صفحہ اول > مضامین > اجتماعی نظام > پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ تحفظ خواتین بل کا جائزہ قرآن وسنت کی روشنی میں

پنجاب اسمبلی کے منظور کردہ تحفظ خواتین بل کا جائزہ قرآن وسنت کی روشنی میں

سینیٹر پروفیسر ساجد میر

sajid meerاس امر میں کوئی شک نہیں کہ جرائم کو روکنے اور مجرموں کو سزا دینے کے لئے قوانین بنانے پڑتے ہیں۔ شریعت مطہرہ میں جزا اور سزاکا نظام مقرر ہے۔ بعض سزائیں قرآن کی نصوص اور بعض رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مطہرہ سے ثابت ہیں، مگر کسی بھی معاشرے میں قانو ن سازی سے پہلے اس کے ماحول اور رجحانات کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔ زمینی حقائق اور مقامی کلچر کو نظر انداز کرکے محض اغیار کے معاشروں کو سامنے رکھ کر قانون سازی کی جائے گی تو سنگین قباحتیں جنم لیں گی۔ ہمارے ہاں لوگ جس قدر بھی بے راہ روی کا شکار ہوجائیں، ہمارا معاشرہ مغربی طرز زندگی یا ان کی اقدار کو اپنے ہاں کبھی جگہ نہیں دے سکتا۔ ویسے بھی اسلام کے عائلی یا خاندانی نظام کی تشکیل کے مقاصد میں حیا، پاکیزگی، طہارت، احترام اور تقدس کے رشتوں کو جو اہمیت دی گئی ہے، وہ مغربی معاشروں میں مفقود ہے۔

پاکستان میں عورتوں کے حقوق کا واویلا اور اس کی بنیاد پر تحریکیں، سیمینار اور سرگرمیاں ایک مستقل فیشن بن گیا ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ یہاں مسائل نہیں ہیں۔ عورتوں کو عملی زندگی میں بہت مشکلات کا سامنا ہے۔ مگر ان مسائل کے حل کے لئے اختیار کردہ طریقے اور اقدامات میں جب تعمیر سے زیادہ تخریب اور بگاڑ کا عنصر غالب ہوجاتا ہے اور مقصدیت فوت ہوجاتی ہے تو تحفظات جنم لیتے ہیں جو فطری ہیں۔ جنرل پرویزمشرف دور میں تحفظ حقوق نسواں بل پاس ہوا جو سراسر اسلام کے تصورشرم وحیا کے منافی تھا، اس پر بھی شوراٹھا اور دینی طبقات بشمول مسلم لیگ ن نے بھرپور مخالفت کی۔ آج ایک بار پھر پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے تحفظ خواتین بل پاس کیا ہے۔ جو دین، دینی اقدار، معاشرتی روایات، خاندانی نظام اور قرآن کی نصوص اور سنت مطہرہ سے متصادم ہے۔

مجرموں، ظالموں اور تشدد کرنے والوں سے کسی کو ہمدردی نہیں ہو سکتی، لیکن پنجاب حکومت کا فرض تھا کہ وہ تحفظ حقوق خواتین بل کی منظوری سے پہلے اسے مشتہر کرتی تاکہ اس قانون کے بارے میں بدگمانیاں پیدا نہ ہوتیں۔ جب کوئی قانون مشاورت اور بحث کے بغیر جلد بازی میں منظور کیا جاتا ہے تو اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ حکومت یہ قانون مخصوص مقاصد کے لئے لائی ہے۔مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر کی حیثیت سے مجھے وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے اس قانون کے متعلق اپنی سفارشات کے سلسلے میں وزیر قانون پنجاب کی وساطت سے خط موصول ہوا تھا۔ اس کی روشنی میں ہم نے بل کا بغور مطالعہ کیا ہے۔ ذیل میں اس کے شق وار جائزے کے ساتھ محل نظر نکات والفاظ پیش خدمت ہیں۔

٭ بل کے ابتدائیہ میں کہا گیا کہ ’’چونکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین(اصناف) کے مابین مساوات کی ضمانت دے کر ریاست کو خواتین کے تحفظ کے لئے کوئی خصوصی قانون وضع کرنے کا اختیار دیتا ہے‘‘ ۔۔۔ ’’اصناف‘‘ یعنی مرد اور عورت کے درمیان مساوات کا تصور سرے ہی سے غلط مفروضے پر قائم کیا گیا ہے۔ اسلام نے عورت کو بھی مرد کی طرح حقوق دیئے ہیں لیکن اس کے ساتھ سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 228 میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ ’’ لِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ‘‘ مردوں کو ان (عورتوں) پر کچھ برتری اور فضیلت حاصل ہے۔ قرآن مرد کی عورت پر قوامیت/ بالادستی کا واضح اعلان کرتا ہے۔ سورۃ النساء میں ہے کہ ’’اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ‘‘ (النسآء: 34) کہ ’’مرد عورتوں پر قوام ہیں۔‘‘

