آج کے ابو جہل

تحریر: محمد عاصم حفیظ

Asim Hafeezڈاکٹر حافظ عبدالکریم چئیرمین قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے ایک غیر اسلامی قانون کو رائے شماری سے روک کر کئی نام نہاد سکالرز ، موم بتی مافیا، این جی اوز طبقہ اور دیگر کئی گروپوں کی دم پر پیر رکھ دیا ہے۔ یہ طبقہ آگ بگولا ہے کہ یہ کیسے ہو گیا؟ کہ انہوں نے ایک من پسند بل منظور کرانا چاہا اور اس کی راہ میں ایک شخص رکاوٹ بن گیا ۔ وہ تو ماضی میں کئی کارنامے سرانجام دے چکے ہیں ، مشرف کا متنازعہ حدود آرڈینینس ہو یا سپریم کورٹ کی سود کے بارے رولنگ، ملک کا اسلام بیزار طبقہ جب جو چاہے کر لیتا ہے۔ ان کو کیا پتہ تھا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا سربراہ ایک ایسا شخص ہے کہ جس نے دین بھی پڑھ رکھا ہے ۔ ذرا سوچئیے کتنی این جی اوز نے اس کے لئے محنت کی ہو گی اور کتنے ہی فنڈز لگے ہوں گے۔ ماروی میمن ہو یا اس کے حواری سب کی جانب سے اب غصہ نکالا جا رہا ہے۔ چند نام نہاد سکالرز کو میدان میں اتارا گیا ہے۔وہ اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و محدثین کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کرکے اپنا نمک حلال کر رہے ہیں۔

یہ ایسا گروہ ہے کہ جنہیں اسلام سے متعلقہ ہر چیز پر اعتراض ہوتا ہے خود کو مسلمان تو کہتے ہیں لیکن ایسے پوائنٹس ڈھونڈتے ہیں کہ بیچارے سیکولر اور اسلام مخالف دانشور بھی حیران رہ جاتے ہیں۔براہ راست نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض نہیں کر سکتے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، اسلاف اورعلمائے کرام کو ظنز و تشنیع کا نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں۔کسی کو چار شادیوں پر اعتراض ہے تو کسی کو موسیقی جائز کرانی ہے۔ کوئی توہین رسالت کا قانون ختم کرانا چاہتا ہے تو کسی نے سود کی گنجائشیں پیدا کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے ۔ کچھ اس کوشش میں مصروف ہیں کہ شادی کے لئے عمر کی حد مقرر کرنا تو معمولی بات بلکہ شادیوں پر ہی پابندی لگا دی جائے۔

دراصل ان کی خواہشیں مغربی ہیں وہاں سب سے معیوب چیز شادی ہی تو ہے ان کے خیال میں پہلی بات کہ بیوی ہونا ہی فضول چیز ہے اب اگر شادی ہو بھی جائے اور مزید کی خواہش ہو تو گرل فرینڈز سے کام چلایا جائے نہ کہ شادی کے جھنجھٹوں میں زندگی برباد کر دی جائے انہیں ہر اسلامی ہیرو پر اعتراض ہے ۔ سنتوں پر اعتراض کرتے ہیں تاریخی واقعات کو لے کر مسلمانوں کو قدامت پسند ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دہشت گردی یا کسی بھی قسم کا کوئی واقعہ رونما ہو جائے تو یہ فوری طور پر ایکٹیو ہو جاتے ہیں اور اسلامی تاریخ ، احکام و مسائل ، دینی طبقے اور جو جی میں آئے اس پر حملے شروع کر دیتے ہیں ۔ کبھی سائنس کا سہارا لے کر دینی احکام و مسائل کا تمسخر اڑاتے ہیں، تو کبھی شخصیات کو لے کر پیٹ کی مروڑ بجھانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔

ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے ذہن میں آنے والے ہر فتور اور دل میں مچلنے والی ہر مذموم اور گھٹیا خواہش کو تمام علمائے کرام فوری طور شریعیت کے طور پر تسلیم کر لیں۔ پرانے دور کے ابو جہل کی طرح آج کے ابو جہلوں کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ کیوں ان کو ان کے بڑوں کے طور طریقوں سے ہٹایا جا رہا ہے ۔یہ مرزا قادیانی کئی غامدی شامدی اور پرویزی ان کے بڑے ہی تو ہیں جن میں سے کچھ نے نبوت کے دعوے کرکے اپنا آپ ظاہر کر دیا جبکہ کچھ خود ساختہ مجدد بن کر اپنی خواہشوں کے مطابق دین کو ڈھالنے کی کوششوں میں مصروف رہے ۔ 

حیران کن بات ہے کہ اس قسم کے ”پیدل سکالرز“ بڑی ڈھٹائی سے جدت کا دعوی کرتے ہیں اور دینی طبقے کو بھی فرسودہ تصورات چھوڑ کر دور حاضر کے تقاضوں کو سمجھنے کی نصیحت بھی کرتے ہیں لیکن خود وہی اعتراضات اور اشکالات سامنے لاتے ہیں جو کہ کئی سو سال پہلے مستشرقین اور اسلام مخالف گروہوں نے کئے تھے کبھی تعدد ازدواج کا مسئلہ اٹھایا جاتا ہے تو کبھی شادی کے لئے عمر کے تعین کا کوئی تاریخ سے ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، کسی کو شرعی حدود بری لگتی ہیں اور اسی قسم کے بہت سے ایسے گھسے پٹے مسائل کہ جن پر سینکڑوں سال سے بحث ہوتی آئی ہے اور انتہائی عمدگی سے جوابات بھی دئیے جا چکے ہیں لیکن کوئی ماننے پر تیار بھی ہو تو؟

اب ذرا کچھ گلہ اپنے بھولے بھالے اور سیدھے سادھے اہل سے بھی ۔مجھے سخت اعتراض ہے ان علمائے کرام اور دینی سکالرز پر کہ جو اس قسم کے بہروپیوں ، اپنی خواہشوں کے اسیر تماش بینوں اور محض چند مخصوص مغرب پرست گروہوں کو خوش کرنے کے لئے ہر قسم کی گھٹیا ترین حرکت پر تیار ان ڈرامہ بازوں کی فضول تحریروں کا جواب علمی انداز میں دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔

ہر کسی بھانڈ اور جگت باز کی بات کا جواب دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔عقل پرستوں اور پگڑیاں اچھالنے والوں سے بات کرنے کا انداز ذرا مختلف ہونا چاہیے۔ دراصل ان کو اسی انداز اور طریقے سے سمجھانے کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں اچھی طرح سمجھ آتا ہے اور جو ان کی عادت ہوتی ہے۔اگر انہیں موسیقی کو جائز کرانا ہے تو انہیں پورے خاندان سمیت کسی ڈانس اکیڈمی میں چھوڑ کے آئیں تاکہ ان کے لئے ” باعزت روزگار“ کا انتظام تو ہوجائے۔ اگر شادی کی عمر آور ہونے یا نہ ہونے پر اعتراض ہے تو ان کے والدین کی شادی کے سرانجام پانے پر ماتم کریں۔شائد انہیں ایسے ہی سمجھ آئے گی اور یہ کام علمائے کرام کی بجائے کچھ گناہ گاروں سے ہی کرا لیا جائے تو بہتر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*