صفحہ اول > مضامین > بدعات ورسومات > شب براءت سے اعلان براءت

شب براءت سے اعلان براءت

تحریر: شیخ محمد رفیق طاہر

shabanاللہ رب العالمین نے تکمیل دین اسلام کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا :

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِيناً ۔ (المائدة : 3)

آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کر دیا ہے اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا ہے ۔

اور امام الأنبیاء جناب محمد مصطفى صلى اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ :

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۔(المائدة : 67)

اے رسول ! صلى اللہ علیہ وسلم جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس (سب کچھ ) کو پہنچا دیں ۔اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے پیغامات (الہیہ ) کو نہیں پہچایا ، اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا ۔

اور رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے یقینا سارے کا سارا دین ہم تک پہنچا دیا ہے اور اس کی گواہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حجۃ الوداع کے موقع پر یوں دی 

نعم قد بلغت وأدیت ونصحت ۔(صحیح مسلم کتاب الحج باب حجۃ النبی صلى اللہ علیہ وسلم ح 1218)

ہاں آپ نے دین حق پہنچا دیا ہے، امانت ادا کردی ہے اور نصیحت فرما دی ہے ۔

اور اللہ رب العالمین نے ہمیں صرف اور صرف وحی الہی کی اتباع کا حکم دیتے ہوئے غیر وحی کی پیروی سے منع کیا اور فرمایا :

اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ۔ (الأعراف : 3) 

جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف وحی کیا گیا اسی کی ہی پیروی کرو اور اس کے علاوہ دیگر اولیاء کی پیروی نہ کرو تم کم ہی نصیحت حاصل کرتے ہو۔

اور وحی الہی صرف اور صرف کتاب وسنت میں محصور و مقصور ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالى نے ان دونوں یعنی کتا ب اللہ اور سنت رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم میں اضافہ کرنے والے کے لیے وعید سنائی اور فرمایا :

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ۔(الأنعام : 21) 

اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالى پر جھوٹ باندھے یا اللہ تعالى کی آیت کو جھٹلائے یقینا ظالم کامیاب نہیں ہونگے ۔

حتى کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں بھی اللہ تعالى نے واضح لفظوں میں ارشاد فرمادیا :

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ ۔ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ۔ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ۔ فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ ۔(الحاقۃ : 44-47) 

اور اگر یہ بھی ہم پر کچھ جھوٹ باندھ دیتے تو ہم انہیں بھی دائیں ہاتھ سے پکڑتے پھر ہم ان کی شہہ رگ کاٹ دیتے اور تم میں سے کو ئی انہیں بچانے والا نہ ہوتا ۔

اسی طرح رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے جھوٹی احادیث گھڑنے والوں کے بارہ میں فرمایا : 

لاَ تَكْذِبُوا عَلَىَّ فَإِنَّهُ مَنْ يَكْذِبْ عَلَىَّ يَلِجِ النَّارَ۔(صحیح مسلم ح 2) 

مجھ پر جھوٹ نہ باندھو جس نے مجھ پر جھوٹ پر باندھا وہ آگ میں جائے گا۔

نیز فرمایا : 

مَنْ تَعَمَّدَ عَلَىَّ كَذِبًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ۔( صحیح مسلم ح 3) 

جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔

اسی طرح آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے ہر سنی سنائی حدیث کو بلا تحقیق بیان کرنے سے بھی منع فرما دیا کہ کہیں اس میں جھوٹ کی آمزیش نہ ہو :

كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ ۔(صحیح مسلم باب النَّهْىِ عَنِ الْحَدِيثِ بِكُلِّ مَا سَمِعَ ح 7)

آدمی کے لیے اتنا جھوٹ ہی کا فی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کردے ۔

اسی طرح آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے جھوٹی روایات کو بیان کرنے سے بھی منع فرما دیا : 

مَنْ حَدَّثَ عَنِّى بِحَدِيثٍ يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ۔ (صحیح مسلم ح 1) 

جس نے میر ی طرف منسوب شدہ کوئی ایسی حدیث بیان کی جسے جھوٹی روایت کہا جاتا تھا تو وہ (بیان کرنے والا ) بھی جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا ہے ۔

