صفحہ اول > مضامین > خطبات حرمین > نیک شگونی اور بدفالی میں سے بہتر راستہ

نیک شگونی اور بدفالی میں سے بہتر راستہ

نیک شگونی اور بدفالی میں سے بہتر راستہ

امام مسجد الحرام فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرسعود الشریم

24صفر 1435 ھ بمطابق27دسمبر2013ئ

مترجم : محمد سرور

نظر ثانی: حافظ عبد الحمید ازہر

حمد و ثناء کے بعد:

سب سے بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمد eکا طریقہ ہے۔ سب سے برے امور وہ ہیں جو خود ساختہ ہوں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑ لو، اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہوتا ہے اور جو کوئی اس سے علیحدہ ہو، وہ آگ کی جانب علیحدہ ہوتا ہے، فرمان الٰہی ہے:

{وَمَن یُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدَی وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہِ مَا تَوَلَّی وَنُصْلِہِ جَہَنَّمَ وَسَاء تْ مَصِیْراً} (النسائ: ۱۱۵) ’’مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے، درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہو چکی ہو، تو اْس کو ہم اْسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بد ترین جائے قرار ہے۔‘‘

اے اہل اسلام! کارزارِ زندگی مصائب، پریشانیوں اور انسان کی ان خامیوں اور اچھائیوں سے بھرپور ہے جو اس کے سینے میں پریشانی کی آگ بھڑکاتی ہیں، جہاں نہ ہوا اور ایندھن ہے کہ وہ پریشانی بھڑک کر شعلہ بن جائے اور نہ پانی ہے کہ بجھ جائے اور انسان یونہی غم کی اس آگ میں جل جل کر بتدریج ختم ہوتا اور ہلاک ہو جاتا ہے۔

دراصل یہ المناک زندگی کی گردشیں ہیں جن میں لوگ سرگرداں رہتے ہیں۔ اپنی ذات کی تجارت کرتے ہیں پھر یا تو اسے آزاد کرا لیتے ہیں یا ہلاک کر ڈالتے ہیں۔ لوگوں کو پہنچنے والی یا ان کے گھروں میں اترنے والی تکلیفوں اور پریشانیوں سے متعلق لوگوں کا یہی رویہ ہے سوائے اس کے جس پر اللہ رحم کرے اور ایسے لوگ بہت ہی تھوڑے ہیں۔

جب ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور کانوں سے سنتے ہیں کہ ہمارے دینی بھائیوں پر یا ہمسایوں پر یا رشتہ داروں پر یا ان کے آگے پیچھے خود ہم پر مصیبتیں اور پریشانیاں پے درپے اتر رہی ہیں تو ان کے سامنے ہماری آنکھیں پھٹی رہ جاتی ہیں اور ہم ان کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک اندھی اونٹنی کا سا نامعقول رویہ اپناتے ہیں۔ ہم پر ناامیدی ، مایوسی اور بدفالی کے گہرے بادل چھا جاتے ہیں جس سے پریشانی مزید بڑھتی ہے، کرب میں اور اضافہ ہو جاتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا ہمیں بڑی مشقت سے آسمان کی جانب چڑھنا پڑ گیا ہے۔ اس طرح ہمارے زخم اور زیادہ دردناک ہو جاتے ہیں۔

یہ سب کچھ ہمیں تب پیش آتا ہے جب ہم اللہ سے اچھی امید یا حسن ظن کھو بیٹھتے ہیں۔ کیونکہ پریشانیوں، مصیبتوں اور تنگیوں کے ہجوم میں ہم سب کے لئے بے انتہا ضروری ہے کہ ہم بعد میں آنے والی کشادگی اور خوشحالی کا تصور اپنے سامنے رکھیں۔

ہر وہ معاشرہ جسے داخلی اور خارجی جنگوں اور تخریب کاریوں کا سامنا نہیں، وہ عافیت اور سلامتی میں ہے۔ اسے چاہئے کہ اس نعمت کا احساس کرے۔ عقیدہ، نظریات، خوراک، صحت، مال و دولت اور نظامِ جرم و سزا کے باب میں اسے برابر اور مسلسل جوا ستحکام اور امن حاصل ہے اس کے نفاذ کے اسباب مہیا کرے اور لاقانونیت، افتراق اور گروہ بندی کے اسباب کا قلع قمع کرنے میں اپنی پوری ہمت اور کوشش صرف کرے، اس سے پہلے کہ ہمارے پاس کوئی چارہ رہے نہ قوت۔ کیونکہ پرہیز علاج سے اور بچائو نجات کی کوشش سے بہتر ہے۔