* پھر ابتدائی سطور میں کہا گیا کہ’’حسب منشا آزادانہ کردار ادا کرنے کے لئے خواتین کی حوصلہ افزائی کی جائے۔‘‘ اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔ ’’حسب منشا ‘‘ اور ’’آزادانہ‘‘ کی سوچ اسلامی نہیں مغربی ہے۔ یعنی جو اس کا دل چاہے۔ وہ رات کو ایک بجے گھر آئے، بوائے فرینڈز بنائے اور مادر پدرآزاد بن جائے کہ اسے کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔ یہ الفاظ دینی، اخلاقی اور معاشرتی لحاظ سے ناقابل قبول ہیں۔

٭ قانون ہذا کی تعریفات میں شق نمبر2 کی کلاز اے میں کہا گیا ہے کہ’’متاثرہ فرد ‘‘ سے مراد ایسی خاتون ہے جس پر مدعا علیہ نے تشدد کیا ہو۔ اس میں رشتے کی نشاندہی نہیں کی گئی۔ اس میں خاوند کے علاوہ باپ، بھائی بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ یعنی پورا خاندان بھی نشانے پر آسکتا ہے تاکہ وسیع پیمانے پر خاندانی انتشار پھیل جائے۔

٭ بل کے آرٹیکل 2 کے سب سیکشن آر میں تشدد کی تعریف یہ کی گئی ہے ’’ تشدد کا مطلب ہے کہ کوئی بھی جرم (جواس بل کے تحت ہو) جو صرف عورت کے خلاف کیا گیا ہو. جرائم یہ ہیں کہ عورت کو کسی جرم پر اکسانا، گھریلو تشدد(جو خاوند، بھائی بیٹا، شوہر کی طرف سے ہو)، جذباتی یا نفسیاتی تشدد یا گالم گلوچ یا معاشی استیصال، تعاقب یا سائبر کرائم شامل ہیں۔‘‘ بل میں متاثرہ کے علاوہ ماں، باپ، بھائی، شوہر اور گھریلو خواتین کو مجرم اور ظالم بنا کر پیش کیا گیا ہے، اور نفسیاتی، جذباتی تشدد یا گالم گلوچ کے ذریعے ہر اس تربیتی سرزنش اور پوچھ گچھ کو شامل کردیا ہے جو گھر والوں کی طرف سے بگڑی ہوئی گھر کی خاتون سے ہو، جبکہ اسلام میں ہلکی پھلکی تادیبی سزا کو قابل مواخذہ تشدد شمار نہیں کیا۔ لہٰذا اسے بھی قابل سزاتشدد میں شامل کرنا اسلام کی تعلیمات سے رو گردانی کے سوا کیا ہو سکتاہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَالّٰتِی تَخَافْونَ نُشُوْزَھْنَّ فَعِظُوْھُنَّ وَاھْجُرُوْھُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوھُنَّ فَاِن اَطَعنَکْم فَلَا تَبْغُوْا عَلَیھِنَّ سَبِیْلًا اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیًّا کَبِیْرًا) (سورۃ النسآء: 34) ترجمہ: ’’جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا خطرہ ہو تو انہیں سمجھاؤ(سمجھاتے ہوئے آواز کی پستی یا اونچائی کو یا پوچھ گچھ کو تعاقب کے تحت موجودہ ایکٹ میں قابل گرفت بنایا گیا) اور بستر میں انہیں جدا کر دو (اُسے ’’جذباتی یا نفسیاتی تشدد‘‘ کے لفظ سے قابل گرفت قرار دیا ہے) اور مارو(تادیبی مار کو بھی قابل گرفت بنا دیا)، پھر اگر تمہارا کہا مان جائیں تو ان پر الزام لگانے کے لئے بہانے مت تلاش کرو، بے شک اللہ سب سے اوپر بڑا ہے۔‘‘

یہ ایک غلط مفروضہ ہے کہ اسلام کی نظر میں عورت اور مرد کے حقوق برابر ہیں۔ ہمیں یہ معذرت خواہانہ اندازترک کردینا چاہیے۔ بلاشبہ اسلام نے عورت کو جائز مقام اور حقوق دیئے ہیں۔ اسے گھر کی ملکہ بنایا ہے۔ تاہم گھر کا سربراہ مرد کو ہی بنایا گیا ہے۔ مرد اور عورت کے حقوق برابر نہیں ہیں۔ مرد کو عورت پر کئی اعتبار سے فوقیت حاصل ہے۔ قرآن کی واضح نص ہے کہ اگر تم کواپنے نشوز/ بغاوت کا خطرہ ہو تو تم ہلکی پھلکی پٹائی کرسکتے ہو۔ اس میں تمام آئمہ کرام اور ان کی فقہی آراء ملتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مار پیٹ سے منع نہیں کیا تاہم اسے ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ چہرے پر نہ مارو، وحشیانہ تشدد نہ کرو، مقصد انہیں اصلاح کی طرف لانا ہے۔ یہ انتقامی سزا نہیں۔

٭ کلاز (آر) میں تشدد کی وضاحت نہیں کی گئی، جنسی تشدد اور نفسیاتی دباؤ کی بات بھی کی گئی۔ عورت کے پاس تشدد کے ثبوت کی سچائی کی کیا ضمانت ہو گی؟، کیا ہمارے ہاں جعلی میڈیکل سرٹیفیکیٹ نہیں بن جاتے۔ نفسیاتی لحاظ سے وہ جو مرضی الزام لگام دے اس کا ثبوت کیا ہوگا؟ یہ رویہ خاندان میں فساد کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔

٭ سیکشن نمبر آٹھ میں ولی کی اسلامی اصطلاح کی یکسر نفی کی گئی ہے۔ شریعت کا مزاج تو یہ ہے کہ شیلٹر ہوم سے پہلے خاندان کا ادارہ اتنا مضبوط ہونا چاہئے کہ خاندان کا کوئی سر پرست، کوئی بزرگ، کوئی و لی بن کر معاملات کو گھر سے نکلنے سے پہلے ہی حل کر دے، جیسا کہ سورۃ النساء کی آیت نمبر 35 نے ذکر کیا ہے۔

٭ سیکشن گیارہ کے سب سیکشن تین میں لکھا ہے کہ حکومت ہر ضلع میں پروٹیکشن کمیٹی میں دوسول سوسائٹی کی خواتین اور چارمخیر لوگوں کو بھی شامل کرے گی۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ متاثرہ خواتین کا خاندان اس کی حفاظت کا زیادہ حق دار ہے کہ این جی اوز کی عورتیں؟ کمیٹی کے فرائض سیکشن بارہ کا سب سیکشن اے ۔ ای۔ ایل میں پروٹیکشن سنٹر کی کارگزاری کی نگرانی، تشخیص کے نظام اور وہاں پر سر گرمیوں اورمتاثرہ خواتین کے داخلہ اور انخلاء کی شقوں میں سوالات پیدا ہورہے ہیں کہ یہاں پر اسلام وقانون اور معاشرہ لوگوں کے درمیان اصلاح کا اور جوڑ نے کا سلسلہ پیدا کرنا چاہتا ہے جبکہ اس بل میں کہا گیا ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے ایسے جدا کیا جائے گا کہ نہ ایک دوسرے سے مل سکیں اور نہ ہی کوئی بات چیت کر سکیں۔ اگر ماں باپ اپنے بچوں کو کسی غلط آدمی سے نہ ملنے کی پابندی لگائیں گے تو یہ قانون انہیں روکتا ہے کہ آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔

٭ سیکشن بارہ کے سب سیکشن ایم کے کلاز نمبر 2 میں درج ہے کہ اس نظام کو چلانے کے لئے عطیات وصول کئے جائیں گے۔ اگرحکومت کے پاس بجٹ نہیں تو یہ اخراجات کہاں سے پورے کئے جائیں گے۔ اس کا مطلب ہے جو بھی ڈونر ایجنسی ہوگی وہ پیسہ اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے دے گی جس کا اپنا ایجنڈا ہو گا۔

٭ اس بل کی تحت پروٹیکشن کمیٹی ایک این جی اوکی شکل میں وجود میں آئے گی، جو سارے انتظامات کرے گی اور اس پر برائے نام حکومتی نگرانی ہو گی۔ بل کو عملی شکل دینے کے لئے جتنے بھی امور طے کرنا ہوں گے، ان کے بارے میں سیکشن بارہ کے سب سیکشن ایم کے کلاز 2 میں درج ہے کہ اس طرح دیگر افعال کو سر انجام دینے کے لئے حکومت کی طرف سے اس(یعنی دار الامان اوردیگر متعلقہ معاملات) کو (این جی اوکے) سپرد کیا جا سکتا ہے۔ مندرجہ بالا افعال میں سے ہر ایک فعل کے یا قانون کے مقاصد پورے کرنے کے انتظامات ماتحتی (یعنی برائے نام حکومتی نگرانی) میں ہوں گے۔

٭ سیکشن چودہ کلاز ڈی کے تحت عورت دو دن کے لئے شوہر، باپ بھائی یا کسی کو بھی گھر سے نکال سکتی ہے۔ یعنی شیلٹر ہوم مالکان حکومتی سر پرستی میں ان خونی رشتہ داروں کو تو ہلکی پھلکی تربیتی سرزنش کرنے پر بھی گھر سے نکال سکتے ہیں۔ ظاہر ہے حکومت اس سے یہی توقع لگائے بیٹھی ہو گی کہ یہ خاندان مضبوط ہو رہا ہے اور اسلام کے عین مطابق گھر والوں کو گھر سے نکالا جارہا ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے! حالانکہ اللہ تعالیٰ نے گھر والوں کو گھر سے نکالنے سے سختی سے منع کرتے ہوئے اسے گناہ اور ظلم قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

ولَا تُخرِجُونَ َ انْفُسَکُمْ مِنْ دِیارِکُمْ۔ (البقرہ: 84)

ترجمہ:اور نہ اپنے بھائی بندوں کو ان کے گھروں سے جلاوطن کرو گے۔

اس کے ساتھ اگلی آیت میں فرمایا کہ 

وَتُخرِجُونَ فَرِیْقًا مِّنْکُمْ مِنْ دِیَارِھِِمْ تَظٰھَرُوْنَ عَلَیھِم بِالْاِثْمِ وَالعُدْوَانِ۔ (البقرہ: 85)