اسی طرح دین میں نئی نئی بدعتیں ایجاد کرنے کو رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے ضلالت و گمراہی سے تعبیر کرتے ہوئے فرمایا : 

وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ۔ (سنن أبی داود کتاب السنۃ باب فی لزوم السنۃ ح 4607) 

اور تم نو ایجاد شدہ کاموں سے بچو یقینا ہر نو ایجاد شدہ چیز بدعت ہے اور بدعت گمراہی ہے ۔

اور ان کاموں کو مردود قرار دیتے ہوئے فرمایا : 

مَنْ أَحْدَثَ فِى أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ ۔(صحیح مسلم کتاب الأقضیۃ باب نقض الأمور الباطلۃ ورد محدثات الأمور ح 1718) 

جس نے بھی ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے ۔

اور اسی طرح اپنے ہر خطبہ میں ارشاد فرماتے : 

فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ ۔( صحیح مسلم کتاب الجمعۃ باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ ح 867) 

یقینا بہترین حدیث کتاب اللہ اور بہترین طریقہ محمد صلى اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے اور بدترین کام اس (دین محمدی صلى اللہ علیہ وسلم ) میں نو ایجاد شدہ کام ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔

مگر صد حیف کہ آج ہمارے اس دور میں بدعات و خرافات کا ایک طوفان امڈا نظر آتا ہے ہر نیا دن نئے فتنے کو جنم دینے والا اور نیا سال نئی بدعت کو فروغ دینے والا ثابت ہوتا ہے ۔ امت مسلمہ خرافات وبدعات میں ایسی کھوئی ہے کہ سنت وسیرت کو بھول چکی ہے ۔ اب بدعت ہی لوگوں کا دین بن چکا ہے , خرافات ان کی عبادات بن گئی ہیں , اللہ اور اس کے رسول صلى اللہ علیہ وسلم کی حکم عدولیاں ان کے لیے طاعات کا درجہ رکھتی ہیں ۔اور ستم بالائے ستم کہ یہ سب کچھ فضیلتوں کے لباس میں ملبوس نظر آتا ہے , اور ناصح اگر کوئی اٹھے اور ان کی چیرہ دستیوں کی نقاب کشائی کرنا چاہے تو رجعت پسند، بنیاد پرست اور دقیانوس کے القاب سے ملقب ہو جاتا ہے ، بقول شاعر

خرد کانام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد

جو چاہے تیرا حسن کرشمہ ساز کرے

ان بدعات و محدثات میں سے ایک بدعت شب براءت کے جشن کی بھی ہے، اس میں بھی اللہ اور اس کے رسول صلى اللہ علیہ وسلم کی نافرمانیاں بام عروج کو پہنچتی ہیں، جن کاموں سے شریعت نے منع کیا ہے ان کاموں کا ارتکاب کیا جاتا ہے اور جن کاموں کاحکم دیا ہے ان سے اعراض کیا جاتا ہے 

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

اس مختصر سی بحث میں ہم ماہ شعبان کی فضیلتوں اور برکتوں کو بیان کرکے اس ماہ مقدس میں مروجہ بدعات و خرافات کا رد پیش کریں گے اللہ سے دعاء ہے کہ وہ ہمیں اس کام کی توفیق دے جس پر وہ راضی ہو اور ہمارے اس عمل کو شرف قبولیت سے نوازے ۔ آمین ۔

ماہ شعبان کی فضیلت:

نمبر1:

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ إِلَّا رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ ۔(بخاری:1969)

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے چلے جاتے حتى کہ ہم یہ کہنے لگتے کہ آپ روزہ رکھنا نہ چھوڑیں گے ۔ اور آپ صلى اللہ علیہ وسلم روزہ چھوڑتے چلے جاتے حتى کہ ہم کہتے کہ آپ روزہ نہیں رکھیں گے ۔ میں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو ماہ رمضان کے علاوہ اور کسی ماہ کے مکمل روزے رکھتے نہیں دیکھا اور ماہ شعبان کے مقابلہ میں کسی بھی ماہ میں زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا۔

نمبر2:

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَّا شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ۔(ترمذی:736)

ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کو شعبان اور رمضان کے علاوہ کسی دوسرے دو مہینوں میں مسلسل روزے رکھتے نہیں دیکھا۔

نمبر3:

اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَرَكَ تَصُومُ شَهْرًا مِنْ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ قَالَ ذَلِكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيهِ الْأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ ۔(نسائی:2357)

میں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ شعبان میں جتنے روزے رکھتے ہیں میں نے آپ کو شعبان کے علاوہ کسی اور مہینے میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھا ؟ تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رجب و رمضان کے مابین وہ مہینہ ہے کہ جس سے لوگ غافل ہیں ۔ یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس میں اعمال رب العالمین کے حضور پیش ہوتے ہیں تو میں پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال اس حال میں اللہ کے حضور پیش ہوں کہ میں روزے سے ہوں۔

نصف شعبان کے بعد روزہ سے ممانعت:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 

إِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ فَلَا تَصُومُوا ۔( ابو داود:2337)

جب شعبان نصف ہو جائے تو روزہ نہ رکھو۔

استقبال رمضان کا روزہ رکھنے کی ممانعت:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 

لَا يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمَهُ فَلْيَصُمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ ۔(بخاری:1914)

تم میں سے کوئی بھی رمضان سے ایک یا دو دن قبل روزہ نہ رکھے الا کہ اگر کوئی شخص کسی دن کا روزہ رکھتا ہو تو وہ اس دن کا روزہ رکھ لے۔

یعنی مثلا اگر کوئی شخص سوموار اور جمعرات کا روزہ باقاعدگی سے رکھتا ہے اور سوموار یا جمعرات کا دن رمضان سے متصل ایک دن قبل آجائے تو ایسے شخص کے لیے یہ روزہ رکھنا جائز ہے ۔ لیکن رمضان کے استقبال کی غرض سے شعبان کے آخری ایک یا دو دن کا روزہ رکھنا ممنوع ہے۔

پندرہ شعبان کے روزے کی ممانعت:

مذکورہ بالا دونوں احادیث کو مدنظر رکھنے سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ جب شعبان کا مہینہ نصف ہو جائے تو کسی کو بھی رمضان سے پہلے روزہ رکھنے کی اجازت نہیں ہے ۔ اور جب شعبان کے چودہ دن گزر جائیں توا س کے بعد شعبان کا مہینہ نصف ہو جاتا ہے کیونکہ کسی کو علم نہیں کہ شعبان 29 دن کا ہو گا یا 30 دن کا ۔ یعنی 15 شعبان کا دن پہلے نصف حصہ میں داخل ہے یا بعد والے نصف حصہ میں ۔ یعنی 15 شعبان کے دن کا روزہ مشکوک ہے اور شک والے دن کا روزہ رکھنے سے بھی دین اسلام میں ممانعت وارد ہے : سیدنا عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

جس نے شک والے دن کاروزہ رکھا اس نے ابو القاسم صلى اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔(ترمذی:686)

ہاں البتہ جو شخص ہر ماہ ایام بیض( 13,14,15 تاریخ) کے روزے رکھتا ہو تواس کے لیے رخصت ہے کہ وہ پندرہ شعبان کا روزہ بھی رکھ لے ۔

افضل ترین روزہ:

1۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کونسا روزہ افضل ہے؟ تو آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : شعبان لتعظیم رمضان . ماہ رمضان کی تعظیم میں شعبان کا روزہ رکھنا ۔

یہ روایت صدقہ بن موسی کے ضعیف ہونےکی بناء پر ضعیف ہے نیز اس صحیح حدیث کے خلاف بھی ہے جس میں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے محرم الحرام کے روزہ کو رمضان کے بعد افضل ترین روزہ قرار یا ہے۔

نصف شعبان کا روزہ:

اسی طرح کی ایک اور روایت سنن ابن ماجہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إذا كانت ليلة النصف من شعبان ، فقوموا ليلها وصوموا نهارها ، فإن الله ينزل فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا ، فيقول : ألا من مستغفر لي فأغفر له ألا مسترزق فأرزقه ألا مبتلى فأعافيه ألا كذا ألا كذا ، حتى يطلع الفجر ۔(سنن ابن ماجه – كتاب إقامة الصلاة والسنۃفیھا، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان- حديث:‏138۸‏)

