صفحہ اول > مضامین > اصلاح معاشرہ وحالات حاضرہ > ایرانی بالادستی کا خواب اور قربان ہوتے مسلمان

ایرانی بالادستی کا خواب اور قربان ہوتے مسلمان

پروفیسر محمد عاصم حفیظ

Asim Hafeezسینکڑوں حجاج کرام کی شہادت کا باعث بننے والے منی حادثے کے بعد جہاں ایک طرف پوری دنیاغم و اداسی میں ڈوب گئی تو انہی لمحات میں کچھ حلقے اس واقعے پر سیاست کرتے نظر آئے۔ سوشل میڈیا پر ماضی کی تصاویر اور چند ایسی ویڈیوز جن کا تعلق اس واقعے سے قطعی طور پر نہیں تھا ان کو لے کرسعودی حکومت اور حج انتظامیہ پرشدیدتنقید اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کو خوب ہوا دی گئی۔ ایرانی صدر نے فوری طور پر سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ یہ حقیقت ہے کہ اس حادثے کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال نے مشرق وسطی میں جاری کشمکش، تنازعات اوردیگر فرقہ ورانہ مسائل کو مزید واضح کر دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ تہران کا کنٹرول اہل بصیرت کے پاس نہیں رہا اور وہاں صرف اور صرف جذباتی، پراگندہ خیالات کے حامل اور تعصب و عناد میں ڈوبے ہوئے افراد کا ڈیرہ ہے۔ عرب ممالک میں گزشتہ چند سالوں سے جاری بدامنی اور قتل وغارت میں ایران کا نام سب سے نمایاں رہا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ کبھی بھی کوئی صلح جوئی اور اچھائی کا تاثر تک بھی دینے کی کوشش نہیں کی گئی۔ امریکہ ویورپی ممالک کے ساتھ کئی سال کے خفیہ تعاون اور اب واضح معاہدے کے بعد ایران اب پورے خطے میں چوھدراہٹ کے خواب دیکھ رہا ہے۔ عالمی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا تو شروع سے یہ دعوی ہے کہ ایران کبھی بھی مغرب مخالف رہا ہی نہیں جبکہ اسرائیل کے ساتھ ’’ زبانی کلامی ‘‘ کشیدگی تو محض رسم دنیا نبھانے کے لئے ہوتی ہے۔ ایران کی مذہبی قیادت اور حکومت اسرائیل و امریکہ دشمنی کا تاثر دے کر اپنی عوام کو رام کرنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ وہ کبھی بھی اہل اقتدار کے لئے خطرہ نہ بن سکیں۔ اسی بہانے کے تحت ملک میں ہر قسم کی مخالفانہ سرگرمیوں کو بھی دبایا جاتا ہے۔ ایران اب مغرب کی آشیر باد سے علاقائی بالادستی کا خواب دیکھ رہا ہے اور شائد یہی وجہ ہے کہ اب مشرق وسطی میں جاری ہر کشمکش اور قتل وغارت، بدامنی میں براہ راست یا خفیہ طور پر ایران اپنا کردار ضرور ادا کرتا ہے۔ عراق پر امریکی حملے کے بعد امریکہ نے جس طرح ایران کے ہم مسلک طبقے کو پروموٹ کیا اور بعد ازاں ان کے ساتھ ملکر وہاں کی سنی عوام کو جس بے دردی سے قتل کیا گیا اس کی مثال شائد ہی تاریخ میں مل سکے۔ یہ سب ایران کی آشیر باد سے ہو رہا تھا کیونکہ کئی عشروں سے ’’ امریکہ مردہ باد‘‘ کے نعرے لگانے والے جذباتی ایرانی اپنے ہمسائے میں اسی امریکہ کو دیکھ کر ’’ جہاد‘‘ کو یکسر بھول ہی گئے اور چپ چاپ حمایتی بن گئے۔ عراق میں امریکی حمایت سے اپنی ہم مسلک طبقے کو مضبوط بنانے کے بعد ایران کا حوصلہ بڑھا اور پھر باری آئی شام، یمن، بحرین اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک میں اپنے حمایتی گروہوں کو مسلح اور مضبوط کرنے کی۔ بحرین میں ایک بھرپور شورش پیدا کی گئی، یمن میں قانونی حکومت کا خاتمہ کچھ اس طرح کیا گیا کہ ایرانی جنریلوں نے اس مہم میں حصہ لیا، شام میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اور ظلم و ستم کی دردناک داستانیں رقم ہو رہی ہیں۔

