صفحہ اول > مضامین > تاریخ وسیرت > مسجد نبوی کے پہلے شہید، مراد رسول، خلیفہ دوم عمر بن خطاب

مسجد نبوی کے پہلے شہید، مراد رسول، خلیفہ دوم عمر بن خطاب

shafiq pisrori
تحریر: رانا محمد شفیق پسروری
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب حضرت عمررضی اللہ عنہ کو (شہادت کے بعد) ان کی چارپائی پر ڈالا گیا تو تمام لوگوں نے نعش مبارک کو گھیر لیا اور اُن کے لئے دُعا اور مغفرت طلب کرنے لگے۔ نعش ابھی اٹھائی نہیں گئی تھی، میں بھی وہیں موجود تھا۔ اسی حالت میں اچانک ایک صاحب نے میرا شانہ پکڑ لیا، میں نے دیکھا تو وہ حضرت علی رضی الللہ عنہ تھے۔ پھر انہوں نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کے لئے دُعائے رحمت کی اور(ان کی نعش کو مخاطب کر کے) کہا، آپ نے اپنے بعد کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا کہ جسے دیکھ کر مجھے یہ تمنا ہوتی کہ اس کے عمل جیسا عمل کرتے ہوئے میں اللہ سے جا ملوں، اور خدا کی قسم مجھے تو ( پہلے سے) یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا۔ میرا یہ یقین اس وجہ سے تھا کہ میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے تھے کہ ’’ مَیں ابوبکر اور عمر گئے۔ میں ابوبکر اور عمر داخل ہوئے۔ میں، ابوبکر اور عمر باہر آئے‘‘۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ میں ایک دفعہ سو رہا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جا رہے ہیں اور وہ کرتے پہنے ہوئے ہیں۔ کسی کا کُرتہ سینے تک ہے اور کسی کا اس سے نیچا ہے۔ (پھر) میرے سامنے عمر بن خطاب لائے گئے۔ ان (کے بدن) پر(جو) کرتا تھا، اسے وہ گھسیٹ رہے تھے۔‘‘ (یعنی ان کا کرتہ زمین تک نیچا تھا) صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے پوچھا یا رسول اللہ! اس کی کیا تعبیر ہے؟ آپ نے فرمایا (اس سے) ’’دین مراد ہے‘‘۔ (یعنی دین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ذات اقدس میں اس طرح جمع ہوگیا کہ کسی اور کو یہ شرف حاصل نہیں ہوا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا کُرتہ چونکہ سب سے بڑا تھا، اس لئے ان کی دینی فہم بھی اوروں سے بڑھ کر تھی۔ دین کی اس کمی بیشی میں ان لوگوں کی تردید ہے جو کہتے ہیں کہ ایمان کم و بیش نہیں ہوتا)۔
حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’ مَیں سو رہا تھا۔ ( اسی حالت میں) مجھے دودھ کا ایک پیالہ دیا گیا۔ میں نے (خوب اچھی طرح) پی لیا۔ حتیٰ کہ میں نے دیکھا کہ تازگی میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے۔ پھر میں نے اپنا بچا ہوا عمر بن خطاب کو دے دیا‘‘۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اس کی کیا تعبیر لی؟ آپ نے فرمایا ’’علم‘‘۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مَیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا:’’ مَیں سو رہا تھا کہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا جس پر ڈول تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جتنا چاہا میں نے اس ڈول سے پانی کھینچا، پھر ابن ابی قحافہ (حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ) نے لے لیا اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچے۔ ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری سی معلوم ہوئی۔ اللہ ان کی اس کمزوری کو معاف فرمائے۔ پھر اس ڈول نے ایک بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کر لی اور اسے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ میں نے ایسا شہ زور پہلوان آدمی نہیں دیکھا جو عمر رضی اللہ عنہ کی طرح ڈول کھینچ سکتا ہو۔ انہوں نے اتنا پانی نکالا کہ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو حوض سے سیراب کر لیا۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک کنوئیں سے ایک اچھا خاصا بڑا ڈول کھینچ رہا ہوں، جس سے جوان اونٹنی کو دودھ پلاتے ہیں۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے بھی ایک یا دو ڈول کھینچے ،مگر کمزوری کے ساتھ اور اللہ اُن کی مغفرت کرے، پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے ہاتھ میں وہ ڈول ایک بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کر گیا۔ میں نے ان جیسا مضبوط اور باعظمت شخص نہیں دیکھا جو اتنی مضبوطی کے ساتھ کام کر سکتا ہو۔ انہوں نے اتنا کھینچا کہ لوگ سیراب ہو گئے اور اپنے اونٹوں کو پلا کر ان کے ٹھکانوں پر لے گئے۔
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ میں جنت میں داخل ہوا یا (آپ نے یہ فرمایا کہ) میں جنت میں گیا۔ وہاں میں نے ایک محل دیکھا۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے بتایا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا۔ میں نے چاہا کہ اس کے اندر جاؤں، لیکن رُک گیا کیونکہ تمہاری غیرت مجھے معلوم تھی۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ اے اللہ کے نبی، کیا میں آپ پر غیرت کروں گا؟