جب نصف شعبان کی رات آئے تو ا س قیام کرو اور دن کا روزہ رکھو ، بے شک اللہ تعالیٰ غروب شمس کے بعد آسمان دنیا پر آجاتے ہیں اور اعلان فرماتے ہیں کہ کیا کوئی مجھ سے معافی مانگنے والا نہیں کہ میں اس کو معاف کردوں ؟ کیا کوئی رزق مانگنے والا نہیں ہے کہ میں اس کو رزق دوں؟ کیا کوئی پریشانی میں مبتلا نہیں ہے کہ میں اسے عافیت دوں؟ کیا کوئی ایسا نہیں ہے؟ کیا کوئی ایسا نہیں ہے؟ حتی کہ فجر طلوع ہوجاتی ہے۔

اس روایت کی سند میں ابوبکر بن محمد بن ابی سبرۃ السبری المدنی ہے، جو کہ ضعیف ہےبلکہ امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے کہا ہے کہ یہ روایتیں گھڑتا ہے۔ لہٰذا یہ روایت موضوع ہے۔ اور من گھڑت روایات ضعیف کی بدترین قسم ہے۔

مشرک یا کینہ پرور کے سوا عام معافی:

ایک روایت یہ بھی پیش کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات کو مشرک اور بغض وکینہ رکھنے والے کے سوا اپنی ساری مخلوق کو معاف فرمادیتے ہیں۔(سنن ابن ماجه – كتاب إقامة الصلاة والسنۃفیھا، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان – حديث:‏13۹۰)

لیکن اس کی سند میں بھی کئی علتیں ہیں جن میں سے عبداللہ بن لھیعہ کا مختلط ہونا اور ضحاک بن ایمن کا مجہول ہونابالخصوص قابل ذکر ہیں۔ لہٰذا ان دوموٹی موٹی وجوہات کی بنا پر یہ روایت بھی ساقط الاعتبار ٹھہری۔

میرا مہینہ:

ایک روایت یہ بھی بیان کی جاتی ہے :

رجب شہر اللہ وشعبان شہری و رمضان شہر أمتی۔

رجب اللہ کا مہینہ ہے شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے

اس روایت میں ابو بکر نقاش نامی روای کذاب ہے وہ حدیثیں گھڑا کرتا تھا لہذا یہ روایت بھی ساقط الاعتبار ہے۔

صلاۃ الفیۃ:

ایک روایت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

یا علی من صلى مائۃ رکعۃ فی لیلۃ النصف من شعبان یقرأ فی کل رکعۃ بفاتحۃ الکتاب وقل ہوا للہ احد عشر مرات , یا علی ما من عبدیصلى ہذہ الصلوات إلا قضی اللہ عزو جل لہ کل حاجۃ طلبہا تلک اللیلۃ ۔(اللآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ للسیوطی جلد 2 صفحہ 49)

اے علی جس نے نصف شعبان کی رات کو سو رکعت نماز اس طرح سے پڑھی کہ ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ اور اس کے بعد د س دس مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھی ، اے علی جو بندہ بھی یہ نماز پڑھ لے تو اللہ تعالى اس کی ہر وہ حاجت پوری کرے گا جو بھی وہ اللہ سے مانگے۔

اس نماز کو لوگ صلاۃ البراۃ یا صلاۃ الالفیۃ ادا کہتے ہیں ۔ اس کا ثبوت کسی صحیح حدیث میں موجود نہیں ہے۔ اس كی تين سندیں ہیں اور ہر سند مجاہیل کے ساتھ بھری ہوئی ہے۔ اسی طرح ایک روایت یہ بھی بیان کی جاتی ہے: 

من صلى ليلة النصف من شعبان ثنتي عشرة ركعة يقرأ في كل ركعة قل هو الله أحد ثلاثين مرة، لم يخرج حتى يرى مقعده من الجنة ويشفع في عشرة من أهل بيته كلهم وجبت له النار ۔ (اللآلی المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ للسیوطی جلد 2 صفحہ 49 , الموضوعات لابن جوزی جلد2 صفحہ 129)