سعودی عرب اور کویت میں بھی بہت کچھ ہوا لیکن وہاں کی مضبوط حکومتوں نے ان مہمات کو کچھ زیادہ کامیاب نہیں ہونے دیا ۔ جی ہاں! ایک اور ہمسایہ افغانستان بھی تھا کہ جہاں ایران نے شمالی اتحاد کے ساتھ ملکر امریکی قیادت میں طالبان حکومت کو ختم کرنے کے لئے بھرپور وسائل فراہم کئے۔ اور مزے کی بات یہ بھی ہے کہ اس سارے عرصے میں ’’ مردہ باد امریکہ ‘‘ کا نعرہ بھی خوب زور و شور سے لگایا جاتا رہا۔ حقیقت یہی ہے کہ ایران کبھی بھی امریکہ، اسرائیل اور مغرب کا مخالف نہیں رہا۔ اس کے کئی دلائل ہیں۔ ایران کی جانب سے روایتی زبانی جمع خرچ تو بہت کیا جاتا ہے لیکن حقائق یہی ہیں کہ ایران نے کبھی بھی کوئی بھی امریکہ مخالف قدم نہیں اٹھایا۔ کسی بھی ملک میں کوئی ایرانی یا ان کے ہم مسلک کو ئی رہنما امریکہ کی مخالفت میں نہیں لڑا۔ امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دنیا بھر میں اقدامات اٹھائے اور کئی ممالک سے اپنے مخالفین کو گرفتار یا جاں بحق بھی کیا لیکن ایرانی یا ان کے ہم مسلک افراد پوری دنیا میں اس سے محفوظ رہے ۔عراق میں ایران کے حمایتی عالم دین عالم آیت اللہ سیستانی نے کیوں یہ فتویٰ دیا کہ امریکہ کے خلاف جہاد حرام ہے اور جو لوگ امریکہ کے خلاف لڑ رہے ہے وہ دہشتگر د ہے۔ ایران نے امریکہ کے خلاف لڑنے والوں کی بجائے صدام کے حامیوں کی سرکوبی کے لئے اسلحہ فراہم کیا اور بہت سے ایرانی رضا کار بھی عراق گئے۔ امریکہ نے اس کا صلہ یہ دیا کہ ایرانی حمایت یافتہ افراد کو عراق کی حکومت دی اور مختلف ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت میں ملوث ہونے کے باوجود کبھی کسی ایرانی حمایت یافتہ گروہ کو دہشت گرد قرار نہیں دیا گیا۔ ایران کی جانب سے یمن، بحرین، شام اور کئی دیگر ممالک میں اپنی حمایتی گروہوں کی مدد کے لئے تربیت یافتہ رضا کار اور باقاعدہ فوجی عہدیدار بھیجے جاتے ہیں لیکن ایسا کبھی بھی اسرائیل کے خلاف نہیں کیا گیا۔ ایران میں شدت پسندی اور نفرت کا اس سے بڑھ کر اور کیا اظہار ہو گا کہ دارالحکومت تہران میں ایک مسجد بھی نہیں اور نہ ہی مسجد بنانے کی اجازت ہے مگر اسی تہران میں یہودیوں کے 70 عبادے خانے ہے اور عیسائیوں، ہندوؤں، پارسیوں اور بدھوں وغیرہ کے ہزاروں عبادے خانے ہے۔ بلکہ بعض حلقے تو یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ خمینی انقلاب کے بعد ایران کی 90 فیصد مساجد کو امام بارگاہ میں تبدیل کیا گیا مگر کسی ایک بھی چرچ، مندر یا کسی اور مذہب کے عبادت خانوں کو نہ تبدیل کیا گیا اور نہ ہی گرایا گیا۔ ایسی بے شمار ویڈیوز موجود ہیں کہ ایران میں محض دوسرے فرقے سے تعلق کی بنا پر ہر سال بڑی تعداد میں علمائے کرام اور لوگوں کو پھانسی چڑھا دیا جاتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ ایران کو اب ہمسایہ مسلم ممالک کے ساتھ کسی بھی قسم تعلقات کی بحالی کی کوئی خواہش ہی نہیں رہی۔ وہ صرف اور صرف امریکہ و یورپ کی بھرپور حمایت، ایٹمی معاہدے کے بعد ہونیوالی کمائی اور کئی سال سے بنائے گئے جدید اسلحے کے بل بوتے پر پورے مشرق وسطی میں حاکمیت کے خواب دیکھ رہا ہے۔ اس کے لئے ہر قسم کا حربہ استعمال کیا جا رہا ہے۔کتنی حیرانی کی بات ہے کہ لاکھوں لوگوں کی مشکلات، قتل و غارت اور بدامنی کے باوجود شام اور یمن کے مسئلے پر ذرا سی بھی لچک نہیں دیکھائی جا رہی۔ ایران کسی بھی ہمسائے کی کوئی بات سننا ہی نہیں چاہتا۔ مانا کہ عربوں کی بھی بہت سے غلطیاں ہوں گی لیکن کیا ایران کی کوئی بھی ذمہ داری نہیں کہ وہ زندگی کی بازی ہارتے ان کلمہ گو مسلمانوں کے لئے تھوڑا سا بھی کردار ادا کرے۔ حالیہ منی حادثے کے فوری بعد ایران کی جانب سے سعودی عرب مخالف مہم سے بھی آپ اس صورتحال کا ادراک کر سکتے ہیں۔ ایک سعودی شہزادے کی کئی سال پرانی ویڈیو جو کہ حج کے موقعے پر تھی ہی نہیں اس کو واقعے کی وجہ قرار دیا گیا۔ دس سال پرانی حجاج کا سامان اٹھاتی گاڑیوں کی تصاویر کو لاشوں کی بے حرمتی کے طور پر پیش کیا گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی انتہائی منظم ادارہ اس پروپیگنڈے کے لئے کام کر رہا ہے کہ جس کے باعث ہر قسم کا مواد شائد اسی قسم کے واقعات کے لئے سنبھال کر رکھا گیا ہے۔ ایران حج و عمرے پر ہونیوالے والے واقعات کے حوالے سے اس قدر کیوں سرگرمی دیکھاتا ہے اس کی بھی کئی مذہبی، ثقافتی اور تاریخی وجوہات ہیں۔ دراصل ایران خطے میں بالادستی کے لئے حرمین الشریفین کے ساتھ دنیا بھر کے مسلمانوں کی عقیدت و محبت کو ٹارگٹ کرنا چاہتا ہے۔ ایران دنیا بھر میں موجود اپنے ہم خیال مذہبی رہنماؤں کے ذریعے ہم مسلک افراد کی ذہن سازی میں کسی حد تک کامیاب رہا ہے کہ زیارات وعبادت کے لئے حرمین الشریفین کی بجائے ایران وعراق میں موجود مقدسات ومزارات بھی یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں ایران وعراق کا مقدس سفر کرنے والوں کی تعداد حج و عمرے پر جانے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ تلخ حقیقت ہے لیکن اس سے انکار ممکن نہیں کہ ایرانی زائرین کی جانب سے اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ حج وعمرے کے موقعے پر بدامنی پھیلانے کی کوشش کی گئی جس میں سینکڑوں معصوم حجاج کرام کی شہادتیں بھی ہوئیں۔ بیت اللہ شریف پر قبضے کی کوشش ہو، خمینی انقلاب کی نعرے بازی یا فرقہ ورانہ انفرادیت ایرانی زائرین کئی تلخ واقعات میں ملوث رہے ہیں۔ حالیہ واقعے کی ابتدائی اطلاعات کے مطابق بھی یہ المناک حادثہ بھی تین سو سے زائد ایرانی حجاج کی ون وے کی خلاف ورزی اور ہجوم کے درمیان رک کر نعرے بازی کے باعث پیش آیا ہے۔ اس واقعے کی وجہ بننے کے ساتھ ساتھ اس کے بعد انتہائی منظم انداز میں پروپیگنڈا کرنے اور جھوٹی ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے غلط فہمیاں پیدا کرنےسے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایران نے حج و عمرے کے مقدس فریضے اور حرمین الشریفین کی انتظامیہ کی سرتوڑ کوششوں کو شکوک وشبہات کی نظر کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