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی، میں نے اس میں ایک عورت کو دیکھا جو ایک محل کے کنارے وضو کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ تو فرشتوں نے بتایا کہ یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا محل ہے۔ مجھے ان کی غیرت یاد آئی اور میں وہاں سے فوراً لوٹ آیا۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو دیئے اور کہنے لگے، یا رسول اللہ! میں آپ کے ساتھ بھی غیرت کروں گا؟
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی۔ اس وقت چند قریشی عورتیں (ازواج مطہرات) آپ کے پاس بیٹھی آپ سے گفتگو کر رہی تھیں اور آپ سے (خرچ) بڑھانے کا سوال کر رہی تھیں۔ خوب آواز بلند کرکے۔ لیکن جونہی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی ، وہ خواتین جلدی سے پردے کے پیچھے چلی گئیں۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کو ہنساتا ہی رکھے، یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے ان عورتوں پر تعجب ہوا۔ ابھی ابھی میرے پاس تھیں، لیکن جب تمہاری آواز سنی تو پردے کے پیچھے جلدی سے بھاگ گئیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، لیکن یا رسول اللہ! آپ زیادہ اس کے مستحق تھے کہ آپ سے یہ ڈرتیں۔ پھر (ازواج مطہرات سے) کہا، اے اپنی جان کی دشمنو، مجھ سے تو تم ڈرتی ہو اور رسول اللہ سے نہیں ڈرتیں۔ ازواج مطہرات بولیں کہ واقعی یہی (بات) ہے کیونکہ آپ رسول اللہ کے برخلاف مزاج میں بہت سخت ہیں۔ اس پر رسول اللہ نے فرمایا، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ( اے عمر!) اگر شیطان بھی کہیں راستے میں تمہیں مل جائے تو جھٹ وہ یہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی (منافق) کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ (جو پختہ مسلمان تھے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ اپنی قمیض میرے والد کے کفن کے لئے عنایت فرما دیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قمیض عنایت فرمائی۔ پھر انہوں نے عرض کی کہ آپ نماز جنازہ بھی پڑھا دیں۔ آنحضرت نماز جنازہ پڑھانے کے لئے بھی آگے بڑھ گئے۔ اتنے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ  کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھانے جا رہے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے منع بھی فرما دیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے۔ ’’آپ  ان کے لئے استغفار کریں خواہ نہ کریں۔ اگر آپ ؐ ان کے لئے 70بار بھی استغفار کریں گے (جب بھی اللہ انہیں نہیں بخشے گا) اس لئے میں 70مرتبہ سے بھی زیادہ استغفار کروں گا۔ (شاید کہ اللہ تعالیٰ معاف کر دے) حضرت عمر بولے۔ لیکن یہ شخص تو منافق تھا۔ حضرت ابن عمر نے بیان کیا کہ آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ ’’ اور ان میں سے جو کوئی مر جائے اس پر کبھی بھی نماز نہ پڑھئے اور نہ اس کی قبر پرکھڑے ہوں‘‘ (التوبہ84:) ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے حق کو عمر کی زبان اور ان کے دل پر جاری فرما دیا ہے۔ (ترمذی) اور ابوداؤد کی روایت میں جو کہ ابوذررضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اللہ نے حق کو عمر کی زبان پر رکھ دیا ہے جس کے ذریعے وہ بولتے ہیں‘‘۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اس بات کو بعید نہیں سمجھتے کہ تسکین بخشنے والا کلام عمر رضی اللہ عنہ کی زبان پر جاری ہوتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! اسلام کو ابو جہل عمرو بن ہشام یا عمر بن خطاب کے ذریعے غلبہ و عزت عطا فرما‘‘۔ صبح ہوئی تو عمر پہلے پہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا، پھر آپ نے مسجد میں علانیہ نماز ادا فرمائی۔ (احمد ترمذی)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے وہ انسان جو رسول اللہ کے بعد سب سے بہتر شخصیت ہے! ابوبکرنے فرمایا: سن لو! اگر آپ نے یہ بات کی ہے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ عمر سے بہتر شخص کوئی نہیں جس پر سورج طلوع ہوا ہو‘‘۔ ترمذی۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے‘‘۔ترمذی
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ ہم نے شور اور بچوں کی آواز سنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو دیکھا کہ ایک حبشی خاتون رقص کر رہی تھی اور بچے اس کے ارد گرد (تماشا دیکھ رہے) تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عائشہ! دیکھو۔‘‘ میں آئی تو میں نے اپنے جبڑے ( چہرہ) رسول اللہ کے کندھے پر رکھ دیئے اور میں آپ کے کندھے اور سر کے درمیان سے اسے دیکھنے لگی، آپ نے مجھے فرمایا:’’ کیا تم سیر نہیں ہوئی، کیا تم سیر نہیں ہوئی‘‘ مَیں کہنے لگی نہیں، تاکہ مَیں آپ کے ہاں اپنی قدر و منزلت کا اندازہ لگا سکوں، اچانک عمر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے تو سارے لوگ اس (حبشیہ) کے پاس سے تتر بتر ہوگئے، رسول اللہ نے فرمایا: ’’مَیں نے شیاطین جن وانس کو دیکھا کہ وہ عمر کی وجہ سے بھاگ رہے ہیں۔‘‘