جو شخص نصف شعبان کی رات بارہ رکعتیں پڑھے اور ہر رکعت میں سورۃ الاخلاص تیس مرتبہ پڑھے تو وہ نماز سے فارغ ہونے سے پہلے جنت میں اپنا ٹھکانہ دیکھ لے گا۔

یہ روایت بھی مجاہیل کی ایک بہت بڑی جماعت نے بیان کی ہے ۔

بے حساب مغفرۃ:

ایک روایت جامع ترمذی کے حوالے سے پیش کی جاتی ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا بیان فرماتی ہیں:

فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة فخرجت ، فإذا هو بالبقيع ، فقال : ” أكنت تخافين أن يحيف الله عليك ورسوله ” ، قلت : يا رسول الله ، إني ظننت أنك أتيت بعض نسائك ، فقال : ” إن الله عز وجل ينزل ليلة النصف من شعبان إلى السماء الدنيا ، فيغفر لأكثر من عدد شعر غنم كلب ۔ (جامع الترمذي ، أبواب الصوم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ،باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان، حديث:‏۷۳۹)

میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا تو میں آپ کی تلاش میں نکلی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تجھے خوف تھا کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم تجھ پر ظلم کریں گے؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں سمجھی شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں میں سے کسی کے پاس گئے ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نصف شعبان (پندرھویں) کی رات کو آسمان دنیا پر اترتے ہیں اور کلب قبیلہ کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ لوگوں کو معاف فرماتے ہیں۔

اس روایت کی سند میں کئی نقص ہیں۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد خود ہی لکھا ہے: 

حديث عائشة لا نعرفه إلا من هذا الوجه من حديث الحجاج ” ، وسمعت محمدا يضعف هذا الحديث ، وقال : يحيى بن أبي كثير لم يسمع من عروة ، والحجاج بن أرطاة لم يسمع من يحيى بن أبي كثير۔

عائشہ رضی اللہ عنھا کی یہ حدیث ‏صرف اسی سند سے ہی مروی ہے اور میں نے امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ الباری کو سنا کہ وہ اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یحییٰ بن ابی کثیر نے عروہ سے نہیں سنا اور حجاج بن ارطاۃ نے یحییٰ بن ابی کثیر سے نہیں سنا۔

تو گویا امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف قراردیا ہے اور سبب ضعف بیان کرتے ہوئے سند کا دوجگہ پر انقطاع ذکر فریاما ہے۔ اور اسی طرح “حجاج بن ارطاۃ” صدوق ہے لیکن کثیر الخطاء والتدلیس ہے، اور یحییٰ بن ابی کثیر بھی مدلس راوی ہے، اور یہ دونوں لفظ “عن” سے روایت کررہے ہیں اور عالم اصول میں یہ بات مسلمہ ہے کہ مدلس راوی کا عنعنہ ناقابل قبول ہے۔

لہٰذا ان چار نقائص کی بناء پر یہ روایت مردود و ناقابل اعتبار ہے۔

ایک مغالطہ کا ازالہ :

محدث العصر علامہ ناصر البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو السلسلۃ الصحیحۃ 3/135 (1144) میں نقل فرمایا ہے۔ اور اس کے بعد رقمطراز ہیں : 

حديث صحيح، روي عن جماعة من الصحابة من طرق مختلفة يشد بعضها بعضا۔

یہ حدیث صحیح ہے ۔ اسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک جماعت نے مختلف سندوں سے روایت کیا ہے جو کہ ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں ۔

پھر اس کے بعد شیخ صاحب نے وہ اسانید بیان کی ہیں اور ان کی تخریج و تحقیق پیش فرمائی ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ روایت ان تمام تر اسانید کی بناء پر حسن لغیرہ کے رتبہ تک بھی نہیں پہنچتی ہے چہ جائیکہ اسے صحیح قرار دیا جائے ۔بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ اس تعدد طرق کی بناء پر اس روایت کے سقم میں اور زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

