟ . پنجاب و بلوچستان کے امرا ء نے کس خاندانی تعلق کی بنا پر یہ عہدے حاصل کئے؟ یہ سب سوالات ہیں کہ جن کے جوابات ضرور پتہ کرنا چاہیے. حاملین کتاب و سنت کو تو خوش ہونا چاہیے کہ ان کی نمائندہ جماعت کی بنیاد ایسی بنائی جا رہی ہے کہ جس میں خاندان کی بجائے ذاتی جدوجہد . محنت قربانیاں اور مقبولیت اہمیت رکھتی ہے. یہی تو کسی بھی جماعت کا حسن ہوتا ہے اور یہی اسلاف کی روایت رہی ہے۔ کیونکہ اگر ماضی ایسا طرز عمل اپنایا گیا ہوتا کہ قیادت کو خاندانوں تک محدود کر دیا جاتا تو غزنوی خاندان اور مولانا اسماعیل سلفی اور امرتسری خاندان کا کیا کم حق بنتا تھا. ہمارے آئیڈیل علامہ احسان الہی ظہیر شہید نے بھی تو ذاتی انتھک محنت . جرات و بہادری اور قربانیوں سے جماعت میں مقام بنایا تھا ۔ ان کی لازوال قربانیوں اور خلوص کے سامنے کسی خاندان کے کسی دعوے اور حق کو پذیرائی نہ مل سکی .تو جناب جو اصول اس وقت لاگو ہوا اسے بعدازاں کیوں جھٹلایا جا رہا ہے. کسی خاندان سے تعلق اور وراثت کا دعوی کرکے الگ گروہ بنا لینا تو بہت ہی آسان سا کام ہے . مشکل تو یہ ہے کہ بھری جماعت میں اپنی صلاحیت . مقبولیت اور قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا جائے. یہی ہمارے اسلاف کی روایت رہی ہے جماعت سے دور ہو کر دعویدار بننا یا ہمدردی اور اپنے بزرگوں سے لوگوں کی محبت و عقیدت کو کیش کرانے کی کوششیں کرنا کچھ زیادہ قابل تعریف کاررنامہ تو نہیں ہے.اور ویسے بھی اگر کوئی ایسا اصول بنا لیا جائے تو یہ جماعت کے لئے تباہ کن ثابت ہو گا کیونکہ پھر کوئی بھی قابل اعتماد طریقے سے محنت نہیں کرے گا کوئی کارکن قربانی نہیں دے گا کیونکہ یہ بات عام ہو گی کہ یہاں قیادت صرف خاندانی بنیاد پر منتقل ہوتی ہے. 

قصہ ایک سینٹ سیٹ کا

کچھ لوگوں کا جماعت پر سب سے بڑا اعتراض یہ بھی ہے کہ انہیں امیر محترم کے بار بار سینیٹر منتخب ہونے پرشدید تحفظات ہیں ۔ ان میں سے کئی ایک کا مسئلہ تو صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ خود سینیٹر نہیں بن پائے حالانکہ انہوں نے ایک آمر کے زیر سایہ بننے والی کٹھ پتلی حکومت میں بھرپور کوشش بھی کی تھی اور تو اور وہ اسی مقصد کے لئے ’’ قاتل نواز شریف ‘‘ سے خفیہ ملاقاتیں بھی کرتے رہے ۔ میرا خیال ہے کہ اگر ماضی کے ان واقعات کا تذکرہ چھیڑا جائے کہ یہ سیٹ کس کے لئے دی گئی تھی اور نوازشریف کے پروفیسر ساجد میر کے انتخاب پر کس قدر تحفظات تھے تو بات ذرا لمبی ہو جائے گی ۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ پروفیسر ساجد میر نے اس بار منتخب ہونے کے بعد واضح الفاظ میں کہا کہ نہ تو کبھی سینٹ سیٹ کا مطالبہ کیا گیا اور نہ ہی اسے کبھی مسلکی و جماعتی مفاد کی راہ میں رکاوٹ بنایا گیا ۔ ملک کے ایوان بالامیں نمائندگی ہونا جماعت کے لئے مفید ثابت ہوتا ہے اور صرف یہی وجہ ہے کہ جماعت کے امیر کے طور پر پروفیسر ساجد میر شوری و عاملہ کی مشاورت سے ہی اسے قبول کرتے ہیں ۔ یہ جماعت کی سیاسی سرگرمیوں کا ایک پہلو ہے نہ کہ جماعت کا مکمل تعارف ۔۔ جیسا کہ بعض احباب کرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ 

