عورت کے مجرم

عدیل احمد آزاد (کالم نگار، اینکر)

adeel ahmad azadمذہب کا بیانیہ وہ نہیں جوپھیلا دیا گیا۔ اور انسانیت کے خیر خواہ وہ نہیں جن کی چرب زبانی خدا رسول کی منکر ہے۔ جنگ محض برتری کی ہے اور زعم تفاخرِ علمی کا- سو پڑھنے والوں کے رگ وپے میں نفرت واشتعال کا زہر سرایت کر رہا ہے۔ ظلم تو یہ ہے کہ تحریر وتقریر میں متانت کی جگہ جگت نے لے رکھی ہے اور بلاغت کی جگہ مبالغہ براجمان ہے۔ آنے دو آنے کا کالم اور ٹکے ٹکے فتویٰ۔ دو جمع دو کو چارہزار نہ مانا جائے تو اردوکی عبارت مہک نہیں دیتی۔

دلیل سے محروم دماغ، خواتین کی لاشوں پر صحافت کر رہے ہیں۔ فطرت نے عورت کے ہر روپ کو عزت بخشی اور اسلام نے بتایا کہ عورت بیٹی ہے تو رحمت، بہن ہے تو شفقت، بیوی ہے تو محبت، اورماں ہے تو جنت۔ ارشاد ہے ۔

’’جس نے دو بیٹیوں کو پال پوس کر اپنے گھر کا کردیا، وہ جنت میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑوسی ہوگا‘‘۔

عورت کی جان کا محافظ بھی وہی خدا ہے جس نے مرد کو ’’قوّام‘‘ کا درجہ بخشا۔ قوّام کیا ہے؟ علماء نے مفہوم سمجھانے میں کوئی کسر بھی نہ چھوڑی، اورواضح بھی کچھ نہ ہوا۔ مفتی عبد القوی سے لے کر حضرت اشرفی تک شرمندگی کی عجیب داستان ہے’’ کسے خبر تھی بڑھے گی کچھ اور تاریکی‘‘۔

ادھرجگل بندی میں میڈیا نے جس معیار کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے کوئی اور نہیں صحافت ہی رسوا ہورہی ہے۔ کسی بھی عنوان پر تقابلی گفتگو علم اور دلائل کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ علم کا لہجہ شبنمی، مخملی، اور دلجوئی والا ہوتا ہے، سلطان راہی والا نہیں۔ شام سات بجے سے رات بارہ بجے تک پاکستان کے ٹی وی چینلز ۔اور بالی جٹّی کا تھیٹر۔ منظر ایک جیسا ہوتا ہے۔ میڈیا کے دہرے اور گدلے معیار نے متانت وسنجیدگی سے لبریز لہجوں کی توہین کی ہے۔ شہرت کی جستجو میں جھوٹ کا منجن بیچنے والے کذاب سب سے بڑے ادیب تسلیم کر لیے گئے۔ پولیو زدہ پہلوان بن گئے۔ چوہوں نے ڈائینو سارز کا روپ دھار لیا۔ چانس پر پلنے والے چاند مانگنے لگے ۔ ملکی امور ہوں یا اخلاقی معاملات بس وہی مخصوص چہرے ہی حرف آخر، بھلے صلاحیت نقطۂ آغاز کی نہ ہو۔ وجہ؟ تعلقات اور مزاج شناسی۔ فقط، پس، بس۔ گرگٹ کی طرح رنگ بدلواور شہرت کو دوام بخشو۔ گاہے شیر وشکر، گاہے باہم کتے بلّے۔ ایسوں کو اپنے جواز کے لیے کبھی نظریاتی چوکھٹ پہ بھیک مانگتے دیکھا تو کبھی ’’میر وسلطاں‘‘ کے ہاں سجدہ ریزی کرتے پایا۔ دشنام کے ’’ذخیرے‘‘ میں بھی کوئی ندرت نہیں، الفاظ اور لہجے کی بناوٹ ایسی کہ بازارِ آوارگی کے مکیں بھی شرما جائیں۔

انیس جون۔ جنگ اخبارکے ایک کونے میں خبر لگی کہ ’’اسلام قبول کر کے پسند کی شادی کرنے والی عیسائی لڑکی کے والدین نے اسے ذبح کردیا ‘‘۔ میں حیران رہ گیا۔ قاتل پاب، بھائی، شوہر اگر مسلمان ہو تو لیڈ لگتی ہے۔ بڑی بڑی سرخیاں تراشی جاتی ہیں اور اگر یہی کا م کوئی غیر مسلم کرے تو اسی اخبار میں اسے کونے میں دو سطری جگہ ملتی ہے۔ گزشتہ دنوں اس سے ملتے جلتے کئی واقعات سامنے آئے۔ جنہیں کمال مہارت سے ’’غیرت‘‘ کے قتل کہہ کر اسلام کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ بڑے بڑے لکھاری اور ٹی وی اینکرز کھائے ادھار کی قیمت پنجابی والی ’’ گھیسی‘‘ کرکے چکاتے رہے۔ سوال یہ ہے کہ قتل غیرت کا ہویا بے غیرتی کا، کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے؟ 