شیخ البانی رحمہ اللہ کا کلام اور اس پر مختصر سا تبصرہ ہم ذیل میں ذکر کیے دیتے ہیں :

1۔ حدیث معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ : یہ روایت بسند مکحول ازمالک بن یخامر از معاذ بن جبل ان کتب میں موجود ہے : کتاب السنہ لابن ابی عاصم (512) ابن حبان (1980) , أمالی قزوینی 4/2 , المجلس السابع از ابو محمد الجوہری 3/2 ,أمالی لابی القاسم الحسینی ق 12/1 , شعب الإیمان للبیہقی 3/382 , تاریخ دمشق لابن عساکر 40/142 وغیرہ

اس روایت کی مکمل تخریج کے بعد شیخ البانی رحمہ اللہ خود لکھتے ہیں :

قال الذهبي : مكحول لم يلق مالك بن يخامر 

یعنی مکحول کی ملاقات مالک بن یخامر سے ثابت نہیں ہے ۔

مزید فرماتے ہیں :

قلت : و لولا ذلك لكان الإسناد حسنا , فإن رجاله موثوقون , و قال الهيثمي في ۔ (مجمع الزوائد ” ( 8 / 65 ) : ، رواه الطبراني في ” الكبير ” و ” الأوسط ” و رجالهما ثقات )

میں (البانی) کہتا ہوں کہ اگر یہ (انقطاع ) نہ ہوتا تو اس کی سند حسن ہوتی کیونکہ اس کے تمام تر رجال ثقہ ہیں اور ہیثمی نے مجمع الزوائد میں کہا ہے کہ اسے طبرانی نے المعجم الکبیر اور المعجم الأوسط میں نقل کیا ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں۔

یعنی شیخ البانی رحمہ اللہ اس سند کو بسبب انقطاع ضعیف مان رہے ہیں ۔

2۔ حدیث أبی ثعلبہ رضی اللہ عنہ : اسے احوص بن حکیم نے بطریق مہاصر بن حبیب از ابی ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کیا ہے ۔ اور یہ روایت ان کتب میں اسی سند کے ساتھ موجود ہے : کتاب السنہ لابن ابی عاصم (511) کتاب العرش لمحمد بن عثمان بن أبی شیبۃ (87)۔

اس روایت کی سند میں الأحوص بن حکیم ضعیف ہے جیسا کہ شیخ البانی نے بھی ذکر فرمایا ہے , نیز مہاصر بن حبیب کی ابو ثعلبہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے ۔

3۔ حدیث عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ: اسے عبد اللہ بن لہیعہ نے بطریق حیی بن عبد اللہ از ابی عبد الرحمن الحبلی از عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کیا ہے , یہ روایت مسند احمد (6642) میں موجود ہے ۔ شیخ البانی رحمہ اللہ اس کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں : 

و هذا إسناد لا بأس به في المتابعات و الشواهد 

یعنی یہ ایسی سند ہے کہ جو متابعات اور شواہد میں چل جاتی ہے ۔

لیکن عرض یہ ہے کہ اس کی سند میں عبد اللہ بن لہیعہ مختلط راوی ہے اور اس روایت کو ابن لہیعہ سے نقل کرنے والے حسن بن موسى کا ابن لہیعہ سے سماع قبل از اختلاط ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔

شیخ البانی رحمہ اللہ اس سند کو نقل کرنے بعد فرماتے ہیں :

لكن تابعه رشدين بن سعد بن حيي به . أخرجه ابن حيويه في ۔حديثه ” . ( 3/ 10 / 1 ) فالحديث حسن .

یعنی اس (ابن لہیعہ) کی متابعت رشدین بن سعد نے کررکھی ہے جسے کہ ابن حیویہ نے اپنی حدیث میں نقل کیا ہے لہذا یہ حدیث حسن ہے ۔

لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ رشدین بن سعد خود ضعیف ہے ۔ تو ایک ضعیف کی متابعت کرنے سے ایک مختلط کی روایت حسن کیسے ہو جائے گی ؟

