صفحہ اول > مضامین > خطبات حرمین > مسیحِ دجال: قیامت کی ایک بڑی نشانی

مسیحِ دجال: قیامت کی ایک بڑی نشانی

امام مسجد نبوی الشیخ ڈاکٹر عبدالمحسن القاسم ….. 12محرم بمطابق 15نومبر2013ء

حمد وثناء کے بعد، اے اہل اسلام!
اللہ تعالیٰ نے اس امت کو آخری امت بنایا ہے۔ اسی میں علاماتِ قیامت نمودار ہوں گی اور اسی پر قیامت قائم ہو گی۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے قرب کی بھی خبر دی ہے اور فرمایا:

’’ اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ ‘‘ (القمر: ۱)
”قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔”

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب قیامت کا ذکر کیا کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں، آواز میں بلندی آ جاتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جوش ہو جاتے اور یوں محسوس ہوتا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی لشکر سے ڈراتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ ”صبح آیا یا شام آیا۔” (مسلم)

مشرکین نے کئی مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے وقت کے بارے میں پوچھا:
”یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہوگی؟ کہو اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے، اْسے اپنے وقت پر وہی ظاہر کرے گا، آسمانوں اور زمین میں وہ بڑا سخت وقت ہوگا وہ تم پر اچانک آ جائے گا۔”(الاعراف:187)
اللہ کی اپنے بندوں پر رحمت کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اس نے قیامت کی کچھ نشانیاں مقرر کر دیں تاکہ لوگ اپنے رب کی طرف پلٹ آئیں اور اللہ تعالیٰ نے اس کی قربت کی نشانیاں بتائیں اور کہا:

’’ فَہَلْ یَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَۃَ أَن تَأْتِیَہُم بَغْتَۃً فَقَدْ جَاء أَشْرَاطُہَا ‘‘ (محمد: ۱۸)
”اب کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک اِن پر آ جائے؟ اْس کی علامات تو آ چکی ہیں۔”

قیامت کی بڑی علامات جب ایک مرتبہ شروع ہوں گی تو یہ زنجیر کی مانند ایک دوسری سے پیوست ہوں گی۔ انہی میں سے ایک بڑا معاملہ ہے جس کو اللہ نے قیامت کی علامت بنایا ہے اور ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

”کوئی نبی ایسا نہیں جس نے اپنی امت کو اس سے نہ ڈرایا ہو، نوح علیہ السلام اور ان کے بعد تمام انبیاء نے اس سے متنبہ کیا ہے۔” (بخاری)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی امت کو اس سے ڈراتے ہوئے فرمایا کہ؛ ”میں تمہیں اس سے متنبہ کرتا ہوں۔” (بخاری)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں اس کے فتنے سے پناہ مانگا کرتے تھے اور اس سے پناہ مانگنے کی دعا اپنے صحابہ کو قرآن کی کسی سورت کی مانند سکھایا کرتے۔ اپنے صحابہؓ کو وعظ کرتے اور انہیں بتاتے کہ یہ معاملہ قریب ہی ہے۔ حضرت نواس بن سمعان فرماتے ہیں کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انداز گفتگو سے) ہم نے محسوس کیا کہ گویا وہ ان کھجوروں کے جھنڈ کے پاس ہے جہاں اس وقت ہم بیٹھے ہوئے تھے۔”

سلف صالحین وقتاً فوقتاً اس سے تذکیر کا حکم دیا کرتے تھے۔ سفارینی فرماتے ہیں: ”ہر عالم کو چاہئے کہ دجال سے متعلقہ احادیث اپنی اولاد، عورتوں اور مردوں میں پھیلا دے۔ بالخصوص ہمارے اس دور میں جب کہ فتنے سر اٹھانے لگے ہیں، آزمائشوں کی بہتات ہے اور سنت کے آثار ماند پڑ چکے ہیں۔