سیاسی اتحاد کے حوالے سے غلط فہمیاں اور اشکالات

مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سیاسی اتحاد کے حوالے سے بھی بعض حلقوں کی جانب سے شدید ترین پروپیگنڈا کیا جاتا ہے ۔ اس معاملے کی ایک صورت تو یہ بات سمجھنا ہے کہ ایک دینی سیاسی جماعت کے طور پر کیا مرکزی جمعیت کو اتحاد کرنا بھی چاہیے کہ نہیں اور اگر کرنا چاہیے تو ایک ایسی جماعت جسکی زیادہ تر طاقت صوبہ پنجاب میں ہو تو اسے کس جماعت کے قریب ہونا چاہیے ؟؟ یہ ایک اہم ترین سوال ہے کہ جماعت کی موجودگی اور اس کے کارکنان اور ان سے متعلقہ انتظامی وسرکاری ضروریات زیادہ تر پنجاب کے متعلق ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اتحاد کرتے وقت متعلقہ جماعت کے رہنماوں کے نظریہ پاکستان، دوست ممالک اور دینی حلقوں کے متعلق کردار و خیالات کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کی قیادت ان سب امور پر گہرے غور و حوض کے بعد ہی مرکزی عاملہ و شوری کی مشاورت و تصدیق سے مسلم لیگ نواز کے ساتھ اتحاد کرتی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود اس اتحاد کو دینی حلقوں پر کبھی بھی ترجیح نہیں دی گئی کیونکہ مجلس عمل کے دور میں اس کا بھرپور ساتھ دیا گیا۔

اس معاملے کو سجھنے کی ایک دوسرے صورت یہ بھی ہے کہ کیا واقعی مسلم لیگ نواز کے ساتھ اتحاد مسلکی دعوت کے پھیلاو اور جماعتی کارکردگی پر اثر انداز ہوا ہے ۔ ہم چند سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث بنیادی طور پر ایک دعوتی اور تبلیغی جماعت ہے جس کامقصد قرآن و حدیث کی تعلیمات کو معاشرے میں عام کرنا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اس اتحاد کے باعث کیا یہ بنیادی کام متاثر ہوا ہے ؟ کیا نواز لیگ کی قیادت مسلکی نظریات کو بدلنے کا مطالبہ کرتی ہے ؟ کیا کبھی مسلم لیگ کی جانب سے مدارس کا نصاب بدلنے کی بات ہوئی ہے ؟کیا جماعتی جلسے جلوسوں کے انعقاد کی فیصلہ سازی نواز لیگ نے اپنے ہاتھ میں لے رکھی ہے ؟ کیا اہلحدیث مساجد و مدارس کی تعمیر و توسیع کے لئے مسلم لیگ کی اجازت لی جاتی ہے ؟ کیا مرکزی عاملہ و شوری کے اجلاسوں میں نواز لیگ کے نمائندے موجود ہوتے ہیں کہ جو فیصلوں پر اثر انداز ہوں ؟ کیا مسلکی کتب و تقاریر کی اشاعت کو روکنے کے احکامات ملے ہیں ؟ کیا مرکزی قائدین اپنے کارکنان و احباب جماعت سے ملنے کے لئے شریف برادران کی اجازت کے پابند ہیں ؟ کیا جماعتی عہدے نواز لیگ کی مشاورت سے نامزد کئے جاتے ہیں ؟ ایسے ہی کئی سوالات ہیں کہ جن کے جوابات تلاش کرنے سے ہی ہم اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بعض حلقوں کی جانب سے اس حوالے سے اعتراضات اور من گھڑت پروپیگنڈے کی کیا حیثیت ہے ؟ 