ترجمہ: اپنے ہی لوگوں میں سے کچھ لوگوں کو ان کے گھروں سے جلاوطن کردیتے ہو۔ پھر ازراہ ظلم و زیادتی ان کے خلاف چڑھ چڑھ کر آتے ہو۔

باپ، بھائی، شوہر جو گھر کے مالکان میں شامل ہیں، انہیں گھر سے نکال دینا خلاف اسلام نہیں تو اور کیا ہے؟۔ حتی کہ خواتین بل کے مطابق متاثرہ خاتون کو بھی کسی محرم اور دیگر گھریلو خواتین کے بغیر اٹھا کر لے جانا اسلام کی تعلیمات کی سخت مخالفت کے سوا کچھ نہیں ہے۔

ان سب خلاف اسلام اقدامات کے باوجود عام انسانی ناطے سے بھی گھر کے مالکوں میں شامل مردوں کو گھر سے نکالنے کے بعد پیچھے گھر کی عورتوں یا بچوں کو کون سنبھالے گا؟ کوئی ایمرجنسی ہوجائے تو کیا ہو گا؟ اس ساری صورت حال کو نظر انداز کرنے کا ایک ہی مقصد سامنے آتا ہے کہ گھر کی خواتین کو اپنے مردوں سے جو معاشی یا خاندانی حقوق یا فوائد حاصل ہیں، ان سے انہیں محروم کر دیا جائے۔ کمیٹی خاندان کے افراد کی بجائے این جی او پر مشتمل ہو گی تو یہ محبت ومودت پر مشتمل خاندانی نظام کو کیسے مضبوط ومستحکم کرے گی۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق زوجین اور خونی رشتوں سے بڑھ کر محبت ومودت کہیں اور نہیں پائی جاتی۔ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے:

لَم یُرَ لِلْمُتَحَابَّینِ مِثلْ النِّکَاحِ۔ (صحیح الجامع البانی: 5200،السلسلۃ الصحیحۃ: 642)

’’نکاح کرنے والے جوڑے کے درمیان جو محبت ہوتی ہے، اس جیسی محبت کسی اور جوڑے میں نہیں دیکھی گئی‘‘

لہٰذا ان محبت ومودت والے مضبوط رشتوں کو کسی بھی وجہ سے خاندانی این جی او کے سپرد کرکے نفرت ومنافرت میں بدلنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ جبکہ خاندان کو جوڑنے کے لئے اور بگڑے گھریلو ماحول کو باوقار انداز میں حل کرنے کے لئے تعلیمات الہٰیہ پہلے ہی موجود ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

وَاِن خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّن اَھْلِہٖ وَحَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَا اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَھُمَا اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا۔ (النسآء: 35

’’ اور اگر تمہیں کہیں میاں بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا خطرہ ہو تو ایک منصف شخص کو مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف شخص کو عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو، اگر یہ دونوں صلح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان دونوں میں موافقت کر دے گا، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا خبردار ہے۔‘‘

لہٰذا اس بل کو اسلامی تعلیمات کے سخت مخالف تو قردار دیا جا سکتا ہے، کسی صورت اسلامی نہیں کہا جا سکتاہے۔

٭ بل میں گھریلو تشدد کی تعریف کرتے ہوئے سب سیکشن ایچ میں کہا گیا ہے کہ: ’’ گھریلو تشدد سے مراد وہ تشدد ہے جو مدعا علیہ(یعنی گھر میں موجود تمام مرد وخواتین سوائے متاثرہ خاتون کے) کی طرف سے متاثرہ شخص (یعنی صرف متاثرہ خاتون) پر حالیہ گھر(یعنی جس گھر میں رہ رہی ہے ) میں کیا گیا ہو، جبکہ مدعا علیہ اس کا قریبی رشتہ دار(ماموں، چچا یا کوئی خونی یا محرم رشتہ دار)، خاوند یا مختار(باپ، ماں، باقی بہنیں یا بھائی وغیرہ) ہو۔‘‘

گھریلو تشدد میں تمام مرد وخواتین کو شامل کرکے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اگر کوئی لڑکی یا خاتون کسی بھی طرح کے کرتوت کر کے گھر آجائے تو گھر میں اس سے کوئی اخلاقاً بھی نہیں پوچھ سکتا، اگر پوچھے گا تو وہ تشدد ہو گا اور تشدد کی سزا گھر سے باہر نکالنے اور کڑا پہنا کر ذلیل کرنا بتلائی گئی ہے۔ ظاہر ہے اس سے معاشرے میں صرف غیر اخلاقی خرابیاں ہی پیدا ہونگی۔

اس بل کے سیکشن سات میں مردوں کے لئے جو سزا کا طریقہ تجویز کیا گیا ہے۔اس نے تو حد ہی کر دی ہے۔

سیکشن سات کی شق (اے )کے تحت متاثرہ شخص اور مدعا علیہ (مرد بھائی، بیٹا، باپ اور شوہر یا کوئی بھی قریبی رشتہ دار) کو ملنے نہیں دیا جائے گا۔