المیہ یہ ہے کہ تہران کی جانب سے مشرق وسطی میں بالادستی اور مغربی آشیر باد سے چوہدراہٹ کے خواب دیکھنے کی قیمت مظلوم مسلمانوں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ شام کے لاکھوں پناہ گزین دنیا بھر میں بھٹک رہے ہیں، یمن کا امن وامان تباہ ہو چکا ہے، عراق اور افغانستان میں ہر روز ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے خون مسلم بہایا جاتا ہے، بحرین، کویت اور سعودی عرب میں دہشت گردی کی کاروائیاں کی گئی ہیں۔ آخر میں ایک ایسی تلخ حقیقت کہ جس کا تعلق ہماری اپنی ارض وطن پاکستان سے ہے۔ گوادر کی بندرگاہ کا آباد ہونا ایران اپنے اقتصادی مفادات کے خلاف سمجھتا ہے اور اس کے توڑ کے لئے بھارت کے ساتھ ملکر بندرعباس کی تعمیر کا معاہدہ کیاگیا ہے۔ شائد بہت کم پاکستانی اس سے آگاہ ہوں کہ صوبہ بلوچستان میں موجود معدنی تیل کے وسائل سے ہماری قوم صرف اس لئے فائدہ نہیں اٹھا سکتی کیونکہ ایران نے ایک سابقہ حکومت کے ساتھ معاہدہ کر لیا تھا۔ ہمارے ملک میں جاری فرقہ ورانہ کشمکش اور بدامنی کے پیچھے ایرانی حمایت کسی سے مخفی نہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہمارے ہاں ابھی تک ایران مخالف جذبات کچھ زیادہ نہیں ابھارے گئے۔

