صفحہ اول > مضامین > مسلمہ شخصیات > ہر دلعزیزمولانا محمد اسحق بھٹی رحمہ اللہ

ہر دلعزیزمولانا محمد اسحق بھٹی رحمہ اللہ

ڈاکٹر تنویر قاسم

ishaq bhattiانیس برس پہلے میں نے پہلی مرتبہ مولانا محمد اسحق بھٹی رحمہ اللہ کو دیکھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نے جامعہ پنجاب سے ایم اے کرکے دبستان صحافت کی دہلیز پر پہلا قدم رکھا تھا۔ ایک طفل مکتب کیا جانے کہ بھٹی کون ہے۔ تاہم یہ احساس مجھے اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھا کہ میں مولانا ابوالکلام آزادرحمہ اللہ کے دور کی شخصیت کے حضور میں ہوں۔ میں نے ان کے گھر خادم قرآن ڈاکٹر اسراراحمدکو دیکھا کہ تلمیذانہ عجز کے ساتھ ان کے حضور موجود ہیں تو ان کی عظمت کا احساس مزید گہرا ہو گیا۔ بیس برس سے علم وادب کی دہلیز ہی پر کھڑا ہوں۔ اپنی کوتاہ نگاہی کا اعتراف ہے کہ میں اسے پار نہ کر سکا۔ لیکن ان برسوں میں یہ ضرور جان لیا کہ برصغیرمیں اسماء علم الرجال کے فن اور شخصیت نگاری کا سہرا مولانا بھٹی رحمہ اللہ کو جاتا ہے۔ علم و فکر کی دنیا میں ایک مدت سے خزاں کا راج ہے۔ اس بے کیفی نے مولانا اسحاق بھٹی کی کمی کا احساس بڑھا دیا ہے ۔

وہ کہنہ مشق صحافی، مؤرخ، عالم دین، تجزیہ نگار اور خاکہ نگار تھے جنہوں نے 90 سال تک اپنے رشحات قلم کی عطر بیزی سے طالبان علوم دینیہ، اور محبان اسلامی صحافت کی مشام روح کو معطر کئے رکھا۔ مولانا نے اپنی شگفتہ تحریر اور جادوبیانی سے اس فن کو تازگی اور اس فکر کو بالیدگی عطا فرمائی ہے۔ مولانا اپنے قلم کے ذریعہ شخصیت کے گفتار وکردار کا اس انداز سے احاطہ کرتے وہ شخص ایک زندہ آدمی کی طرح تخیل کے سہارے متحرک ہو کر چلتا پھرتا نظرآتا۔ وہ جاندار اور بھر پور انداز سے شخصیت کو ابھارتے کہ جیتے جاگتے انسان کو قاری کے سامنے لاکھڑا کردیتے۔ شخصیت کی خلوت اور جلوت کی مثالوں سے لبریز اْن کے خاکوں کی بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے بڑے لوگوں کی عظمت کا اعتراف کھلے دل سے کیا ہے اوریہ خود ان کی عظمت کی دلیل ہے۔

مولانا مزاجاََ اعتدال پسند تھے۔ وہ خود کہا کرتے تھے کہ میری تربیت جن علمائے کرام میں ہوئی ہے وہ نہایت بلند پایہ شخصیات تھیں، وہ بے حد معتدل مزاج تھے، اور اپنی بات مثبت انداز میں کرتے تھے، منفی نقطہ نظر سے کوسوں دور تھے، ان میں سے کسی نے بھی کفر و شرک، الحاد و بے دینی کے فتوے جاری نہیں کئے، وہ لوگوں کو مسلمان بنانے کے خواہاں تھے، اور اسی کےلیے کوشاں رہتے تھے، ان میں سے کسی نے نہ الحاد کی دکان لگائی، نہ کفر کی تقسیم کے لئے کوشاں رہے، نہ لوگوں کو مشرک بنانے کا دھندہ کیا، نہ کسی کو جنت سے نکالنے اور جہنم میں داخل کرنے کی کوشش کی۔ ان شخصیات میں مولانا دائود غزنوی رحمہ اللہ، مولانا اسماعیل سلفی رحمہ اللہ، مولانا عطاء اللہ حنیف رحمہ اللہ نمایاں ہیں۔

