صفحہ اول > مضامین > اصلاح معاشرہ وحالات حاضرہ > محرم الحرام کا تقاضا ہر حال میں مسلمانوں کا احترام

محرم الحرام کا تقاضا ہر حال میں مسلمانوں کا احترام

رانا محمد شفیق پسروری
shafiq pisroriاللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں: ’’تحقیق اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ ہے، اور ان میں سے چار مہینے حرمت والے قرار دیئے گئے ہیں، ان میں تم اپنے نفسوں پر کسی قسم کا کوئی ظلم نہیں کرنا‘‘۔ (سورۂ توبہ :36)
خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مخاطب کیا اور فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ چار حرمت والے مہینے کون سے ہیں؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی ہم سے زیادہ جانتے ہیں، کہ وہ چار حرمت والے مہینے کون سے ہیں؟ ایک دوسری روایت کے مطابق خود صحابہ کرام نے پوچھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! وہ چار حرمت والے مہینے کون سے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ تین مہینے پے در پے، یکے بعد دیگرے آنے والے اور ایک اُن سے الگ، ایک ذیقعدہ کا مہینہ، ایک ذوالحجہ کا مہینہ اور تیسرا محرم الحرام کا اور چوتھا جو ان سے الگ ہے، وہ ہے رجب کا مہینہ۔ یہ چار مہینے ایسے ہیں کہ جن کو اللہ رب العزت نے حرمت والے قرار دیا ہے۔ ان کے بارے میں خصوصی طور پر احکامات ہیں، اور جیسا کہ آیت مبارکہ میں بھی ہے کہ : ’’خبردار! ان چار حرمت والے مہینوں میں اپنے نفسوں پر کسی قسم کا کوئی ظلم نہیں کرنا‘‘ مطلب یہ ہے کہ اپنے لوگوں پر، اپنے معاشرے کے افراد پر تم سے کسی قسم کی کوئی زیادتی سرزد نہ ہوجائے۔ 
اسلام ایسا کامل دین ہے، جس میں عام طور پر یہ بھی حکم ہے کہ کسی شخص سے کسی شخص کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے، فرمایا: ’’مسلمان وہ ہوتا ہے، جس کے ہاتھ سے، جس کی زبان سے دوسرے مسلمان، دوسرے افراد محفوظ رہتے ہوں‘‘۔ مسلمان وہ ہوتا ہے، جس کا ہاتھ بھی سلامتی کا باعث بنتا ہے، جس کی زبان بھی سلامتی کا باعث بنتی ہے، جس کے وجود سے سلامتی کی کرنیں پھوٹتی ہیں، اور کسی قسم کا کوئی ظلم اور زیادتی سرزد نہیں ہوتی۔ فرمایا: ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے، کسی شخص پر بھی کسی دوسرے شخص کی عزت، حرمت، خون اور مال حرام کر دیا گیا ہے‘‘۔ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے مال کی طرف، کسی دوسرے کی جان کی طرف، کسی دوسرے کے خون کی طرف، کسی دوسرے کے دامن اور عزت کی طرف اپنے ہاتھوں کو لمبا نہ کرے، ہر وہ شخص جو مسلمان کہلاتا ہے، اس سے دراز دستی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ: ’’ اپنے آپ کو مومن کہنے والے آپس میں بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں‘‘۔ فرمایا: ’’ایک مومن دوسرے مومن کے لئے آئینہ ہوا کرتا ہے‘‘ اور یہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آئینے کی تشبیہ کیوں دی ہے، اس لئے کہ آئینہ ایک ایسی چیز ہے، جو انسان کے چہرے پر لگے ہوئے داغوں کو اس کے سامنے نمایاں کر دیتا ہے، اور اس طور نمایاں کرتا ہے کہ دیکھنے والا آئینے کو دیکھ کر اپنے داغ دور کر لیتا ہے، آئینے پہ ناراض نہیں ہوا کرتے کہ آئینہ اس کو تھپڑ مار کے اس کو گالی دے کر اس کو طعنے دے کر نہیں کہتا کہ تیرے چہرے پر داغ لگا ہوا ہے، بلکہ بڑی لطافت کے ساتھ اس کے چہرے کے داغ کو نمایاں کرتا ہے اور وہ داغ جو اس کی آنکھوں سے اوجھل ہوتا ہے، آئینہ اس کے سامنے نمایاں کر دیتا ہے۔ 
ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے عیبوں کو لطافت کے ساتھ دوری کا سبب بنتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو معاشرہ قائم کیا، اس معاشرے میں ایسی اخوت ومودت اور محبت کی مثالیں قائم کیں کہ کائنات کا کوئی دوسرا معاشرہ اس کی مثال نہیں دے سکتا، وہ لوگ جو آپس میں صدیوں لڑا کرتے تھے، ذرا ذرا سی بات پہ جن کی تلواریں نیاموں سے باہر نکل آیا کرتی تھیں۔ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کے سائے میں آ گئے، تو ان کی صورت یہ ہو گئی کہ آپس میں اس طرح بھائی بھائی بن گئے کہ معلوم ہوتا تھا کہ ماں جائے بھائیوں سے زیادہ محبت والفت کرنے لگے ہیں۔ بھائیوں سے بڑھ کر ایک دوسرے کو پیار دیا، اپنے مال کا آدھا اپنے ان بھائیوں کو دے دیا، جو اخوت کے رشتے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھائی قرار دیئے تھے، اپنے گھروں کو آدھا ان کے سپرد کر دیا جن کے چہروں کو، کبھی تصور وخیال کے اندر راہ بھی نہیں ملی، اور صرف یہیں تک نہیں بلکہ وہ لوگ جو لٹے پھٹے آئے تھے، وہ لوگ جن کے گھر والوں کو ان سے چھین لیا گیا تھا جن کی بیویوں کو ان سے چھین لیا گیاتھا، جب مدینہ منورہ میں آئے، تو اگر کسی کی ایک سے زائد بیویاں تھیں تو اپنے بھائیوں کے لئے (بعد عدت) حلال کر کے ان کے سپرد کر دیں، ایسی اخوت، کسی اور دین کے اندر، کسی اور نظریے کے ماننے والوں میں نہیں دیکھی جا سکتی، نہ ایسی مثال قائم کی جا سکتی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ مومن وہ ہوتا ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہتے ہوں‘‘ جو دوسرے کے لئے سلامتی بانٹتا ہے، احترام بانٹتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر خطبہ پیش کرتے ہوئے فرمایا: خبردار ایک دوسرے کی حرمت تم پر اسی طرح ہے جس طرح آج کے دن کی حرمت، جس طرح اس شہر (مکہ) کی حرمت، جس طرح اس مہینے کی حرمت، یہ عمومی  حکم ہے، اسلام کا کہ مسلمان دوسروں کے لئے آرام اطمینان اور سکون کا باعث بنتا ہے۔ تکلیف کا باعث نہیں ہوتا، تو گویا جو کسی کو عمداً  تکلیف پہنچاتا ہے، جو کسی پر زیادتی کرتا ہے، کسی کے دامن کو داغدار کرتا ہے، کسی کی عزت کی دھجیاں بکھیرتا ہے، کسی کی چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتا ہے، وہ اسلام کے واضح احکامات کا انکار کرتا ہے۔ جبکہ حرمت والے مہینوں کے لئے خصوصی طور پر حکم دیا گیا ہے کہ دیکھنا ان مہینوں میں اور زیادہ اپنے دامن کو سمیٹنے کی کوشش کرنا، اور اپنے آپ کو زیادہ محتاط رکھنا اور زیادہ اس بات کا خیال رکھنا کہ ان چار حرمت والے مہینوں میں کسی پر کسی قسم کا کوئی ظلم اور زیادتی نہ ہونے پائے۔ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیت مبارکہ نازل کی گئی ، فرمایا: ’’خبردار! لوگو! اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں گروہ درگروہ نہ بنو، اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ جب تم آپس میں ایک دوسرے کے ازلی اور جانی دشمن اپنے آپ کو سمجھے ہوئے تھے، اللہ کی نعمت کی وجہ سے تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے، اس لئے کہ جب آپس میں بٹے ہوئے تھے اس وقت آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت کے باعث تم کو اس گڑھے سے بچا لیا ہے‘‘۔ (آل عمران:103)
مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ آیہ مبارکہ اس وقت نازل ہوئی کہ اوس اور خزرج کے قبیلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دشمن تھے، اسلام کی لڑی میں پروئے جانے کے بعد ایک ہو چکے تھے، وہ لوگ جو آپس میں ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے، جب اسلام کے دائرے کے اندر آ گئے تو یہودیوں نے دیکھا کہ ان مسلمانوں کو آپس میں کس طرح لڑایا جائے، چنانچہ انہوں نے اوس اور خزرج کی پرانی باتیں، پرانی دشمنیاں جو تھیں ان کو دہرانا شروع کر دیا، ان کے اندر ایسی ایسی باتیں کرنا شروع کر دیں، جس کی وجہ سے پرانی جہالت کی عصبیت عود کر آئی، وہ تعصب جو جہالت کی علامت تھا، ان کے اندر پیدا ہو گیا اور پھر ان کے اندر خون خرابے کا خدشہ ہو گیا، تلواریں نیاموں سے نکل آئیں کہ ایسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی، آپ بھاگے ہوئے آئے اور درمیان میں کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ اب تم نے پھر جہالت کو زندہ کر لیا ہے، جہالت کی عصبیت کیا پھر تمہارے دلوں کے اندر پیدا ہو گئی ہے؟ کہ تم اللہ کے دین کی وجہ سے، اسلام کی وجہ سے تعصبات کو، ساری دشمنیوں کو، ساری عصبیتوں کوختم کر کے ایک رسی کو پکڑ کر ایک ہو چکے تھے، کیا پھر جہالت کی راہ اپنانا چاہتے ہو، ایسے میں ان کو پتہ چلا کہ یہودیوں کی یہ سازش ہے، چنانچہ یہ ناکام ہو گئی اور وہ پھر بھائیوں کی طرح ایک ہو گئے۔ 