آزمائشوں اور مصیبتوں کی سب سے بہترین دوا اور انجام کے اعتبار سے سب سے سود مند علاج یہ ہے کہ اللہ پر اچھا گمان کیا جائے۔ آدمی کے احساس سے نیک امید جنم لے کیونکہ نیک امید سے ہی پروردگار پر اچھا گمان قائم ہوتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی پیروی نصیب ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی فال پسند تھی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدفالی کو ناپسند کیا کرتے تھے کیونکہ یہ بغیر کسی حقیقی وجہ کے اللہ پر برا گمان قائم کرنے کے مترادف ہے۔

اللہ تعالیٰ پریشانیوں کو اپنے بندوں کے لئے باعث اجر بناتا ہے۔ ان کے درجات بلند کرتا ہے۔ گناہ مٹاتا ہے اور پھر انہیں آسانی سے اور اچھے نتائج سے نوازتا ہے۔ کتنی ہی پریشانیاں ایسی ہیں جن کے دامن میں آسانیاں ہوتی ہیں اور کتنی ہی تکلیفیں ہیں جو خوشحالیوں کا پیش خیمہ بنتی ہیں۔

{فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً ٭ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً} (الم نشرح: ۵-۶) ’’پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔ بے شک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے۔‘‘

جبکہ ایک پریشانی دو آسانیوں پر کبھی غالب نہیں آسکتی۔ لیکن پریشانی سے آسانی تک پہنچنے کا راستہ صرف نیک فال اور اللہ سے اچھی امید قائم کرنا ہے۔ اس سے آپ کو ایک روشنی جگمگاتی دکھائی دے گی خواہ آپ آنکھوں سے محروم ہی کیوں نہ ہوں، جبکہ بدفالی سے صرف اندھیرے ہی نظر آتے ہیں خواہ آپ کی نگاہ لوگوں میں سب سے تیز ہو۔

یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا جائزہ لینے والا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو نیک فال اور اچھی امید سے بھرپور دیکھتا ہے خواہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جانی دشمن کے سامنے بھی کھڑے ہوتے تو اچھی امید قائم کرتے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب قریش کی طرف سے سہیل بن عمرو نامی ایک شخص بطور نمائندہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نام ’’سہیل‘‘ سے اچھی فال لیتے ہوئے فرمایا کہ ’’معاملہ آسان ہو گیا۔‘‘

نیک فال میں چونکہ اللہ پر اچھا گمان پایا جاتا ہے اور بندے اور پروردگار کے مابین اسی نیک گمان کی بنیاد پر تعلق قائم ہوتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی بناء پر نیک فال اس قدر پسند تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی آدمی کا نام رکھتے ہوئے اچھائی کا خیال رکھتے اور وہ نام پسند کرتے جس میں بدفالی کی بجائے نیک فال کا پہلو ہوتا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرتبہ حضرت سعید بن مسیب کے دادا آئے۔ جن کا نام ’’حَزن‘‘ تھا یعنی دشوار اور مشکل۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ میرا نام حَزن ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’نہیں، تم تو ’’سَہل‘‘ ہو ، یعنی آسان اور نرم۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں اپنے والد کا رکھا ہوا نام نہیں بدل سکتا۔ حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ اس کے بعد ہمارے خاندان میں سختی و درشتی ہمیشہ رہی۔ (بخاری)

جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ نیک فال محض واقعاتی امور تک محدود نہ تھی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خوابوں کی تعبیر میں بھی اسی نیک فالی کے طریقے پر کاربند تھے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میں نے ایک بار خواب میں دیکھا کہ ہم عقبہ بن رافع کے گھر جمع ہیں اور ہمارے پاس ابن طاب کی بہت ہی عمدہ کھجوریں لائی گئی ہیں۔ میں نے اس کی تعبیر یوں کی کہ ہمیں دنیا میں بلندی ملے گی۔ آخرت میں ہمارا انجام اچھا ہو گا اور ہمارا دین سر بلندہو گا۔‘‘

