صفحہ اول > مضامین > اصلاح معاشرہ وحالات حاضرہ > سعودی عرب اور پاکستانی میڈیا: تجاویز اور لائحہ عمل

سعودی عرب اور پاکستانی میڈیا: تجاویز اور لائحہ عمل

پروفیسر محمد عاصم حفیظ

Asim Hafeezمنی حادثے کے بعد پاکستان اور دیگر ممالک میں سعودی عرب کے خلاف ہونیوالے پروپیگنڈے نے ایک بار اس کمی کا احساس دلایا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کا مخلص ترین دوست ہونے کے باوجود میڈیا کے میدان میں کس حد تک تنہائی کا شکار ہے۔ دورحاضر میں میڈیا ذہن سازی. پیغام رسانی اور پرپیگنڈے کا اہم ترین ہتھیار بن چکا ہے. ٹیکنالوجی میں ترقی کے باعث عالمی سیاست میں بھی اس کی اہمیت مسلمہ ہے. ہر ملک اپنی سفارتکاری اور لابنگ کے حوالے سے میڈیا کو استعمال کرتا ہے. میڈیا کے زریعے سفارت کاری ایک سائنس ہے اور اس کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ دوست ممالک بھی میڈیا کے ساتھ تعلقات نہ ہونے کے باعث بھی عوامی مقبولیت اور پذیرائی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ حتی کہ بعض اوقات دیگر ممالک کے مختلف میڈیا اداروں میں خفیہ یا ہم خیال طبقے کی مدد سے سرمایہ کاری کی بھی مثالیں موجود ہیں. پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کی تیز رفتار ترقی کے باعث عوامی شعور و آگاہی میں اضافہ ہوا ہے.کسی بھی ملک کے لئے پاکستانی معاشرے میں اچھے تاثر کے لئے روایتی تعلقات کے ساتھ ساتھ میڈیا سے تعلقات استوار کرنا ضرورت بن چکا ہے. مغربی ممالک کو اس کا بخوبی احساس ہے اور ان کی جانب سے پاکستانی میڈیا کے ساتھ مسلسل رابطہ و معلومات کی فراہمی کا اہتمام کیا جاتا ہے. ان ممالک کی وزارت خارجہ کی جانب سے باقاعدہ سوشل میڈیا نیٹ ورک اور آوٹ ریچ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اس کے ساتھ صحافیوں کے وزٹ . دعوتوں . ٹریننگز اور جرائد کی اشاعت بھی کی جاتی ہے۔سعودی عرب پاکستان کا سب سے قابل اعتماد اور تعاون فراہم کرنیوالا دوست ملک ہے۔پاکستانی عوام کی اکثریت بھی سعودی عرب سے دلی لگاو اور محبت رکھتی ہے. لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے حلقے مختلف وجوہات کی بنا پرسعودی عرب کے خلاف غلط فہمیاں پیدا کرنے کا کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے. دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے اعلی حکومتی حلقوں اور دینی جماعتوں کے ساتھ تعلقات بنانے کے حوالے سے تو کچھ سرگرمی موجود ہے لیکن معاشرے میں پیغام رسانی کے اہم ترین ذریعے یعنی میڈیا پر کچھ خاص توجہ نہیں دی گئی. یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے بارے میں نہ صرف منفی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات تو سنگین الزامات بھی لگائے جاتے ہیں. المیہ یہ ہے کہ اس کا جواب نہیں دیا جاتا اور اس کی بڑی وجہ سعودی عرب کے لئے نرم گوشہ رکھنے والوں کے پاس بھی معلومات نہیں ہوتیں. پاکستان میں پرائیوٹ میڈیا رائے عامہ ہموار کرنے میں اہم ترین کردار ادا کرتا ہے اور اس چیز کا بھرپور احساس کرنے کی ضرورت ہے. منی حادثے اور حالیہ یمن تنازعے میں اس خلا کا بخوبی اندازہ ہوا ہے کہ پاکستان میں سعودی عرب کے حوالے سے کس قدر غلط فہمیاں موجود ہیں اور کس پاکستان کے تعاون کو عوامی سطح پر متنازعہ بنا دیا گیا ہے. اس ساری صورتحال کی واحد وجہ میڈیا ہی ہے۔یہ کوئی سازش نہیں بلکہ معلومات نہ ہونے، عدم رابطہ اور تعلقات استوار نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہونیوالی صورتحال ہے۔اس سے پہلے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر فراہم کرنے پر بھی شائد تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ اتنی بڑی رقم دینے کے باوجود اظہار تشکر کی بجائے اسے متنازعہ بنایا گیا حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ کئی ممالک ہمارے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اربوں ڈالر ادا نہ کرنے کے باوجود میڈیا کے ذریعے اپنا مثبت تاثر بنانے اور ہم خیال اینکرز و کالم نگاروں کے باعث اپنا موقف بھرپور طریقے سے پیش کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ سعودی عرب کو پاکستانی میڈیا کے حوالے سے کن قلیل و طویل مدتی اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے

سوشل میڈیا

سعودی سفارتی عملے کو چاہیے کہ فوری طور پر سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک شعبہ قائم کریں۔ اس شعبے کی ذمہ داری ہو کہ حالات حاضرہ اور اہم ایشوز کے حوالے سے حقائق اردو زبان میں اچھے گرافکس اور چھوٹے ویڈیو کلپس کی صورت میں فراہم کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی جانب سے مختلف مواقع پر پاکستان کو فراہم کئے جانیوالے تعاون اور پاک سعودیہ تعلقات کے حوالے سے بھی معلومات فراہم کرے۔دونوں ممالک کے وفود کی ملاقاتوں اور مختلف منصوبہ جات کے بارے میں معلومات فراہم کرے کہ جن کے فوائد پاکستانی عوام کو ہوں گے۔ سعودی عرب کے حمایتی سیاسی و سماجی رہنماوں کے پیغامات شئیر کئے جائیں تاکہ عوام الناس کو پتہ چل سکے کہ اس مسئلے کی نوعیت کیا ہے اور انہیں درست معلومات سے آگاہی ہو سکے۔

ویب سیکشن

سعودی عرب کے سفارتی حلقوں کو حالات حاضرہ کے بارے معلومات کی فراہمی کے لئے ایک مکمل معلوماتی ویب سائٹ بنانے کی ضرورت ہے جس پر اس مسئلے کی نوعیت اور اس سے پیدا ہونیوالے مسائل کے بارے میں مکمل آگاہی موجود ہو۔ اس پر تمام ایسے مضامین اور تحریں بھی موجود ہوں جو کہ سعودی عرب کے حق میں لکھی گئی ہیں۔ ویڈیو ، گرافکس اور تحریری شکل میں مواد موجود ہو۔ اسی طرح ٹی وی ٹاک شوز اور قائدین کے موقف کو بھی واضح طور پر شائع کیا جائے۔

پریس ریلیز

سعود ی عرب کو چاہیے کہ حالات حاضرہ کے بارے میں حقائق پر مشتمل پریس ریلیز روزانہ کی بنیاد پر تمام ٹی وی چینلز اور اخبارات کو جاری کرے۔یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ پاکستانی میڈیا تمام تر مواد مغربی میڈیا اور خبریں فراہم کرنیوالی ایجنسیوں سے حاصل کرتا ہے۔ عربی میڈیا سے استفادہ نہیں کیا جاتا جس کے باعث اکثر عوام کو غلط معلومات فراہم کر دی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ الیکٹرانک میڈیا کے پروڈیوسرز کو معلومات اور ٹاک شوز میں شرکت کرنے کے لئے ماہرین بھی فراہم کئے جائیں جو کہ سعودی عرب کے موقف کی وضاحت کریں ۔

انٹرویوز اور اخبارات کے ایڈیشنز

سعودی سفارتی عملے کو چاہیے کہ سفیر کے مختلف ٹی وی چینلز اور اخبارات کے ساتھ انٹرویوز کا اہتمام کرے تاکہ وہ کھل کر اپنا موقف میڈیا پر پیش کر سکیں۔ اس وقت پورے پاکستانی میڈیا کا فوکس اس ایشو پر ہے اس لئے اس حوالے سے انٹرویوز با آسانی شائع اور نشر ہو جائیں گے۔ اسی طرح نامور ٹی وی اینکرز کے پروگرامز میں فون پر یا ذاتی طور پر شرکت بھی کی جا سکتی ہے۔