میرا خیال ہے کہ جماعتی معاملات سے معمولی سی آگاہی رکھنے والا کوئی بھی فرد اس بات کی گواہی دے سکتا ہے کہ سیاسی اتحاد جماعت کے معاشرتی کردار کا صرف ایک پہلو ہے جسے صرف اور صرف جماعتی احباب کے مسائل کے حل ، ملکی اور انتظامی معاملات میں نمائندگی اور جماعتی عزت و وقار میں اضافے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے نہ کہ ان گھسے پٹے جملوں میں کوئی جان ہے کہ اس کی وجہ سے جماعت کو گروی رکھ دیا گیا ہے یا کچھ بھی نقصان ہوا ہے ۔

پرجوش و جذباتی سرگرمیوں کا مطالبہ اور حقائق

سوشل میڈیا پر اور بعض محفلوں میں ایسے پرجوش اورجذباتی نوجوان اپنے خیالات کا اظہار کرتے پائے جاتے ہیں جن کا مطالبہ ہوتا ہے کہ جماعتی سرگرمیوں کا پرجوش انداز ، ہلچل مچا دینے والے جلسے جلوسوں اور دھوم دھام سے نکلنے والی ریلیوں سے اظہارکیا جائے ۔ یہ نوجوان طبقہ زیادہ تر علامہ شہید کی تقاریر اور اس دور میں چلنے والی تحریک سے متاثر نظر آتا ہے ۔ ان کا بڑا مطالبہ یہی ہے کہ جماعت کو ایک بار پھر جذباتی نعروں والے پرجوش جلسے جلوسوں کی صورت میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ ان نوجوانوں اور جواں دل احباب کے جذبات اپنی جگہ لیکن شاید ان کو ملکی حالات اور زمینی حقائق کا کچھ زیادہ اندازہ نہیں ہے۔ ایک مخصوصی تحریک کے دوران ایسی جذباتیت کا اظہار ہو جاتا ہے لیکن آخر کار کسی بھی جماعت کو سنجیدگی ، نظم کے قیام اور باقاعدہ ورکنگ کی طرف آنا ہوتا ہے ۔ کوئی بھی جماعت پرجوش دور کی بجائے سنجیدہ اور مکمل ترتیب شدہ عوامل سے ہی ترقی کرتی ہے ۔ دراصل آپ اس ملک میں اکیلے نہیں بستے۔ ،یہاں مختلف نظریات و خیالات کے حامل طبقات موجود ہیں جو کہ ملکی معاملات میں اپنا اثر و رسوخ بھی رکھتے ہیں ۔ کسی بھی جماعت کی جانب سے جذباتیت کا اظہار اس کو کچھ فائدہ دے یا نہ دے لیکن بہت سے حلقوں میں منفی تاثر کا باعث ضرور بنتا ہے ۔ پھر اس جماعت کے خلاف بہت سے ادارے اور گروہ سرگرم ہو جاتے ہیں ۔ اگر ہم غور کریں تو اب ملک میں ایسا ماحول نہیں ہے کہ جذباتیت کو فروغ دیا جائے ۔اس کا نقصان بہت سی جماعتیں اٹھا چکی ہیں ۔یہاں تک کہ نعروں اور ترانوں کے ذریعے امریکہ و بھارت کو للکارنے والے بہت سے گروہ اب زلزلہ و سیلاب میں کھانے پکا کر اور دکھی انسانیت کی خدمت کرتے نظر آتے ہیں ۔ عسکریت اور جذباتیت کی بنیاد پر دفاع صحابہ کا علم بلند کرنیوالے یا تو بھٹک کر ملک دشمنوں کے ہاتھوںمیں کھیل رہے ہیں اور یا ملکی دفاعی و سکیورٹی اداروں کے زیر عتاب ہیں ۔ اس معاملے پر مرکزی جمعیت اہلحدیث کی محتاط پالیسی کی ٹھوس وجوہات ہیں جن کو سمجھنے کے لئے ملکی نظام ، دفاعی و سکیورٹی اداروں کا طرز عمل اور ملکی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کی سائنس پرغور کرنے کی ضرورت ہے۔