شق (بی) کے تحت متاثرہ عورت کے پاس جانے کی بھی پابندی ہو گی۔

شق (سی) کے تحت مرد کو شہر بدر یا علاقہ بدر بھی کیا جا سکتا ہے اور یہ، فیصلہ کورٹ (پولیس کے جھوٹے سچے کیس کے مطابق ) کر ے گی۔

شق (ڈی) کے مطابق، مدعا علیہ (مرد) کو چوبیس گھنٹے کے لئے کڑا پہنایا جائے گا۔

شق ( ای) کے تحت گھر سے نکال دیا جائے گا۔

شق (ایف) کے مطابق اس سے ہر قسم کے ہتھیار واپس لے لئے جائیں گے۔ شق جی کے مطابق کسی ذریعے سے بھی عورت سے رابطہ قابل سزا جرم ہو گا۔

شق ( ایچ) کے مطابق جس گھر میں عورت ہوگی اس گھر میں بھی مرد کو نہیں آنے دیا جائے گا اورجہاں متاثرہ عورت زیادہ آتی جاتی ہو یعنی میکے وغیرہ، یا جہاں عورت ملازمت کرتی ہو، وہاں بھی نہیں جا سکے گا۔

شق( آئی) کے تحت کسی رشتہ دار یا کسی کو بھی (ماں، باپ تک کو بھی) درمیان میں رابطے کا ذریعہ نہیں بننے دیا جائے گا۔

شق (جے) کے مطابق بچے عورت کی تحویل میں رہیں گے۔

ناچاقی اور جھگڑے کی صورت میں مرد کو عورت سے بات کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہوگا جبکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق کہ پہلی اسٹیج پر باہمی بات چیت سے مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے۔ اگر معاملات حل نہ ہوسکیں تو پھر بستر جدا کردئیے جائیں۔ اس بل کے تحت مرد کے لئے سسرال سے رابطہ کرکے انہیں متاثرہ خاتون کے قابل سزا جرائم (اگر اس متاثرہ عورت سے سر زد ہوا ہو) سے آگاہ بھی نہیں کر سکے گا۔ حالانکہ اسلام میں ساس کو ماں کا درجہ دیا گیا ہے۔ لہٰذا کسی شخص کو اپنی صفائی کے لئے گھر میں ہی موقع فراہم نہ کرنا عقل ودانش کے منافی اور خاندانی نظام کی بربادی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؟۔

اس سیکشن میں تو ممکن حد تک کوشش کی گئی ہے کہ ایک بار جس گھر میں ہلکی سی چپقلش کا شعلہ بھڑکے، تو اسے حکومتی سرپرستی میں جہنم کی آگ کی طرح دہکا کر پورے گھرکو اس میں جلا دیا جائے۔ جبکہ اسلام میں شوہر کو تو طلاق رجعی کے فوراً بعد بھی میل جول اور رجوع کے ذریعے صلح کا پورا موقع دیا گیا ہے اورمیل جول کے دیگر خاندانی ذرائع بھی پیدا کئے گئے ہیں۔

اس بل کی اس طرح کی شقیں مرد بالخصوص ایک شوہر کے لئے صلح کے ہر دروازے کو بند کرتی ہیں اور ظاہر کرتی ہیں کہ مرد (شوہر، بھائی، خاوند وغیرہ) ظالم، وحشی اور پاگل پن کے دورے پڑنے والی ایک عجیب شے ہے جس سے ہر صورت بچنا چاہیے۔ جبکہ اپنے ایجنڈ ے کے تحت فنڈ مہیا کرنے والی این جی او کے غیر محرم افراد جو خاندان کے علاوہ ہوں گے، پر مشتمل تحفظ خواتین کمیٹی کو عورت کے تحفظ کی ذمہ داری سونپی جا رہی ہے۔ حکومتی بل کی نظر میں غیر اسلامی تصور پر مبنی این جی اوزتو خیر خواہ اور عورت کی رکھوالی کی حق دار ہیں، جبکہ ساری زندگی جس خاندان یا گھر کے ساتھ تعلق رہا اور جس نے بھائی، باپ، بیٹے یا شوہر بن کر ہر طرح کاخیال کیا، اسے این جی او کی طرف سے عدالتی اور پولیس کے نظام کی مدد سے سب سے بڑا ظالم اور جابر بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اور اگر عدالت مرد کو بری بھی کر دے گی تو جو اس وقت تک اس مرد کی اور باقی گھر والی خواتین کی اہانت ہو چکی ہو گی، اس کا ازالہ کون کر ے گا؟۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ این جی او جو حکومت کو پیسے دے کر اپنے خاص ایجنڈا کے تحت شیلٹر ہوم قائم کرے گی اور متاثرہ عورت کی اصلی وارث اور نگران بن کر حقیقی وارثان کے خلاف محاذ قائم کرنے کی مجاز ہو گی۔تواسے اسلام کی تربیت کے اخلاقی نظام پر قانونی وار کے علاوہ کیا کہا سکتا ہے۔