مولانا تحریک آزادی کے دور میں جوان ہوئے، وہ دور جس میں مولانا آزاد کے ’’ الہلال، ’’ البلاغ، مولانا محمد علی جوہر کے ’’ ہمدرد، اور ’’ کامریڈ، علامہ اقبال کے فلسفہ خودی، مولانا ظفر علی خان ظفر کے ’’ زمیندا ر، اور شبیر احمد جوش ملیح آبادی کی انقلابی نظموں، اور تحریک خلافت، تحریک عدم تعاون، اور تحریک ’’ ہندوستان چھوڑ دو‘‘ جیسی تحریکوں نے ہر درد دل رکھنے والے کو متاثر کیا، ساری قوم استعمار کے آگے سینہ سپر ہوگئی، بھلا ایسے حالات میں مولانا بھٹی تحریک آزادی وطن سے اپنا دامن کیسے بچا سکتے تھے؟ آپ نے اپنی ریاست کی ’’ پرجا منڈل‘‘ میں شمولیت اختیار کرلی، جس کے صدر اس زمانے میں گیانی ذیل سنگھ جی تھے، جو بعد میں مشرقی پنجاب کے وزیراعلیٰ، پھر مرکزی حکومت میں وزیر داخلہ اور پھر 1982 سے لے کر24 جولائی 1987 کے درمیانی وقفے میں ہندوستان کے صدر جمہوریہ بنے، اور اس کے سیکرٹری ہمارے ممدوح مولانا محمد اسحاق بھٹی تھے، اس ’’ پرجا منڈل‘‘ کو آزادی کی صبح تک کن کن مصائب سے دوچار ہونا پڑا، اور کس مد وجزر سے گزرنا پڑا۔ اس کی تفصیل مولانا نے اپنی کتاب ’’ نقوش عظمت رفتہ ‘‘ میں اپنے بچپن کے دوست اور تحریک آزادی کے ہم سفر گیانی ذیل سنگھ کے تذکرے میں بڑی خوب صورتی سے بیان کی ہے۔ مولانا ہجرت کے بعد پاکستان آگئے فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ کے ایک گائوں ڈھیسیاں میں پڑاؤ کیا۔

1951ء میں مولانا محمد حنیف ندوی رحمہ اللہ ریسرچ فیلو کی حیثیت سے جب ادارہ ثقافت اسلامیہ ( لاہور) سے منسلک ہو گئے، ان کی جگہ بھٹی صاحب کو ’’ الاعتصام ‘‘ کا ایڈیٹر بنا دیا گیا۔ آپ پندرہ سال تک اس کے ایڈیٹر رہے اس دور میں انہیں بے شمار علماء وزعماء سے میل ملاقات اور گفتگو کے مواقع ملے، جن سے آپ نے خوب استفادہ کیا اور اس دوران آپ نے ’’ الاعتصام ‘‘ کے کئی نمبر شائع کئے ، جن میں فروری 1956ء میں شائع ہونے والا ’’حجیت حدیث نمبر‘‘ مئی 1957ء میں شائع ہونے والا ’’ 1857 نمبر‘‘ قابل ذکر ہے، جو کہ جہاد آزادی کا ایک اہم تحقیقی اور برصغیر کی سیاسی دستاویز ہے، اس کے علاوہ آپ نے کئی عید نمبر اور آئین نمبر وغیرہ کی اشاعت کا بھی اہتمام کیا تھا، اخبار الاعتصام کے دفتر کے متعلق دلچسپ معلومات دیتے ہوئے لکھتے ہیں ’’بڑے سائز کے سولہ صفحات کے اخبار میں خود ہی خاکروب، خود ہی کلرک، خود ہی مینیجر اور خود ہی ایڈیٹر تھا، یعنی ان تمام مناصب پر میں اکیلا قابض تھا۔ الحمد للہ رب تعالی نے بڑی توفیق عطا فرمائی تھی۔‘‘ اسی دوران جنوری 1958ء کو اپنا ذاتی اخبار سہ روزہ ’’ منھاج ‘‘ جاری کیا جو اگست 1959ء تک جاری رہا۔ جبکہ روزنامہ ’’ امروز‘‘ روزنامہ ’’ پاکستان‘‘ میں کئی سال تک مضمون نویسی اور کالم نگاری کرتے رہے۔ نیز مشہور صحافی جناب مجیب الرحمن شامی کے ماہنامہ ’’ قومی ڈائجسٹ ‘‘ میں ایک عرصے تک شخصیات پر سلسلہ تحریر جاری رکھا۔ پھر حالات نے ایک اور پلٹا کھایا تو 30 مئی 1965ء کو اخبار ’’الاعتصام ‘‘ کی ادارت سے مستعفی ہو کر چند ماہ حضرت مولانا سید محمد داؤد غزنوی رحمہ اللہ کے صاحب زادے سید ابوبکر غزنوی رحمہ اللہ کے ساتھ ملکرہفت روزہ ’’ توحید ‘‘جاری کیا ، پھر انہوں نے 11 ستمبر1965ء کو اس سے علیحدگی اختیار کرلی۔ 