بریفنگ اور مواد کی فراہمی 

اسی طرح سعودی سفارتی عملہ اس ایشو کے حوالے سے اہم صحافیوں ، کالم نگار ، اینکرز، رپورٹرز اور اخباری مالکان سمیت میڈیا کے اہم ترین افراد کے لئے ایک بریفنگ کا اہتمام کرے اور انہیں موجود مسئلے کی تاریخ ، حالات اور تمام تر معلومات سے آگاہ کیا جائے۔اور یہ سلسلہ چند روز کے وقفے کے بعد مسلسل جاری رہنا چاہیے۔اسی طرح جو صحافی اور اینکرز وغیرہ اس بریفنگ میں شرکت نہ کر سکیں ان کو تمام تر مواد کو ویڈیو اور تحریری شکل میں فراہم کیا جائے۔ بڑا مسئلہ یہی ہے کہ پاکستانی میڈیا کے ایک بڑے حصے کو اس مسئلے کی نوعیت کا ہی پتہ نہیں ہے۔ اس دوران صحافیوں سے ملاقاتیں بھی ہوں گی جبکہ انہیں چند تحائف بھی پیش کئے جائیں۔ اسی طرح پروگرام پروڈیوسرز کو بھی یہ مواد فراہم کیا جائے کیونکہ انہوں نے ہی پروگرامز کی تیاری میں حصہ لینا ہوتا ہے۔ 

مانیٹرنگ ڈیسک

سعودی سفارتی عملہ فوری طور پر ایک مانیٹرنگ ڈیسک بھی قائم کرے جو کہ پاکستانی میڈیا میں اپنے ملک کے بارے میں ہونیوالے تذکرے اور شائع ہونیوالی تحریروں ، رہنماوں کے بیانات اور دیگر قسم کے مواد کو مانیٹر کرے۔اس سے انہیں یہ بات سمجھنے میں مدد ملے گی کہ پاکستانی رہنماوں اور میڈیا میں کس قسم کی غلط فہمیاں موجود ہیں اور انہیں کس طرح دور کیا جاسکتا ہے۔انہیں اندازہ ہوگا کہ مخالفت اور حمایت کس انداز میں کی جا رہی ہے۔

ڈیجیٹل آوٹ ریچ ٹیم کا قیام

ہر ملک کی وزارت خارجہ اپنے موقف کے اظہار اور مخالفین کو جواب دینے کے لئے ڈیجیٹل آوٹ ریچ ٹیم بناتی ہے۔اس کا مقصد سوشل ، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر پیش کئے جانیوالے مواد کا دلائل سے جواب دینا ہوتا ہے۔مختلف ویب سائٹس ، فورمز اور سوشل میڈیا پر کئے جانیوالے پروپیگنڈے کا جواب دینا ہوتا ہے۔مغربی ممالک نے اس حوالے سے باقاعدہ شعبے قائم کئے ہیں جو کہ مختلف زبانوں میں اپنے ملک کے خلاف پیش کئے جانیوالے کسی بھی قسم کے مواد کا دلائل کے ساتھ جواب دیتے ہیں

میگزین اور آن لائن نیوز لیٹر کا اجرا

کسی بھی ملک کے سفارتی عملے کی جانب سے میگزین اور آن لائن نیوز لیٹر کا اجرائ￿ بھی ایک اہم ترین اقدام ہوتا ہے کہ جس کے ذریعے میڈیا ، بیوروکریسی اور معاشرے کے دیگر اہم افراد کو اپنے ملک کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ اسلام آباد میں جرمن اور امریکی سفارت خانہ انتہائی اچھے انداز میں میگزین جاری کرتا ہے جسے ہر کسی کو مفت فراہم کیا جاتا ہے۔ اس میں اس ملک کی جانب سے پاکستان کے اندر شروع منصوبہ جات، طالب علموں کے وظائف ، اس ملک کو وزٹ کرنیوالوں کے خیالات اور بہت سی دوسری معلومات ہوتی ہیں۔

صحافیوں کے وزٹ

ایک اہم ترین طریقہ ملک کے نامور اور نوجوان صحافیوں کو وزٹ کرانا بھی ہے۔ سعودی سفارتی عملے کو چاہیے کہ وہ چند نامور صحافیوں ، اینکرز کے وزٹ کا اہتمام کرے۔ اس سے ایک اچھا تاثر پیدا ہوتا ہے اور وہ صحافی ضرور مثبت جذبات کے ساتھ اپنے تجربات شئیر کرتے ہیں۔ بہت سے ممالک نامور پاکستانی صحافیوں اور ایڈیٹرز کو اپنے ممالک کا وزٹ کراتے ہیں