دجال اس وقت بھی ایک سمندری جزیرے پر کسی خانقاہ میں زندہ موجود ہے اور پابند سلاسل ہے۔ اس کے ہاتھ گردن سے پیوست ہیں اور وہ گھٹنوں اور ٹخنوں سمیت لوہے میں جکڑا ہوا ہے۔ اس کا خروج بھی قریب ہے۔ اس نے خود اپنے متعلق کہا تھا کہ ”قریب ہی ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت دے دی جائے۔ (مسلم)

اس کے خروج کی علامات میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ حوران اور فلسطین کے درمیان میں موجود شہر بیسان کا کھجوروں والاباغ اچانک بارآور ہونا چھوڑ دے گا۔ یاقوت حموی فرماتے ہیں: ” میں اس باغ کو متعدد بار دیکھ چکا ہوں اس میں سوائے دو درختوں کے کوئی پھلدار درخت نہیں۔”

اسی طرح بحیرۂ طبریہ کا پانی خشک ہو جانا بھی اس کی علاماتِ خروج میں سے ہے جبکہ اس کا پانی کم ہو چکا ہے اور بتدریج ہو رہا ہے۔

اسی طرح شامی شہر زْغَر کے چشمے کا پانی خشک ہو جانا اور اس شہر کے باسیوں کا زراعت کے سلسلے میں اس چشمے سے مستفید نہ ہونا بھی دجال کے خروج کی علامات میں سے ہے۔ سب سے پہلے اس کا خروج سر زمینِ خراسان کے شہر اصبہان سے اور یہودیہ نامی قبیلے سے ہو گا۔ وہ اس حال میں نکلے گا کہ اس کے ساتھ ستر ہزار یہود ہوں گے جبکہ اس کے محافظین و معاونین بھی ہوں گے۔

وہ بھاری بھرکم تن و توش اور چوڑی پیشانی والاایک سرخ رنگ نوجوان ہے، قامت میں قدرے خم ہے، گھنے گھونگھریالے بال ہیں، اس کی ایک آنکھ انگور کے پھولے دانے کی طرح ہے یعنی نمایاں اور کانی۔
حضرت تمیم داری ، جو اسے دیکھ چکے تھے، اس کے متعلق فرماتے ہیں کہ بلحاظ خلقت اس قدر بڑا انسان میں نے کبھی نہیں دیکھا۔”
وہ اس دنیا کی سب سے بڑی مخلوق ہے۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”آدم علیہ السلام کی پیدائش سے قیامت تک دجال سے بڑی کوئی مخلوق نہیں۔”(مسلم)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی علامات بیان کر دی ہیں تاکہ لوگ اس کے نکلنے پر اسے پہچان لیں اور انہیں پتا ہو کہ وہ دجال ہے نہ کہ رب العالمین جیسا کہ سمجھا جاتا ہے۔ چونکہ دجال کا خروج اسی امت میں ہونا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ایک ایسی علامت بتائی جس کا ذکر کسی نبی نے نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں ایسی بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی۔ تم جانتے ہو کہ وہ کانا ہے جبکہ اللہ کانا نہیں۔” (بخاری )

اس کا خروج دین کی پستی اور علم کے زوال کے دور میں ہو گا تاکہ مومن و کافر اور مسلم اور تشکیک زدہ میں تفریق ہو جائے۔ اس کا دعویٰ ہو گا کہ وہ رب العالمین ہے اور اللہ نے اسے جو خوارق عادت اشیاء مہیا کی ہوں گی، انکے ذریعے لوگوں کو فتنہ میں ڈالے گا۔

جب اس کا خروج ہو گا، لوگ اس کی دہشت کے مارے پہاڑوں میں نکل جائیں گے اور ساتھ ہی توبہ کا دروازہ بھی بند ہو جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”تین چیزیں جب نکل آئیں گی تو کسی ایسے نفس کو اس کا ایمان فائدہ نہیں دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا تھا یا اپنے ایمان سے خیر نہ کمائی۔ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال کا خروج اور دابۃ الارض کا ظہور”۔ (مسلم)