12 اکتوبر1965 کو مشہور اسلامی تحقیقی ’’ادارہ ثقافت اسلامیہ‘‘ نے بغیر کسی درخواست کے ریسرچ سکالر کی حیثیت سے مولانا بھٹی کی خدمات حاصل کرلیں، یہ وہ ادارہ ہے جو بر صغیر کے معروف محققین کا مرکز تھا۔ جس کا مقصد اسلامی تہذیب وثقافت کے مختلف پہلوؤں کا علمی وتحقیقی مطالعہ کرنا تھا۔ ادارے کے ارکان کے انتخاب میں اس وقت اس امر کا خیال رکھا جاتا تھا کہ وہ قدیم وجدید علوم پر قدرت کاملہ رکھتے ہوں۔ چنانچہ مولانا محمد حنیف ندوی، مولانا محمد جعفر شاہ پھلواری، مولانا مظہر الدین صدیقی، ڈاکٹر محمد رفیع الدین، جناب بشیر احمد ڈار، پروفیسر محمد سرور، رئیس احمد جعفری اور شاہد حسین رزاقی جیسے جید علما کا انتخاب کیا گیا۔ خلیفہ عبدالحکیم کے بعد محمد شریف کو نظامت کے فرائض سونپے گئے اس کے بعد شیخ محمد اکرام نے اس ادارے کی صدارت سنبھالی۔ 1973 میں پروفیسر محمد سعید اس ادارے کے ناظم مقرر ہوئے۔ جب کہ کچھ عرصہ ڈاکٹر وحید قریشی بھی اس ادارے کے ناظم رہے۔ اس ادارے کی جانب سے سینکڑوں کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن کا موضوع اسلامی وپاکستانی ثقافت وتہذیب اور تاریخ بر عظیم پاک وہند ہے۔ یہ ایک نیم سرکاری ادارہ تھا، جس میں بھٹی صاحب کو خالص تحقیقی میدان سے واسطہ پڑا۔ 1997ء تک 32 سال اس ادارے میں کام کرتے رہے۔ اس کے بعد پھر آپ نے اپنے گھر میں سکونت اختیار کرلی اور تصنیف وتالیف کا سلسلہ آخری وقت تک جاری رکھا۔

مولانا نیک طبع ، ملن ساز ہر دلعزیزانسان تھے۔ ان کی موجودگی سے محفلیں کشتِ زعفران بنی رہتی تھی۔ اٹھکھیلیوں اور شگوفوں کا ایک طوفان ہوتا تھا۔ دستِ شفقت بھی ہم سب کے سروں پر ہوتا تھا وہ اپنی تمام ترضعیفی کے باوجود بھی ہمارے ساتھ بے تکلف دوستوں کی طرح پیش آتے۔ ان کی گفتگو نہایت سادہ مگر دل نشین اور معلومات افزا ہوتی، مختصر اور چھوٹے چھوٹے جملوں میں ساری بات کہہ جاتے تھے اور وہ باتیں بیان کی جو کسی مضمون، مقالے یا کتاب میں نہیں مل سکتیں۔ مولانا اسلامی علوم کا سمندر تھے اور چونکہ ایک نقطہ نظر بھی رکھتے تھے اس لیے اسلامی علوم وفنون کو ایک خاص تعبیر کے ساتھ بیان کرتے تھے۔ ان کی کوئی کتاب یا تحریر ایسی نہیں ملے گی جو محض کسی غیر علمی مقصد کے لیے لکھی گئی ہو۔ بے معنی تحریر وہ لکھ ہی نہیں سکتے تھے۔ مولانا کو خراج عقیدت کون کیا پیش کرے ان کا علمی کام اور ان کی شخصیت یہ کام خود کرتی رہے گی۔ ہم تو ان کے جوتوں کی خاک بھی نہیں۔ لیکن قدرت کو اپنے اس نما ئندہ بندے کی بس اتنی ہی ضرورت تھی اور ان کو واپس بلا لیا گیا۔ جنت الفردوس میں قیام کے لیے اور ان کی خدمات کے اجر کے لیے۔