کاش تہران میں بیٹھے پالیسی ساز عالم اسلام کی حالت زار پر رحم کرنے کے بارے میں سوچیں، انہیں احساس ہو کہ اہل مغرب کے ساتھ ملکر اپنے ہی ہمسایوں کو فتح کرنے کا خیال کچھ اتنا بھی قابل ستائش نہیں ہے۔ کاش تہران میں کوئی اہل بصیرت ان لاکھوں مسلمانوں کے دکھ کا اندازہ کر سکے کہ جنہیں بے گھر ہونا پڑا، جن کے اپنے زندگی کی بازی ہار گئے یا جن کے بچے جنگلوں، ویرانوں میں بے یارومددگار پڑے ہیں۔ علامہ اقبال نے تہران کو اہل مشرق کا جنیوا بنانے کا خواب دیکھا تھا یعنی ایک ایسا مرکز جس پر سب اعتماد کریں۔ لیکن اب تو ایسا لگتا ہے کہ ایران جنیوا والوں سے ملکر اہل مشرق کو دبانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ایران کو چاہیے کہ جنگی حکمت عملی، جذباتی منصوبہ بندی اور عناد وتعصب سے بھری سوچ کی بجائے ایک منصفانہ اور صلح جو طرز عمل کا مظاہرہ کرے۔

شائد اسی سے عالم اسلام کی مشکلات میں کمی آ سکے اور یقینا اس سے ایران کے مقام و مرتبے میں بھی اضافہ ہی ہو گا۔ کاش ایرانی پالیسی ساز مغربی آشیر باد سے علاقائی بالادستی کی بجائے اپنی عوام میں بے پناہ مقبول علامہ اقبال کے خواب کو ہی پورا کر نے کا سوچیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*