الغرض یہ روایت اس متابعت کے باوجود ضعیف ہی ہے ۔

4۔ حدیث ابی موسى رضی اللہ عنہ : اسے بھی ابن لہیعہ نے بطریق زبیر بن سلیم از ضحاک بن عبد الرحمن عن ابیہ از ابو موسى رضی اللہ عنہ روایت کیا ہے ۔ اسے ابن ماجہ نے اپنی سنن (1390) میں اور ابن ابی عاصم اللالکائی (510) نے نقل کیا ہے ۔ اس کی تخریج کے بعد شیخ البانی رحمہ اللہ خود لکھتے ہیں :

و هذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة . و عبد الرحمن و هو ابن عرزب والد الضحاك مجهول 

یعنی یہ سند ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے اور عبد الرحمن بن عرزب جوکہ ضحاک کے والد ہیں وہ بھی مجہول ہیں ۔

اسی طرح ابن ماجہ نے اسی روایت کو ایک دوسری سند کے بیان کیا ہے جس میں ولید بن مسلم مدلس ہیں اور ضحاک بن ایمن مجہول ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ سند منقطع بھی ہے۔ جیساکہ شیخ البانی رحمہ اللہ نےبھی اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ یعنی یہ روایت بھی سخت ضعیف ہے۔

5۔ حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ: اسے ہشام بن عبد الرحمن نے بطریق اعمش از ابی صالح از ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کیا ہے اور یہ روایت بزار نے اپنی مسند (2046) میں نقل کیا ہے ۔ اس کے بارہ میں شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کہ ہیثمی نے کہا ہے :

و هشام بن عبد الرحمن لم أعرفه ، و بقية رجاله ثقات۔

ہشام بن عبد الرحمن کو میں نہیں جانتا (یعنی میرے نزدیک وہ مجہول ہے ) اور اس کے باقی رجال ثقہ ہیں ۔

یعنی یہ روایت بھی سخت ضعیف ہے ۔

6۔ حدیث ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ : اسے عبد الملک بن عبد الملک نے بطریق مصعب بن أبی ذئب از قاسم بن محمد عن أبیہ أو عن عمہ از ابی بکر رضی اللہ عنہ بیان کیا ہے , اور یہ روایت بزار (2045) , کتاب التوحید لابن خزیمہ (200) السنہ لابن ابی عاصم (509) السنہ للالکائی (75)، أخبار اصبہان لأبی نعیم 2/2 , اور شعب الایمان للبیہقی (3827) میں موجود ہے ۔

شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت پر کلام کرتے ہوئے امام بخاری رحمہ اللہ الباری کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے : 

و عبد الملك هذا قال البخاري : ” في حديثه نظر ” 

یعنی اس عبد الملک کے بارہ میں امام بخاری رحمہ اللہ الباری فرماتے ہیں کہ اس کی حدیث میں “نظر ” ہے (امام بخاری کا فیہ حدیث نظر کہنے کا معنى ہوتا ہے کہ یہ راوی متروک ہے) ۔ امام بخاری کے علاوہ دیگر جمہور محدثین نے اس پر جرح فرمائی ہے ۔ الغرض یہ روایت بھی پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی ۔

7۔ حدیث عوف بن مالک رضی اللہ عنہ : اسے ابن لہیعہ نے ازعبد الرحمن بن انعم از عبادۃ بن نسی از کثیر بن مرۃ کی سند سے بیان کیا ہے اور اس روایت کو بزار نے اپنی مسند (2048) میں اور ابو محمد الجوہری نے المجلس السابع میں نقل کیا ہے ۔ شیخ البانی رحمہ اللہ اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: 

و علته عبد الرحمن هذا و به أعله الهيثمي فقال : ” و ثقة أحمد بن صالح و ضعفه جمهور الأئمة ، و ابن لهيعة لين و بقية رجاله ثقات 

یعنی اس کی روایت کے ضعیف ہونے کی وجہ عبد الرحمن ہے اور اسی بناء پر اسے ہیثمی نے معلول قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسے احمد بن صالح نے ثقہ کہا ہے جبکہ جمہور أئمہ حدیث نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن لہیعہ لین الحدیث ہے اور اس کے باقی رجال ثقہ ہیں ۔