اپنے صحافتی سفر میں مجھے جن نامور شخصیات سے ملاقاتوں اور انٹرویوز کا موقع ملتا رہا وہ آج سب اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں جن میں نمایاں طورپر نواب زادہ نصراللہ خاں، مولانا عبدالستار نیازی، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا اجمل خاں، منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی، مولانا عبدالقادر آزاد، میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد، مولانا عبدالقادر روپڑی، ڈاکٹر اسرار احمد، مولانا ضیاء القاسمی، مولا نا ضیاء الرحمن فاروقی، مولانا اعظم طارق،غلام حسین نجفی، مفتی غلام سرورقادری کے علاوہ مولانا محمد اسحق بھٹی مرحوم بھی شامل ہیں۔ آج سے20 برس قبل ادارہ ثقافت اسلامیہ میں ان کا انٹریوکیا تھا، جہاں اس وقت وہ ریسریچ فیلو اور مجلہ المعارف کے مدیر تھے۔ میں نے مولانا کو سب سے زیادہ عاجز ی والا اور درویش صفت انسان پایا۔ وہ میرے نانا شیخ الحدیث حافظ محمدعبداللہ بڈھیمالوی رحمہ اللہ کے خالہ زاد تھے۔ اس لحاظ سے وہ ہمارے عزیز بھی تھے۔ وہ عاجزانہ انداز میں کہا کرتے تھے کہ’’ یہ فقیر غزنوی، لکھوی، روپڑی خاندانوں سے لے کر معروف شخصیات کے تذکروں سے مزین 50 ہزار صفحات تحریر کرچکا ہے، جن میں بڑے بڑے خاندانوں کی تاریخ محفوظ کردی ہے، خاندانوں اور شخصیات پر جو معلومات میں نے لکھ دی ہیں وہ ان کی اولاد کو بھی شائد معلوم نہ ہوں‘‘۔

آخر ی دنوں میں وہ ناشر اورپبلشرز سے بھی شکوہ کناں نظر آئے اور اکثر کہا کرتے کہ دونوں میں ’’شر‘‘ کی قدر کی مشترک ہے۔ ان کی یہ کیفیت بتاتی تھی شائد انہیں اپنی محنت کا پورا معاوضہ نہیں ملتا تھا، مگر ان کی کتابوں کے ناشرحضرات ماشاء اللہ بہت خوشحال ہیں۔ مگر مولانا کے حالات کچھ خاص نہیں بدلے تھے۔ انہیں مولانا معین الدین لکھوی سے بڑ ا پیار تھا۔ ایک دفعہ مجھے کہنے لگے کہ یار مجھے مولانا لکھوی سے ہی ملا لاؤ، میں نے گاڑی میں بھٹی صاحب کو بٹھایا اور مولانا لکھوی کو ملنے اوکاڑہ پہنچ گئے، مولانا شدید نقاہت میں تھے، ان کے گھر قدم رکھا تو وہ لیٹے ہوئے تھے انہیں بتایا کہ لاہور سے اسحق بھٹی صاحب آئے ہیں تو وہ تکلیف کی وجہ سے کراہ رہے تھے بڑی نحیف آواز کے ساتھ بولے اور اٹھنے کی کوشش کی کہ میں اپنے دوست کو گلے لگا سکوں، وہ منظر بڑا جذباتی تھامولانا لکھوی نے بھٹی صاحب کو گلے لگا کر چیخیں مار کر رونا شروع کردیا اور اسحاق بھٹی اسحاق بھٹی کہہ کر پکارتے رہے۔ پھر دونوں مرکزالاسلام لکھو کی اور ماضی کی یاد وں میں گم ہو گئے، مولانا لکھوی کو اپنی گھوڑی یاد آگئی اور کہنے لگے اسحق بھٹی تمھیں وہ گھوڑی یاد ہے ناں۔