صحافیوں کے لئے فیلو شپ اور ٹریننگ پروگرامز

کئی ممالک دوسرے ممالک کے صحافیوں کو اپنے ہاں کے میڈیا اداروں میں ٹریننگ اور کچھ عرصے کے لئے فیلو شپ کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس سے دونوں ممالک کے پروفیشنل صحافیوں کے درمیان تعلقات پیدا ہوتے ہیں جس سے دوسرے ممالک میں اپنا موقف پیش کرنے میں آسانی رہتی ہے۔سعودی عرب میں بھی کافی بڑے ٹی وی چینلز اور میڈیا گروپس موجود ہیں ان کی مدد سے پاکستانی صحافیوں کے لئے اس قسم کی مواقع کا اہتمام کیا جانا چاہیے تاکہ ملک کے اندر سعودی عرب کے حوالے سے پائی جانیوالی غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے۔ اسی طرح سفارت خانہ سعودی عرب کے صحافیوں کو بھی پاکستانی میڈیا اداروں میں مدعو کر سکتا ہے تاکہ انہیں ملکر کام کا تجربہ اور آپس میں تعلقات پیدا ہوں

سکالرشپ اور ٹیچر ایکسچینج پروگرام

اایک اور اہم طریقہ پاکستانی طلبہ کو میڈیا کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے سکالرشپس فراہم کرنا بھی ہے۔جس طرح جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ او ر ام القرائ￿ یونیورسٹی مکہ مکرمہ میں پاکستانی طلبہ کو داخلے دئیے جاتے ہیں اسی طرح سعودی عرب کی ان یونیورسٹیز کہ جہاں میڈیا کی تعلیم دی جاتی ہے وہاں پر بھی پاکستانی طلبہ کو سکالرشپس فراہم کی جائیں تاکہ وہ وہاں سے پڑھ کر ملک کے اندر میڈیا میں کام کریں یا تعلیمی اداروں میں پڑھائیں جس سے سعود ی عرب کو یقیناًدیرپا فوائد حاصل ہوں گے۔اسی طرح پاکستانی یونیورسٹی ٹیچرز کو سعودی جامعات میں پڑھانے اور ان کے اساتذہ کو پاکستانی یونیورسٹیز میں پڑھانے کے لئے پروگرامز شروع کئے جا سکتے ہیں۔اس سے میڈیا کی تعلیم حاصل کرنیوالے طلبہ کو دونوں ممالک کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا۔ تھنک ٹینک سے منسلک ماہرین مختلف یونیورسٹیز میں لیکچرز بھی دے سکتے ہیں۔

تھنک ٹینک کا قیام

سعودی عرب کو چاہیے کہ وہ پاک سعودیہ تعلقات ، دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات اور دیگر عالمی و علاقائی مسائل کے حوالے سے ریسرچ کرنے کے لئے ہم خیال ماہرین پر مشتمل ایک تھنک ٹینک قائم کرے۔اس کے تحت باقائدہ رپورٹس اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کے لئے معلومات فراہم کی جائیں جبکہ اور دونوں ممالک کے تعلقات ، عوامی رابطے اور تعاون کے حوالے سے بھی تحقیقاتی مواد فراہم کیا جائے۔اس کی رپورٹس اور دیگر مواد کو ملک کے اعلی ترین حلقوں اور پالیسی ساز اداروں تک پہنچایا جائے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری لائی جا سکے۔ان ماہرین کی عالمی و علاقائی اور پاک سعودیہ تعلقات پر گہری نظر ہو اور وہ اس حوالے سے ملکی میڈیا کے طرز عمل سے بھی آگاہ ہوں۔ یہ تھنک ٹینک سعودی عرب کی پالیسی کا مکمل پابند ہوگا ۔ اس کے تحت میڈیا کے حوالے سے تمام تر اقدامات سرانجام دئیے جا سکتے ہیں ۔ یہ ایک مانیٹرنگ ڈیسک کا بھی کام دے گا جو کہ پاکستانی میڈیا میں سعودی عرب کے بارے میں ہونیوالے تذکرے اور شائع ہونیوالی تحریروں ، رہنماوں کے بیانات اور دیگر قسم کے مواد کو مانیٹر کرے۔اس سے یہ بات سمجھنے میں مدد ملے گی کہ پاکستانی رہنماوں اور میڈیا میں کس قسم کی غلط فہمیاں موجود ہیں اور انہیں کس طرح دور کیا جاسکتا ہے۔یہ بھی اندازہ ہوگا کہ مخالفت اور حمایت کس انداز میں کی جا رہی ہے۔ یہ چند گزارشات ہیں جن پر فوری اور طویل مدتی عمل کرکے سعودی عرب کے حوالے سے میڈیا اور عوامی حلقوں میں پائی جانیوالی غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*