دوسرے پہلو پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے عورت کے تمام اخراجات پورے کرنے کی ذمہ داری اس کے نگران یعنی باپ، بھائی، بیٹے یا شوہر کی مقرر کی ہے۔ اس سیکشن کے ذریعے خاندان میں انتہائی دوری پیدا کی گئی ہے اور بادی النظر میں مرد کو نان ونفقہ کی شرعی ذمہ داری سے بر ی کرنے کی طرف قانونی قدم اٹھایا گیا ہے۔ عورت کے اس اسلامی وشرعی حق اور فوائد کو کورٹ وکچہری اور بگڑے ہوئے پولیس کے نظام کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور یہ سارا بوجھ اور ذلالت، تحفظ اور آزادی کے پرُفریب لبادے میں لپیٹ کر عورتوں کو تھمانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جبکہ بل کی اکثر شقیں اپنے عمل میں اسی طرح شرعی نصوص کے صریحاًخلاف ہیں۔ لہٰذا ان سب حقائق کے باوجود اس بل کو اسلام کے عین مطابق کہنا ڈھٹائی، جھوٹ اور جہالت کے سوا کچھ نہیں۔

اسلام میں تو طلاق کے بعد بھی عورت کو مرد سے اتنا دور نہیں کیا گیا جتنا اس بل میں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بلکہ وہاں توکئی معاملات میں مشاورت کی اجازت دی گئی ہے، تاکہ باہمی معاملات احترام سے سدھریں اور بگڑنے کی بجائے گھریلو مشاورت سے حل ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

اَسکِنُوْھُنَّ مِن حَیثُ سَکَنْتُمْ مِن وُّجْدِکُمْ وَلَا تُضَآرُّوْھُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْھِنَّ وَاِنْ کُنَّ اُوْلَاتِ حَمْلٍ فَاَنفِقُوْا عَلَیْھِنَّ حَتّٰی یَضَعْنَ حَمْلَھُنَّ فَاِن اَرْضَعْنَ لَکُمْ فَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ وَاْتَمِرُوْا بَیْنَکُمْ بِمَعْرُوْفٍ وَاِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَہٗ اُخْرٰی لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَۃٍ مِّنْ سَعَتِہٖ وَمَنْ قُدِرَ عَلَیْہِ رِزْقُہٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّآ اٰتٰہُ اللّٰہُ لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا مَآ اٰتٰہُ سَیَجْعَلُ اللّٰہُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۔ (الطلاق 7-6)

’’ تم اپنی طاقت کے مطابق جہاں تم رہتے ہو وہاں ان (طلاق والی) عورتوں کو رکھو اور انہیں تنگ کرنے کے لئے تکلیف نہ پہنچاؤ اور اگر وہ حمل سے ہوں تو جب تک بچہ پیدا ہولے انہیں خرچ دیتے رہا کرو پھر اگر تمہارے کہنے سے وہی دودھ پلائیں تو تم انہیں ان کی اجرت دے دو اور باہم مناسب طور پر مشورہ کرلیا کرو اور اگر تم آپس میں کشمکش کرو تو اس کے کہنے سے کوئی اور دودھ پلائے گی۔ کشادگی والے کو اپنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہیے اور جس پر اس کے رزق کی تنگی کی گئی ہو اسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھا ہے اسی میں سے (اپنی حسب حیثیت) دے، کسی شخص کو اللہ تکلیف نہیں دیتا مگر اتنی ہی جتنی طاقت اسے دے رکھی ہے، اللہ تنگی کے بعد آسانی وفراغت بھی کر دے گا۔‘‘

حتیٰ کہ والدین کو بھی اسی خانے میں رکھا گیا ہے۔ جو اسلامی منشاء کے سراسر خلاف ہے۔ اس بل کے تحت اگران جی اوز کی نظر میں متاثرہ خاتون کے والدین بھی شوہر کی طرف سے صلح کا پیغام لے کر آئیں، انہیں بھی دور ہی رکھا جائے گا اور اس کا فیصلہ کمیٹی کرے گی کہ انہیں ملنے دیا جائے یا نہیں؟ حقیقی وارثان سے بذریعہ قانون دوری اسلام کے دئیے گئے حق نگرانی اور حق ولایت کے خلاف ایک قانونی وحکومتی عمل ہے کہ وہ اسلام کی تعلیمات کی صریح مخالفت کے علاوہ کچھ نہیں ۔

بل کے سیکشن سات کے سب سیکشن ڈی کے تحت درج ہے کہ: ’’مدعاعلیہ کو 24 گھنٹے کے لئے جی پی ایس ٹریکر والا کلائی یا ٹخنے کا کڑا پہنایا جائے‘‘۔ مرد ایک نگران کی حیثیت رکھتا ہے (کلکم راع وکلکم مسؤول عن رعیتہ) والی حدیث کے تحت ایک مرد سربراہ اپنے ماتحت مردوں اور عورتوں کا ذمہ دار ہے۔ اصلی اور جعلی ووٹوں سے منتخب ایک ملکی وزیر اعظم (جوملک کا نگران ہوتا ہے) کو نگرانی سے ہٹا کر بیڑیاں ڈالیں جائیں، اور پھر سلاخوں کے پیچھے ڈالا جائے تو آئین پاکستان چیخ اٹھتا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت یہ ملکی آئین سے غداری ہے۔ ایک گھر کی خاندانی سلطنت کے نگران کو سلطنت سے باہر اس حالت میں نکالا جائے کہ کلائی یا ٹخنے میں کڑا لگا ہو تو یہ اسلام کے معاشرتی نظام کے تحت غداری کیوں نہیں؟ مغربی معاشروں میں یہ کلائی یا ٹخنے کا کڑا عموماً پیرول پر رہائی پانے والے شخص کی نگرانی کے لئے پہنایا جاتا ہے۔ اور یہاں گھریلو مردوں پر نظر رکھنے کے لئے، کتنی مضحکہ خیز حرکت ہے۔