اِسی طرح حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ بن ابی جہل کہتے ہیں کہ جب حضرت ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹی تہمت لگائی گئی تو مسلمانوں میں بعض لوگوں نے کہا کہ یہ واقعہ سچ ہے اور اکثریت نے یہ کہا کہ یہ جھوٹی تہمت لگائی گئی ہے، تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذہنی اذیت دی جائے۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اس واقعہ کی وجہ سے مسلمانوں کے دو گروہ بن گئے، اور قریب تھا کہ آپس میں جنگ و جدل کی راہ پر آ جائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہ آیہ مبارکہ ان کے سامنے تلاوت کی۔
یہودیوں کی سازشیں اور دوسرے دشمنوں کی سازشیں ہمیشہ یہ رہی ہیں کہ کسی طور پہ مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جائے، ایک دوسرے کا دشمن بنایا جائے اور اس کے طریق کیا ہیں، جس طرح ان دو واقعات کے اندر ہے یا پرانی باتیں دہرا کر ان کے اندر دشمنی کو پیدا کیا جاتا ہے، یا پھر جو محترم ہستیاں ہوتی ہیں، ان کے اوپر الزام لگا کر، ان کے دامن کو داغدار کرنے کی کوشش کر کے پھر دو گروہ بنا دیئے جاتے ہیں تاکہ کسی طور مسلمان آپس میں لڑیں ، لیکن ایسے میں پرانی باتوں کو یاد کرنے والوں کی سازشیں یا محترم ہستیوں کے دامن کو داغدار کرنے کی جسارت کے مقابلے میں دو گروہوں میں بٹنے کے بجائے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر ایک ہو جاؤ، یعنی دین مبین کو تھام لیا جائے تو کسی قسم کا کوئی اختلاف باقی نہیں رہتا، اور دین مبین یہ حکم دیتا ہے کہ مسلمان کی زبان اور مسلمان کے ہاتھ سے کسی دوسرے مسلمان کو تکلیف نہیں پہنچنی چاہئے، یہ ہے عمومی حکم اور حرمت والے مہینوں میں بالخصوص اس چیز کا خیال رکھنا چاہئے کہ کسی کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ ایسے میں سوچنے کا مقام ہمارے لئے یہ ہے کہ محرم کا مہینہ حرمت والے مہینوں میں سے ہے اور الشیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کہتے ہیں : ’’محرم کا مہینہ ایسا حرمت والا مہینہ ہے کہ جو حرمت والے مہینوں میں زیادہ قابل احترام ہے‘‘۔ یعنی چار مہینوں میں سے کہیں زیادہ احترام والا یہ مہینہ، تو ہر مسلمان کہلانے والا، ہر ایمان کا دعویدار، ہر وہ شخص جو اپنے آپ کو مومن کہتا ہے، اس کو ان حرمت والے مہینوں میں محترم بننے کی کوشش کرنی چاہئے، مجرم بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ 
یہ مہینہ احترام والا، حرمت والا، عزت والا، شوکت والا ہے، اس مہینے میں ایک دوسرے کے لئے احترام بانٹنا چاہئے ، ایک دوسرے کے لئے اکرام بانٹنا چاہئے، بندہ محرم میں محترم بنے، اللہ کے ہاں مجرم نہ بنے، مجرم کس طرح بنیں گے؟ مجرم تب بنیں گے۔
جب ہم اللہ کے احکامات کا انکار کریں گے۔ اللہ کے دین کا مذاق اڑائیں گے۔ جب اللہ اور اس کے رسول کے فرامین کا انکار کریں گے۔ جب کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ سے لاتعلقی کریں گے ، تو ہم مجرم بنیں گے۔ حرمت والے مہینوں میں بالخصوص کسی شخص سے کسی قسم کی زیادتی سرزد نہیں ہونی چاہئے، یہ ہے عام مسلمانوں کے لئے حکم۔ 
اب ذرا غور فرمایئے! عام مسلمانوں کے لئے یہ حکم ہے لیکن اگر کوئی شخص اس حرمت والے مہینے میں ایک عام مسلمان پر ظلم وزیادتی کرنے کے بجائے ان ہستیوں پر زبان طعن دراز کرنے کی کوشش کرے جو ہستیاں اس کی انتہائی متبرک، مقدس اور محترم ہستیاں ہیں اور وہ ہستیاں جن کے احترام کو اللہ نے بیان کیا، جن کے تقدس کو جن کی حرمت، جن کے اکرام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا، جن کی عزت اور جن کی حرمت کا اگر کوئی انکار کرے گا تو گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کا انکار کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*