حدیث کی مستند ترین کتاب صحیح بخاری میں واقعہ مذکور ہے۔ ایک صحابی ہلا ل بن امیہ رات کو دیر سے گھر پہنچے تو بیوی کو ایک غیر مرد شریک بن سمحاء کے ساتھ غلط کاری میں ملوث پایا۔عربوں کی غیرت، حمیت، اور شجاعت سے کون انجان ہے۔ رقیب کے لب پہ پانی کا قطرہ بعد میں پڑتا تھا، گُدّی سے جان پہلے کھینچ لیتے تھے۔ امرؤ القیس، نابغہ زبیانی،عنترہ بن شداد اورطرفہ بن عبد کا کلام شاہد ہے کہ عرب معشوق چھوڑ دیتے مگر رقیب کا پیچھا سات نسلوں تک نہ چھوڑتے۔ حضرت ہلال کا امتحان تھا۔ چاہتا تو دونوں کا خاتمہ کردیتا مگر نہیں کیا۔ کیونکہ وہ جس دین کو اختیار کرچکا تھا اسے اس کی رہنمائی درکار تھی۔ رات دل پر پتھر رکھ کے گزار دی۔ صبح کو بارگاہ رسالت مآب میں سارا ماجرا کہہ سنایا۔ بیوی کو طلب کیا گیا۔ وہ آئی اورآتے ہی مکر گئی۔ بولی کہ اس نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ اب تک کی اسلامی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا، سو آسمان سے نیا قانون آیا۔ دونوں نے اپنی اپنی سچائی کی چار چار قسمیں کھائیں۔ اور پانچویں بار کہا جو جھوٹا ہو، اُس پر خدا کی لعنت۔ رسالت مآب نے دونوں کو ہمیشہ کے لیے جدا کردیا۔ شارحین کے مطابق حضور جانتے تھے کہ عورت جھوٹ بول رہی ہے۔ اور ہلال سچا ہے۔ بعد میں جو بچہ پیدا ہوا وہ بھی آشنا جیسا تھا۔ جدائی ہوئی قتل نہی  ۔یہی اسلام ہے۔

لاہور کی زینت، مری کی ماریہ، ایبٹ آباد کی عنبرین کے قاتل جہاں قتل کے مرتکب ہوئے وہیں اسلام کے بھی مجرم ہیں۔ یہ غیرت کے قتل ہیں۔ پنجابی غیرت۔سندھی غیرت۔ بلوچی غیرت۔ پشتون غیرت۔ مگر ایک مخصوص طبقہ ایسے واقعات کی آڑ میں اسلام کوگالی دیتا ہے۔ اور پنجاب اس خطے کا خمیر جس مٹی سے اٹھایا گیا ہے، اس میں سوتن قبول ہے نہ بغاوت۔ اورنتیجہ قتل ہے۔ یہاں بسنے والے ہندؤ،عیسائی اور سکھ سبھی غیرت کے نام پر بہنوں بیٹیوں کو مارتے آئے ہیں۔ کتنا ظالم ہے آج کا میڈیا۔ اگر بہن بیٹی کا قاتل کوئی مسلمان ہو تو وہ خبرخبر ہے۔ اورلیڈ لگتی ہے۔ اور اگر سگی بیٹی کو مارنے والا غیر مسلم ہو تو کسی کونے کھدرے میں دو سطری خبر۔ میڈیا مذہب کی رسوائی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ ڈاراموں، فلموں، فحش اشتہاروں اور بے لگام ٹی وی شوز کے ذریعے خاندانی اقدار وروایات کا جنازہ نکالا جارہا ہے اوراس پر پیمرا مبارک باد کا مستحق ہے۔

منہ بھر کے گالیاں دینے والے ٹُچّے، لفنگے، اٹھائی گیرے، بڑبولے اورچپّڑ قناتی سرِشام ٹی وی سکرینوں پر دانشوروں، تجزیہ کاروں اور مبصروں کا روپ دھارے ذہن سازی کرتے ہیں۔ ’’دانشور اور مومو‘‘ میں فرق ہوتا ہے صاحب!

کاروکاری، ونی، سوارا اور غیرت کے قتل بلوچوں، پٹھانوں، سندھیوں اور پنجابیوں کے رواج ہیں، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے پیغام کا حصہ سے نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ احترام  انسانیت کے لیے جو خطوط رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے استوار کیے، صدیاں بیت جانے کے باوجود زمانے کا غبار انھیں آلودہ نہیں کر سکا۔ ایک واضح لکیر ’’عورت‘‘ کا حصار ہے۔ خبردار! ’’عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا ‘‘۔

حیرت ہوتی ہے جب دیسی مفکرین ٹائی لگا کر ہر احترام کو ’’ویسٹ‘‘ کے کھاتے میں ڈال کر بغلیں بجاتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل سابق مس ورلڈ ’’مس مارکیٹا‘‘ نے اسلام قبول کر تے ہوئے کہا تھا ’’اسلام سے زیادہ عورت کا احترام کسی مذہب میں نہیں، اسی لیے اسلام قبول کیا‘‘۔

اپنا معاشرہ سنبھالو۔ رسوم بدلو۔ رواج بدلو۔ دماغ بدلو۔ افکار بدلو۔ اسلام مکمل واکمل ہے۔ اور عورت کے تمام حقوق کا محافظ وضامن ہے۔ جس تہذیب میں ماں ’’اولڈ ایج ہاؤس‘‘ میں ہو اور کتا ’’بیڈ روم ‘‘ میں وہ تہذیب عورت کے کس حق کا تحفظ کرے گی ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*