اس کی فتنہ انگیزی کا ایک کرشمہ یہ ہو گا کہ آدمی کو مار کر اللہ کے حکم سے دوبارہ زندہ کر دے گا۔ ایک شخص کو تلوار سے دو لخت کر کے بلائے گا تو مقتول بشاش چہرے کے ساتھ چلتا ہوا اس کی جانب جائے گا۔ ایک آدمی کو آرے سے چیر کر اس کے دونوں حصوں کے درمیان میں چلے گا اور پھر کہے گا کہ ”کھڑا ہو جا” تو وہ صحیح سلامت اٹھ کھڑا ہو گا۔

اسی طرح آدمی کو ہاتھوں اور ٹانگوں سے پکڑ کر اپنی آگ میں ڈال دے گا اور سمجھے گا کہ اس نے اسے آگ میں جھونک دیا ہے حالانکہ اسے جنت میں ڈالاگیا ہو گا۔ اس کی جنت درحقیقت جہنم اور جہنم جنت ہو گی۔

اس کے ساتھ دو بہتی نہریں ہوں گی، ایک کا پانی دیکھنے میں سفید ہو گا اوردوسری میں آگ بھڑکتی ہو گی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر کوئی شخص اسے پائے تو آگ والی نہر میں آئے اور آنکھیں بند کر لے، پھر سر جھکا کے اس سے پانی پیے کیونکہ وہ درحقیقت ٹھنڈا پانی ہو گا۔ (مسلم)

وہ آسمانوں کو بارش برسانے کا حکم دے گا تو آسمان برس پڑے گا۔ زمین کو اگانے کا حکم دے گا تو زمین اگا دے گی۔ ویرانے سے گزرے گا اور کہے گا کہ اپنے خزانے اگل دے تو وہ خزانوں کے ڈھیر لگا دے گا۔

ابن العربی فرماتے ہیں کہ ”یہ سارا ایک خوفناک معاملہ ہے۔”

زمین میں اس کی نقل و حرکت انتہائی تیز ہو گی۔ نبی کریم eنے مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ ”اس بارش کی طرح جو تیز ہوا کے بعد آئے۔”

وہ زمین میں چالیس دن ٹھہرے گا۔ ایک دن سال کی طرح، ایک دن مہینے جتنا، ایک دن ہفتہ کے برابر اور باقی ایام عام دنوں کی طرح ہوں گے۔

اس کے قدم سے کوئی شہر نہ بچ پائے گا سوائے مکہ اور مدینہ کے۔ ان شہروں کے ہر دروازے پر حفاظت کیلئے فرشتے موجود ہوں گے۔ جب وہ ان دونوں شہروں میں سے کسی میں داخل ہونا چاہے گا تو ایک فرشتہ ننگی تلوار ہاتھ میں لئے اسے روکنے کو لپکے گا۔ مدینہ کے سوا سب شہر دجال سے دہشت زدہ ہوں گے۔ مدینہ میں دجال کا خوف اور رعب داخل نہ ہو سکے گا۔

اس لئے مکہ اور مدینہ کے باسیوں کو چاہئے کہ اللہ کی نعمت کا شکر کرتے ہوئے ان شہروں کو اطاعت الٰہی سے آباد رکھیں کہ اللہ نے انہیں بالخصوص دجال سے حفاظت عطا فرمائی ہے۔

جب اسے مدینہ میں داخلے سے روک دیا جائے گا تو وہ احد پہاڑ کے مغرب میں …… جْرْف کے مقام پر اترے گا اور اپنا پڑائو وہاں ڈال دے گا۔ اس کی طرف نکلنے والوںمیں اکثریت عورتوں کی ہو گی۔
مدینہ اپنے باسیوں کو تین بار جھنجھوڑے گا اور ہر کافر اور منافق یہاں سے نکل کر اس کی جانب چلا جائے گا۔

ہر زمان و مکان کے بہترین لوگ وہ ہیں جو کسی غلط شے کو دیکھ کر اس کا انکار کریں۔ اللہ کا فرمان ہے:

’’کُنتُمْ خَیْْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ ‘‘ (آل عمران: ۱۱۰)
”اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو۔”

چنانچہ دجال جب مدینہ کے پاس ٹھہرے گا تو ایک نوجوان باہر نکل کر اس کے پاس پہنچے گا اور اس کے دعویٰ ربوبیت اور دجل و فریب کو ٹھکرائے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگوں میں سب سے بہتر ہو گا اور وہ کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی وہ دجال ہے جس کے بارے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے۔ (بخاری )

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وفات پا جانا مسلمانوں کیلئے ایک بڑا خسارہ ہے کیونکہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہوتے تو ہماری طرف سے اس کیلئے کافی ہوتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر وہ میری موجودگی میں ظاہر ہوا تو تم سب کی طرف سے میں اس کے مقابل آئوں گا۔”

اس سے محفوظ رہنے کا ایک وسیلہ اللہ کے اسماء و صفات کی پہچان کا دینی علم ہے کیونکہ دجال کانا ہو گا جبکہ ہمارا رب کانا نہیں، اللہ کو دنیا میں کوئی نہیں دیکھ سکتا۔ دجال کو سب دیکھیں گے۔ دجال کی آنکھوں کے درمیان ”کافر” لکھا ہو گا جس کو ہر خواندہ و ناخواندہ پڑھ سکے گا۔

شیخ الاسلام فرماتے ہیں: ”مومن کیلئے وہ کچھ نمایاں ہو جاتا ہے جو دوسروں کیلئے نمایاں نہیں ہوتا۔ بالخصوص فتنوں کے وقت میں۔”

فتنوں سے دور رہنا او ربھاگنا بحکم الٰہی ان سے محفوظ رہنے کا ذریعہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی دجال کے بارے میں سنے تو اس سے دور رہے کیونکہ اللہ کی قسم! آدمی اس کے پاس آئے گا تو اسے مومن خیال کرے گا اور اس کے اٹھائے ہوئے شبہات بھی اسے لاحق ہو جائیں گے۔” (ابودائود)

دین پر پوری قوت سے کاربند رہنا ہی دجال سے نجات کا باعث ہے کیونکہ اس کے پیروکار مومن نہیں ہونگے۔

کثرت سے اس سے بچائو کی دعا کرتے رہنا بھی حفظ و امان کا ذریعہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص نماز میں تشہد کیلئے بیٹھے تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے، وہ کہے، ”اے اللہ! میں جہنم کے عذاب سے، عذاب قبر سے، زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ (مسلم)

حضرت طائوس اپنے بیٹے کو نماز دہرانے کا حکم دیتے اگر وہ نماز میں یہ دعا نہ پڑھتا۔

قرآن کریم ہر فتنے سے بچائو کا اصل ذریعہ ہے۔ جو کوئی دجال کے خروج کی خبر سنے اور اسے سورۂ کہف کی ابتدائی دس آیات یاد ہوں تو اللہ کے حکم سے وہ دجال سے محفوظ رہے گا۔ جو کوئی اسے دیکھے تو اسے سورۂ کہف کی ابتدائی آیات سنا دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”جو اسے پا لے تو اسے سورۂ کہف کی ابتدائی آیات سنا دے۔” (مسلم)

جب اس کے پیروکار کثیر ہو جائیں گے اور اس کا فتنہ پھیل جائے گا تو حضرت عیسیٰ صلی اللہ علیہ وسلم دمشق میں مشرقی مینار کے پاس اتریں گے پھر اللہ کے بندے ان کے گرد جمع ہو جائیں گے۔ پھر حضرت عیسیٰ uجب بیت المقدس کی جانب رخ کریں گے تو دجال کو فلسطین میں ”بابِ لْدّ” کے پاس پا لیں گے۔ جب دجال انہیں دیکھے گا تو نمک کی مانند پگھلنا شروع ہو جائے گا، حضرت عیسی uاسے جا لیں گے اور برچھی سے قتل کر دیں گے۔