٭ بل کے سیکشن آٹھ کے سب سیکشن (ڈی) میں ہے۔ ریلیف، حفاظت اور بحالی کے لئے متاثرہ شخص (بیٹی، بیوی، ماں، بہن، بالغ یا نابالغ لڑکی) کو گھر سے شیلٹر ہوم میں منتقل کیا جائے گا۔

شیلٹر ہوم کے تصور کی بجائے گھر کے نظام کو مزید مؤثر کرنا چاہیے تھا تاکہ معاملہ گھر سے نکلے ہی کیوں۔ میاں بیوی کے درمیان گھریلو معاملات کی درستگی کے لئے سرکار کو زیادہ سے زیادہ سرکاری سطح پر ایک بندہ شوہر کے گھر والوں سے اور ایک لڑکی کے گھر والوں کی طرف سے مقرر کرنا چاہیے اور انہیں بیٹھ کر صلح صفائی سے معاملے کو کسی نہج تک پہنچانا چاہیے۔ اور اگر بیوی کے علاوہ معاملہ بہن، بیٹی یا ماں کا ہے تو باقی رشتہ داروں کو اس معاملے میں شامل کر وا کر حل کروانا چاہیے۔ تاکہ گھر کا معاملہ گھر میں ہی حل ہو جائے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ :

وَاِن خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا فَابْعَثُوا حَکَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَحَکَمًا مِّنْ اَھْلِھَا اِن یُّرِیْدَآ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَھُمَا۔ (النساء 35)

اور اگر تمہیں کہیں میاں بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا خطرہ ہو تو ایک منصف شخص کو مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف شخص کو عورت کے خاندان میں سے مقرر کرو، اگر یہ دونوں صلح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان دونوں میں موافقت کر دے گا۔

شیلٹر ہوم میں محرم اور غیر محرم کا تصور ہی نہیں ہوگا اور شرعی ولی اور وارثوں کو بالکل ہی دور کر دیا جائے گا۔ دراصل بادی النظر میں ولی کے اسلامی اختیارات کو بالکل ختم کرنے کی جانب قدم بڑھایا گیا ہے، اسلامی تعلیمات میں تو مرد کے فوت ہوجانے یا طلاق کی صورت میں بھی عورت کو گھر سے کسی اورجگہ نکالنے پر پابندی ہے۔ جبکہ یہاں جھوٹی کال پر بھی گھریلو نگرانوں سے پوچھے بغیر اغوا کیا جا رہا ہے۔ جب کسی معاملے کے حل کے لئے عبارۃ النص قرآن یا حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہو، تو اسے چھوڑ کر اپنی خواہش کے مطابق اسی معاملے کے حل کے لئے کوئی نئی صورت سامنے لے آنا اسلام کی مخالفت کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ اسلام اور گھریلو خواتین مخالف بل کو اسلامی تعلیمات کے مطابق کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔

٭ بل میں داخلہ کا اختیار سیکشن 15 کے سب سیکشن ایک میں درج ہے کہ: ’’ضلعی تحفظ خواتین آفیسر یا تحفظ خواتین آفیسر کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ یا گھر میں داخل ہو سکتے ہیں‘‘۔ مگر آفیسر یا سرکاری نمائندے متاثرہ شخص کو اس کی اجازت سے ہی ریسکیو کریں گے۔ یہ سیکشن چادر، چار دیواری اور پرائیویسی کے تحفظ کو پامال کرتا ہے اور جبکہ اسلامی تعلیمات میں تو گھر کے افراد کو بھی گھر میں داخل ہوتے وقت اجازت کی تلقین کی گئی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِکُمْ حَتّٰی تَسَتَأْنِسُوْا وَتُسَلِّمُوْا عَلآی اَھْلِھَا ذٰلِکُمْ خَیْرٌ ّ لَکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ۔ (النور 27)

اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا اور کسی کے گھروں میں نہ جایا کرو جب تک اجازت نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ کرلو، یہ تمہارے لئے بہتر ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔‘‘

اور ایک حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے کہ :

الاستئذان ثلاث فان اذن لکم والا فارجع۔ (مسلم شریف 2153)

اجازت تین بار ہے، اگر اجازت دی جائے تو(ٹھیک) وگرنہ لوٹ جاؤ۔

سب سیکشن 2 یا 3 میں اگرچہ برائے نام سربراہ گھر کو نوٹس دینے کا کہا گیا ہے، مگر اجازت نہ ملنے پر کھڑکیاں دروازے توڑنے کی دھمکی اور بھاری جرمانے کے ڈراوے دے کر اس نوٹس کی بے اہمیتی کو بھی واضح کر دیا گیا ہے۔ یعنی جب کسی کا دل چاہے گا، وہ بلا وارنٹ گھر میں داخل ہو سکے گا۔ جو چادر اور چار دیواری اور شرف انسانی اور گھر کی خلوت کی حرمت کی پامالی کی باعث ہوگی۔