دیکھئے کہ ہمارے حبیب اور رہنما صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت نیک فال سے کس قدر بھرپور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند نہیں کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ناامید ہو یا بدفالی لے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اللہ کے قریب کرتے، ان میں نیک امید اور اچھے گمان کی روح جگاتے حتی کہ اس موقع پر بھی جب آدمی اپنے رب سے دعا کر رہا ہو۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نیک فال کی تلقین کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ’’اللہ سے دعا یوں مانگو کہ تمہیں قبولیت کا پورا یقین ہو۔‘‘ (ترمذی)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کی تربیت اسی نیک فال پر کرتے خواہ انہیں کتنے ہی سخت حالات گھیر لیں۔ خواہ ان پر مصیبتوں او رتکلیفوں کا ہجوم ہو۔ پہاڑ پھٹ جائیں اور زمین گرد و غبار سے اٹ جائے کیونکہ آسانی دراصل نیک امید میں اور کشادگی اللہ پر اچھا گمان قائم کرنے میں مضمر ہے۔ نبی کریم eجب اپنے صحابہ کے ساتھ نماز استسقاء ادا کرتے تو اپنی چادر کی تہہ کو اس نیک امید کے ساتھ پلٹاتے کہ اللہ تعالیٰ ان کی تنگی کو آسانی میں اور قحط سالی کو بارش اور خوشحالی میں بدل دے۔

جب بارش کے نہ ہونے کی صورت میں اس طرح نیک امید پر قائم رہنے کی ضرورت ہے تو نصرت ، عزت، طاقت اور وقار کے چھن جانے کی صورت میں کس قدر ضرورت ہو گی نیک امید سے وابستہ رہنے کی؟

شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ذکر کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب خوارج کے ساتھ لڑائی کیلئے نکلنا چاہا تو ایک نجومی ان کے سامنے آیا اور کہنے لگا کہ امیر المومنین! آپ یہ سفر نہ کیجئے۔ کیونکہ چاند برجِ عقرب میں ہے اور اگر اس حالت میں آپ سفر کرتے ہیں تو آپ کے ساتھی شکست کھا جائیں گے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ہم تو اللہ پر اعتماد اور توکل کرتے ہوئے اور تجھے جھٹلاتے ہوئے یہ سفر ضرور کریں گے۔ چنانچہ انہوں نے سفر کیا اور ان کا یہ سفر مبارک رہا اور اکثر خارجی مارے گئے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ کو اس سے بے انتہاء مسرت ہوئی۔

یہی وہ نیک فال اور اچھی امید ہے جو انہوں نے اپنے حبیب اور اپنے قائد سے سیکھی تھی۔

اس لئے اے انسان! تجھے زندگی اور اس کے کاموں میں امید یا نا امیدی ، نیک شگون یا بدشگونی دونوں کا اختیار ہے۔ لیکن اگر امید اور نیک شگون ہو گا تو اللہ کی معیت حاصل ہو گی اور اگر نا امیدی اور بدشگونی ہو گی تو شیطان کا ساتھ ہو گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{إِنَّمَا النَّجْوَی مِنَ الشَّیطَانِ لِیَحْزُنَ الَّذِینَ آمَنُوا وَلَیسَ بِضَارِّہِمْ شَیْئاً إِلَّا بِإِذْنِ اللَّہِ وَعَلَی اللَّہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُونَ} (المجادلہ: ۱۰) ’’کانا پھوسی تو ایک شیطانی کام ہے، اور وہ اس لیے کی جاتی ہے کہ ایمان والے لوگ اْس سے رنجیدہ ہوں، حالانکہ بے اذنِ خدا وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔‘‘

جبکہ ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’میں اپنے بندے کے اسی گمان کے پاس ہوں جو وہ میرے متعلق قائم کرے۔‘‘ (بخاری و مسلم)

اس لئے اے انسان! یہ دونوں راستے اور دونوں دروازے تیرے سامنے کھلے ہیں۔ اب تو خود فیصلہ کر لے کہ تجھے کون سا طریقہ اور کون سا دروازہ اختیار کرنا ہے۔

{کُلُّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ رَہِیْنَۃٌ ٭ إِلَّا أَصْحَابَ الْیَمِیْنِ} (المدثر: ۳۸-۳۹) ’’ہر متنفس، اپنے کسب کے بدلے رہن ہے ، دائیں بازو والوں کے سوا۔‘‘

اللہ تعالیٰ میرے اور آپ کیلئے قرآن مجید کو بابرکت بنائے۔ مجھے اور آپ سب کو اس کی آیات اور ذکر حکیم سے فائدہ پہنچائے۔ آمین!