جماعت کے ہمقدم چلیں

آخر میں معززقارئین سے صرف اتنی گزارش ہے کہ آئیے ہم لاتعلقی، منفی رویے ، اشکالات واعتراضات کی روش اپنانے کی بجائے کتاب وسنت کی دعوت کو پھیلانے کے لئے ایک ایسی جماعت کا بھرپور ساتھ دیں کہ جس نے دعوت و تبلیغ کے میدان میں اسلاف کی درخشندہ روایات کو زندہ رکھا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ جدید ترین ذرائع اور سہولیات کو بھی بھرپور طریقے سے استعمال کیا ہے۔ یہ ہم سب کے لئے ایک بنا بنایا پلیٹ فارم ہے کہ جس کو ہمہ وقت باصلاحیت و پرخلوص کارکنان کی ضرورت رہتی ہے ۔ جماعت کے دروازے کسی کے لئے بند نہیں اور ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ جن میں بہت سے مخلص کارکنان کسی بھی خاندانی تعلق کے بغیر محض ذاتی کارکردگی اور قربانیوں کے باعث اہم ترین عہدوں پرپہنچے اور معاشرتی اصلاح میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ جماعت سے باہر رہ کر اعتراضات کرنے ، معاشرے میں قرآن و حدیث کی دعوت کے فروغ کی تمنا ہونا اور بعض ’’ہمہ وقت کے باغیوں ‘‘ اور معترضین کے پروپیگنڈے کا شکاربننے سے بہتر ہے کہ جماعت کا بھرپور ساتھ دیں ۔ اس میں اپنے لئے ایک کردار متعین کریں اور پھر پھرپور طریقے سے یہ

کام کرکے بھی دیکھائیں ۔ یہ جماعت کسی خاندان کی میراث یا کسی خاص شخصیت سے منسلک نہیں بلکہ یہ دنیا بھر کے حاملین کتاب وسنت کی نمائندگی کرتی ہے ۔فیصلہ آپ کوکرنا ہے کہ خود آپ کے اندر کیا جذبات ہیں، کتنا خلوص موجود ہے اور اس کے اظہار کا کس قدرحوصلہ ہے۔ اگر کسی کو کوئی شخصیت پسند نہیں یا کسی وجہ سے کوئی عہدہ نہیں مل سکا تو اس میں جماعت کا کوئی قصور نہیں ۔ ہمیں تو رضائے الہی کے لئے اس دینی کام کوسرانجام دینا ہے ۔صلہ تو ذات باری تعالی سے لینا ہے ۔ آخرمیں ایک بار پھر امیر محترم سینیٹر پروفیسر ساجد میر کو ان کی کامیابی پر مبارکباد اور ناظم اعلی ڈاکٹر حافظ عبدالکریم کو جماعت و مسلک کے لئے ان کی خدمات پر خراج تحسین کیونکہ اگر ہم اپنے بڑوں کا ادب نہ سیکھ پائیں تو معاشرے کی اصلاح کے بلند خیالات اور داعی کتاب و سنت کے دعووں کی کیا حیثیت۔اللہ تعالی جماعت کومزید اتحاد و اتفاق جیسی نعمت سے مالامال فرمائے اور اسے حاسدین کے حسد سے بچائے۔ ملک سمیت دنیا بھر میں بسنے والے حاملین کتاب وسنت کا دینی اور مسلکی فریضہ ہے کہ وہ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے اشاعت دین کے منصوبہ جات میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں ۔ہم اللہ تعالی سے دعاگو ہیں کہ وہ قائدین جماعت اور مخلص اکابرین و کارکنان کی ان کاوشوں کو قبول فرمائے اور احباب جماعت کو خالص توحید وسنت کی دعوت کو عام کرنے کی مزید توفیق عطا فرمائے ۔۔ آمین

4 comments

  1. Sher Muhammad Khan

    I am very inspired to read yours manifesto. I want to become the member of this party.

    • السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
      جزاکم اللہ خیرا واحسن الجزاء فی الدارین
      ماشاءاللہ
      آپ سے گزارش ہے کہ اپنے بارے تمام تر تفصیلات پیپر کی شکل میں میل کریں
      mjah106@gmail.com

  2. Assalam-o-Alaikum

    kya ap mujhe lahore mein madrason ki detail bta sakte hain

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*