اے اہل اسلام! یوں اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں اور یہ آناً فاناً آ جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”قیامت یوں قائم ہو گی کہ آدمی اونٹنی دوہ رہا ہو گا اور ابھی برتن اس کے منہ کو نہیں لگے گا کہ قیامت آ جائے گی اور دو آدمی آپس میں کپڑے کی خریدوفروخت کر رہے ہوں گے اور ان کا سودا تکمیل کو نہ پہنچے گا کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔ (مسلم)

مسلمان یوں تو ہر وقت اور ہر لمحے نیکیوں کی جانب لپکتا ہے لیکن دین کی اجنبیت اور فتنوں کی کثرت کے زمانے میں تو اسے کثرت سے نیکیاں کرنی چاہئیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”چھ چیزوں کے آنے سے پہلے پہلے نیکیوں کی جانب لپکو، سورج کا مغرب سے نکلنا، دھوئیں کا ظہور، دجال کا خروج، دابۃ الارض کا نکلنا، ہر آدمی کا مخصوص وقت یعنی موت اور عمومی معاملہ یعنی قیامت۔(مسلم)

تنگی اور پریشانی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ا طاعت بندے کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ دجال نے حضرت تمیم داریt اور ان کے ساتھ موجود دیگر صحابہ سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا تھا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا خبر ہے”؟

تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکل کر مدینہ میں ورود فرما چکے ہیں۔ اس نے پوچھا کہ کیا عرب اس سے لڑے ہیں؟ انہوں نے کہا ”ہاں” اس نے پوچھا کہ اس نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا؟” انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرب اور اس سے متصل تمام علاقے پر غالب آ گئے ہیں اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری قبول کر لی ہے۔ اس نے پھر پوچھا کہ کیا واقعی ایسا ہو چکا ہے؟ جواب ملا کہ ”ہاں” اس نے کہا کہ بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرنا ہی ان کیلئے بہتر ہے۔ (مسلم )

دوسرا خطبہ

حمد و ثناء کے بعد، اے اہل اسلام! اگرچہ دجال کا معاملہ بہت خطرناک ہے لیکن نیک اعمال میں ریاء کاری کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے ارشاد فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتائوں جو میرے خیال میں تمہارے لئے دجال سے بھی خطرناک ہے۔” صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شرک خفی ہے، آدمی نماز پڑھنے کیلئے کھڑا ہو اور اس خیال سے اسے بنا سنوار کر پڑھے کہ کوئی دوسرا آدمی اسے دیکھ رہا ہے۔” (احمد)

”تیسیر العزیز الحمید” کے مصنف کہتے ہیں: ”ریاکاری کی یہ صورت اس لئے ہے کہ یہ مخفی ہوتی ہے، اس کا داعیہ قوی ہوتا ہے اور اس سے بچائو حد درجہ مشکل ہے، شیطان اور نفس امارہ آدمی کے دل میں اسے بنا سنوار کر پیش کرتے ہیں جبکہ مومن کو چاہئے کہ اپنے نیک عمل میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اخلاص نیت دونوں کا پورا خیال رکھے۔”

اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما، شرک اور مشرکین کو ذلیل کر دے، دین کے دشمنوں کو تباہ فرما اور اے اللہ! اس ملک کو اور مسلمانوں کے دیگر تمام ممالک کو امن و اطمینان اور خوشحالی عطا فرما۔ اے اللہ! انہیں ظاہری اور باطنی فتنوں سے بچا۔

اے اللہ! اپنی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہدین کی مدد فرما، انہیں ثابت قدم رکھ، ان کا نشانہ سدھار دے، ان میں اتحاد پیدا فرما۔ اے اللہ! اے پروردگار عالم! اپنے اور مسلمانوں کے دشمنوں کو مشکلات میں الجھا دے۔ آمین یا رب العالمین!

One comment

  1. Very great post. I simply stumbled upon your blog and wanted to mention that I’ve really loved browsing your blog posts. After all I’ll be subscribing in your feed and I am hoping you write again soon!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*