دوسرا خطبہ

حمد و ثناء کے بعد، اللہ کے بندو!

اللہ کا ڈر اپنائو۔ یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لو کہ آدمی جب لوگوں اور جماعتوں کو مصیبتوں اور آزمائشوں میں مبتلا دیکھے تو اسے اس بات پر تعجب کرنا چاہئے کہ کس طرح ان کے حوصلے پست ہو چکے ہیں اور ان کی ہمتیں جواب دے گئی ہیں۔ اب نہ تو وہ سربلندی کی کوئی کوشش کرتے ہیں اور نہ نیک امید قائم کرتے ہیں۔ ان کے دلوں پر مایوسی، نا امیدی اور شکست خوردگی کے لشکر اپنے خیمے گاڑ چکے ہیں، اب نہ تو انہیں امید کی کوئی کرن دکھائی دیتی ہے اور نہ نیک شگونی کی کوئی راہ سوجھتی ہے۔

اگر ان لوگوں کو اس بات کا بخوبی شعور ہوتا کہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے، وہ پناہ دیتا ہے لیکن اس کے خلاف کسی کو پناہ نہیں دی جا سکتی، جو وہ چاہے، وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہ چاہے، وہ نہیں ہو سکتا، اگر انہیں ان باتوں کا پتا ہوتا تو ان پر کبھی بھی مایوسی نہ چھاتی یا انہیں وہ نا امیدی ہر گز نہ آ گھیرتی جو انہیں پریشانی، غم اور اضطراب میں مبتلا کئے ہوئے ہے۔ بسااوقات یہ ایسے بچھے ہوئے جال کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جو ان سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

اللہ کے بندو! نیک شگونی میں صبر، رضا، امید ، نصرت اور عزت پائی جاتی ہے جبکہ مایوسی اور بدشگونی میں بے چینی، پریشانی، اضطراب اور ناکامی پائی جاتی ہے۔

ضروری نہیں کہ نیک شگون سے چیزیں اسی طرح پیش آئیں بلکہ دراصل یہ بدشگونی اور ناامیدی کا علاج ہے۔ اچھی امید سے آدمی کی سوچ اور جسم سلامت رہتا ہے اور بندہ اللہ اور اس کے رسول کے قریب ہوتا ہے کیونکہ انہوں نے نیک امید کا حکم دیا ہے۔ جبکہ مایوسی کی فضا میں بندہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہوتا ہے کیونکہ انہوں نے مایوسی سے منع کیا ہے۔

نیک شگون، عمل کا پہلا قدم ہے اور بدشگونی سستی، حوصلوں کی شکستگی اور خواہش نفس کی پیروی کا پہلا زینہ ہے۔ نیک شگون کی حیثیت زخم کے مرہم کی سی ہے اور بدشگونی کی حیثیت زخم پر ڈالے گئے نمک کی طرح ہے۔ اس لئے اللہ کے بندو! اچھی امید، اللہ پر اعتماد اور اس کی قضاء و تقدیر پر ایمان سے عبارت ہے۔ جبکہ بدشگونی اللہ کے متعلق بد گمانی قائم کرنے اور اس کی قضاء و تقدیر میں شک کرنے کے مترادف ہے۔ نیک شگونی زندگی ہے اور بدشگونی موت۔

نیک شگونی آدمی کیلئے نور اور سعادت ہے۔ اس لئے اچھی امید سے روشن راستے پر اطمینان سے چلتا جا، بدشگونی ظلمت اور بدبختی کے سوا کچھ نہیں۔ جو بدشگونی میں مبتلا ہوا وہ ہلاک ہو گیا۔

اے اللہ! اے ارحم الراحمین! اپنی رحمت سے پریشان حال مسلمانوں کی پریشانیاں دور فرما۔ مصیبت میں مبتلا لوگوں کی مصیبت دور کر دے، مقروضوں کے قرض ادا فرما اور اے ارحم الراحمین! اپنی رحمت سے ہمارے اور تمام مسلمانوں کے بیماروں کو شفاء عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*