یہ بات آئین پاکستان کے آرٹیکل 14 کے بھی خلاف ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل چودہ کے سیکشن 1 میں درج ہے۔ ’’شرف انسانی اور قانون کے تابع، گھر کی خلوت قابل حرمت ہوگی‘‘۔ آئین پاکستان کی دفعا ت 8 تا 28 عورتوں کے تمام حقوق کا احاطہ کر رہی ہیں جن پر عملدرآمد سے معاشرے میں خواتین کو بہترین مقام دلایا جا سکتا ہے مگر ان پر عمل کرنے کی بجائے نیا مغربی طرز کا قانون بنانے کی ضرورت سوائے اغیار کو خوش کرنے کے اور کیا سمجھی جا سکتی ہے؟۔ بل عورت کے لئے مفید ہو گا یا نقصان دہ، ذرا سوچئے!

جیل جانے اور پولیس والوں کے ہاتھوں ذلیل ہونے کے بعد کسی مرد کا دل نہیں چاہ رہا کہ وہ دوبارہ گھر آکر اس بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے یا مطیع وفرمان بردار بن کر رہے۔ لہٰذا حکومت کوغور کرنا چاہیے کہ جس تشدد سے بچانے کے لئے اور عورت کے تحفظ وناموس کے لئے اس بل کو منظور کیا گیا ہے، کہیں اس نے عورت کو غیر محفوظ تو نہیں کر دیا؟

٭ اصل مسئلہ اسلامی تعلیم وتربیت کا فقدان اور اخلاقیات سے محرومی ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات تشدد کے واقعات ہوتے ہیں جو ظلم کے دائرے میں آتے ہیں لیکن ایسا صرف مرد ہی کی طرف سے نہیں‘ بلکہ عورت کی طرف سے بھی مختلف طریقوں سے ہوتا ہے۔ اس لئے صرف مرد ہی کو ذمہ دار ٹھہرا کر صرف عورت ہی کی داد رسی کے لئے قانون سازی کرنا عورت کو مزید سرکش بنانا ہے۔ یہ مرد کی غیرت وقوامیت کے خلاف ہے۔ اس کا اصل حل، محلوں کی سطح پر‘ پنچائتی نظام کا قیام ہے۔ (وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا) جو فوری طور پر فریقین کی باتیں سن کر فیصلہ کرے۔ ان کو مناسب اختیارات بھی دیئے جا سکتے ہیں تا کہ حتی الامکان عدالتی چارہ جوئی تک نوبت نہ آئے جو ہمارے ملک میں مہنگی اور لمبی ہے۔ جہاں تک تشدد کے حقیقی واقعات کا تعلق ہے ان کا ازالہ اور ان کی سزا کے لئے فوجداری قوانین پہلے ہی موجود ہیں۔ نئے متنازعہ بل کی بجائے ان کا نفاذ ہی کافی ہے۔

٭ علاوہ ازیں اس کے لئے ایک ہی وقت میں تین طلاقیں کے دینے کو بھی سخت جرم قرار دیا جائے۔ بیک وقت تین طلاقیں لکھ کر دینے والے عرضی نویسوں، وکیلوں کو بھی مجرم قرار دیا جائے تاکہ لوگ شرعی طریقے سے صرف حالت طہر میں بغیر صحبت کئے صرف ایک طلاق دیں۔ صرف اس ایک اقدام ہی سے پچاس فی صد گھریلو جھگڑے آسانی سے حل ہو سکتے ہیں یا وہ تباہی سے بچ سکتے ہیں۔

٭ وراثت میں عورت کو محروم کرنے کی بابت بھی سخت قوانین بنائے جائیں۔

جہاں تک ہمارے معاشرے میں عورتوں پر تشدد کا تعلق ہے تو اس کی وجوہات جانے بغیر یک طرفہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے نزدیک بل کی تیاری میں ایک ماڈرن مغرب زدہ عورت کو سامنے رکھاگیا۔ جس میں مرد کے حقوق اور اس کی شرعی فوقیت بری طرح نظرانداز کی گئی ہے۔ اس کی ہر ہر شق عورت کے ارد گرد گھومتی اور مرد کو دی گئی دینی اور آئینی برتری تو کجا اس کے شرعی حقوق کو بھی دبا دیا گیا ہے۔ اس بل کی شقوں کے بغور مطالعہ کے بعد مردوں کے حقوق کے لئے ایک الگ بل کی ضرورت کا احسا س جنم لے رہا ہے۔

اس میں اکثر سزائیں عدالت کی صوابدید پر چھوڑی گئی ہیں۔ ان کے لئے مناسب شہادت کا اہتمام ہے اور نہ ذکر۔ لہٰذا کرپشن کے نتیجے میں عدالت کوئی بھی حکم صادر کرسکتی ہے۔ ہم اس یکطرفہ بل کو مسترد کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بل مغرب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے بنایا گیاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*