حضرت انس رضی اللہ عنہ اور ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا: مَیں نے تین امور میں اپنے رب سے موافقت کی، مَیں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! اگر ہم مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لیں؟ اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی: ’’مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ‘‘۔ مَیں نے عرض کیا، اللہ کے رسول! آپ کی ازواج مطہرات کی موجودگی میں، آپ  کے پاس نیک و فاسق قسم کے لوگ آتے ہیں، اگر آپ انہیں پردہ کرنے کا حکم فرما دیں، تب اللہ نے آیت حجاب نازل فرمائی، اور (ایک موقع پر) نبی کی ازواجِ مطہرات قصہ غیرت( شہد پینے والے واقعہ) پر اکٹھی ہو گئیں، تو میں نے کہا:’’ قریب ہے کہ اس کا رب، اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں، تم سے بہتر بیویاں انہیں عطا فرما دے۔‘‘ اِسی طرح آیت نازل ہو گئی۔اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے، انہوں نے کہا، عمر نے فرمایا: میں نے تین امور میں ، اپنے رب سے موافقت کی، مقام ابراہیم کے متعلق، پردے اور بدر کے قیدیوں کے بارے میں( بخاری و مسلم)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، عمر بن خطاب کو چار چیزوں کی وجہ سے دیگر لوگوں پر فضیلت عطا کی گئی، انہوں نے بدرکے قیدیوں کو قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:’’ اگر اللہ کی کتاب میں یہ حکم پہلے سے موجود نہ ہوتا تو تم نے جو (فدیہ) لیا اس پر تمہیں بڑا عذاب پہنچتا‘‘ اور ان کا حجاب کے متعلق فرمانا، انہوں نے نبی کی ازواج مطہرات سے فرمایا کہ وہ پردہ کیا کریں تو زینب رضی اللہ عنہا نے انہیں فرمایا: ابن خطاب! کیا آپ ہمیں حکم دیتے ہیں جبکہ وحی تو ہمارے گھروں میں اترتی ہے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’ اور جب تم ان سے کوئی چیز طلب کرو تو ان سے پردے کے پیچھے سے طلب کرو۔‘‘ اور ان کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا:’’ اے اللہ! عمر کے ذریعے اسلام کو تقویت فرا۔‘‘ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے (خلیفہ ہونے کے) متعلق سب سے پہلی انہیں کی رائے تھی ا نہوں نے ہی سب سے پہلے ان کی بیعت کی(احمد)حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ایک آدمی میری اُمت میں سے جنت میں ایک درجہ بلند مقام پر فائز ہو گا۔‘‘ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! ہمارے خیال میں وہ آدمی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہی ہیں حتیٰ کہ وہ وفات پا گئے (ابن ماجہ) حضرت اسلم (عمررضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام) بیان کرتے ہیں، ابن عمررضی اللہ عنہ نے مجھ سے عمررضی اللہ عنہ کے بعض حالات کے متعلق دریافت کیا تو مَیں نے انہیں بتایا کہ میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کسی شخص کو اتنی زیادہ جدوجہد اور سخاوت کرنے والا نہیں دیکھا حتیٰ کہ یہ فضائل عمر رضی اللہ عنہ پر ختم ہو گئے۔ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب عمر رضی اللہ عنہ زخمی کر دیے گئے تو وہ تکلیف محسوس کرنے لگے، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے عرض کیا: امیر المومنین! آپ اتنی تکلیف کا کیوں اظہار کر رہے ہیں؟ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی اور اسے اچھے انداز میں نبھایا، پھر وہ آپ سے جدا ہوئے تو وہ آپ پر راضی تھے، پھر آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہے، اور ان کے ساتھ بھی خوب رہے پھر وہ آپ سے جدا ہوئے تو وہ بھی آپ پر راضی تھے، پھر آپ مسلمانوں کی صحبت میں رہے، اور آپ ان کے ساتھ بھی خوب اچھی طرح رہے، اور اگر آپ ان سے جدا ہوئے تو آپ ان سے بھی اس حال میں جدا ہوں گے کہ وہ آپ سے راضی ہوں گے۔ انہوں نے فرمایا: تم نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور آپ کے راضی ہونے کا ذکر کیا ہے تو وہ اللہ کی طرف سے ایک احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا ہے اور تم نے جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اور ان کے راضی ہونے کا ذکر کیا ہے تو وہ بھی اللہ کی طرف سے ایک احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا ہے اور رہی میری گھبراہٹ اور پریشانی جو تم دیکھ رہے ہو تو وہ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں فکر مند ہونے کی وجہ سے ہے اللہ کی قسم! اگر میرے پاس زمین بھر سونا ہوتا تو میں اللہ کے عذاب کو دیکھنے سے پہلے اس کا فدیہ دے کر اس سے نجات حاصل کرتا۔ (بخاری)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*