مولانا کے رشحات فکر کا مطالعہ ان کی درج ذیل کتابوں سے کیا جاسکتا ہے ۔’’قافلہ حدیث، گلستان حدیث، دبستان حدیث. تذکرہ قاضی سلیمان منصورپوری، تذکرہ مولاناغلام رسول قلعوی، تذکرہ صوفی محمد عبداللہ، تذکرہ مولانااحمدالدین گکھڑوی، قصوری خاندان، ارمغان حنیف، تذکرہ مولانا محمداسماعیل سلفی، برصغیرمیں علم فقہ، برصغیرمیں اسلام کے اولین نقوش، برصغیرمیں اہل حدیث کی آمد، فقہائے پاک وہند، اہل حدیث خدام قرآن، میاں فضل حق اور ان کی خدمات، میاں عبدالعزیز مالواڈہ، تذکرہ محدث روپڑی، برصغیرکے اہل حدیث خدام قرآن، ہفت اقلیم، برصغیرمیں اہل حدیث کی اولیات، برصغیرمیں اہل حدیث کی تدریسی خدمات، روپڑی علماء حدیث، تذکرہ مولانا محیی الدین لکھوی، آثارماضی، محفل دانشمنداں، عارفان حدیث، چمنستان حدیث، اسلام کی بیٹیاں، لسان القرآن، ترجمہ ریاض الصالحین، ترجمہ فہرست ابن ندیم۔‘‘

مولانا کے خلاء کو پْر کرنے والی شخصیت برصغیر میں مجھے تو دکھائی نہیں دے رہی، پاکستان میں تو یہ خانہ خالی نظر آتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے نوجوان ادیب اْٹھیں اور اس عظیم علمی نقصان کی تلافی کریں۔ آج شہرت عام عوامی واعظوں اوراشتہاری علماء کو تو حاصل ہے جو چند تقاریر یاد کرکے سٹیج کی زینت بنتے ہیں اور لوگوں کے لیے تفریح طبع اورذہنی تعیش کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ علمی گہرائی، تحقیق وتدقیق اور ذوق تالیف وتصنیف خواص کا حصہ ہیں او ر بد قسمتی سے عام لوگوں کے لیے اس کی حیثیت بے کار مشغلہ کی رہ گئی ہے۔ دولت، شہرت اور اقتدار، آج جن جن آستانوں پر جبہ ودستار نیلام ہوتے ہیں، مولانا کے نزدیک ان کی حیثیت پرکاہ سے زیادہ نہ تھی ۔

مولانا سماجی رکھ رکھاؤ کا بڑا خیال رکھتے تھے، اپنی پیرانہ سالی کے باوجود دوستوں کی خوشی غمی میں حتی الامکان شریک ہوتے۔ اپنی وفات سے ایک ہفتہ پہلے بیماری کے باوجود محترم ڈاکٹر عبدالغفور راشد کے صاحبزادے کی دعوت ولیمہ میں شریک ہوئے یہ ان کی آخری سماجی سرگرمی ثابت ہوئی، اس تقریب میں سینیٹر پروفیسر ساجد میر، جسٹس ( ر) محمدافتخار چوہدری، ڈاکٹر حافظ عبدالکریم ایم این اے، ملک رشید احمد خاں ایم این اے، سابق وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی سمیت اہم شخصیات موجود تھیں، مولانا بھٹی پروفیسر ساجد میر سے پرجوش انداز سے ملے اور ان کے چہرے پر مسرت کا اظہار ان کی باہمی محبت اور احترام کا پتہ دے رہا تھا۔ یہ تقریب اس لحاظ سے تاریخی اہمیت کرگئی کہ مجھ سمیت بہت سارے احباب کے ساتھ مولانا مرحوم کی یہ ملاقات آخری ملاقات ثابت ہوئی ۔

22 دسمبر 2015 میو ہسپتال لاہور میں ان کی زندگی کی آخری رات کا میں بھی شاہد ہوں جب وہ وینٹی لیٹر پر آخری سانسیں لے رہے تھے تو میں سوچ رہا تھا کہ سفرِ حیات کا تھکا مسافر، تھکا ہے ایسا کہ سوگیا ہے، خود اپنی آنکھیں تو بند کرلیں ہرآنکھ لیکن بھگو گیا ہے۔ افسوس کہ میرے دامن میں اس معیار کے عمدہ ومزین الفاظ نہیں جو ان کو صحیح معنوں میں خراج تحسین پیش کرسکیں۔ بس مختصر یہ ہے کہ مولانا اس دور میں دلوں پر راج کرنے والے شخص تھے یہ زمانہ ان کی کمی پوری نہیں کرسکتا۔ حبِّ یزداں کا وہ اک استعارہ تھا جو داستاں ہوگیا، اک ستارہ تھا وہ کہکشاں ہوگیا دل رو رہا ہے واللہ! غم اس قدر ہے کہ کلیجہ پھٹنے کو ہے اب ڈھونڈو انہیں چراغِ رخِ زیبا لے کر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*