الغرض یہ روایت بھی ان دو علتوں کی بنا پر ساقط الاعتبار اور ضعیف ہے ۔

8۔ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا : یہ روایت حجاج بن ارطاۃ نے یحیحى بن ابی کثیر از عروۃ کی سند سے بیان کی ہے ۔ اس روایت پر کلام ہم اس بحث سے قبل کرچکے ہیں ۔ اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف ہی قرار دیا ہے ۔

اس تمام تر بحث کےبعد موصوف لکھتے ہیں :

و جملة القول أن الحديث بمجموع هذه الطرق صحيح بلا ريب و الصحة تثبت بأقل منهاعددا ما دامت سالمة من الضعف الشديد كما هو الشأن في هذا الحديث 

یعنی خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ حدیث ان اسانید کے مجموعہ کی بناء پر بلا شک وشبہ صحیح ہے اور صحت تو اس سے بھی کم تعداد کے ساتھ ثابت ہو جاتی ہے جب وہ تعداد ضعف شدید سے خالی ہو جیسا کہ اس روایت میں ہے ۔

لیکن قارئین کرام ! حقیقت حال آپ پر واضح ہے کہ اس کی تمام سر اسانید ضعف شدید کے ساتھ بھری ہوئی ہیں کیونکہ ہر سند میں یاتو کوئی راوی مجہول ہے یا ساقط ہے اور ساقط راوی بھی مجہول ہی ہوتا ۔ ہاں البتہ صرف اور صرف ایک سند ایسی ہے کہ جس میں ضعف قدرے خفیف ہے اور وہ عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ والی روایت ہے کہ جس میں ابن لہیعہ کا اختلاط ہے وجہ ضعف ہے ۔ اور تعدد طرق کی بناء پر حدیث حسن لغیرہ اس وقت بنتی ہے جب اس کی سندوں میں ضعف شدید نہ ہو یعنی رواۃ کا ضعف ان کے حافظہ کی بناء پر ہو اور وہ بھی تغیر ، وہم یا اختلاط کی قبیل سے ہو۔ وگرنہ تعدد طرق بھی روایت کو قبولیت کے درجہ پرلےجانے کا سبب نہیں بنتا ہے ۔

لہذا اس بحث کا خلاصہ یہ نکلا کہ اس روایت کو صحیح کہنا محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کا سہو ہے ۔ اور حقیقتاً یہ روایت ضعیف اور ناقابل اعتبار ہے ۔

كلمة حق أريد بها الباطل

بعض لوگ سورۂ دخان کی ابتدائی آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ اس میں جو لیلہ مبارکہ کا تذکرہ ہوا ہے وہ نصف شعبان کی رات ہے۔ مگر یہ قیاس آرائی محض باطل پر مبنی ہے۔ کیونکہ اللہ رب العالمین نے سورۂ دخان میں فرمایا ہے:

إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ* فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ۔(الدخان:۳،۴)

یقیناً ہم نے اس (قرآن) کو بابرکت رات میں نازل کیا ہے کیونکہ ہم ڈرانے والے ہیں۔ (یہ وہ رات ہے) جس میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ کیا جاتا ہے۔

اس جگہ لیلہ مبارکہ سے مراد لیلۃ القدر ہی ہے کیونکہ قرآن مجید لیلۃ القدر میں نازل کیا گیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ۔(القدر:1)

ہم نے اس کو قدر والی رات میں نازل کیا ہے۔

اور یہ معلوم ہے کہ لیلۃ القدر رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں ہے ۔ اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے:

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيَ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ۔ (البقرة:185)

رمضان کا مہینا وہ ہے کہ جس می قرآن نازل کیا گیا ہے۔

ان تینوں آیات کو جمع کرنے سے یہ معلوم ہواکہ لیلہ مباکہ لیلہ قدر ہے اور وہ رمضان میں ہے کیونکہ قرآن مجید کا نزول رمضان کے مہینہ میں لیلہ مبارکہ یعنی لیلہ قدر کو ہوا۔ اور اسی رات ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ کیا جاتا ہے، نہ کہ شعبان کی پندرھویں رات کو۔

حاصل البحث:

اس مذکورہ بالا توضیح سے یہ نتیجہ نکلا کہ نصف شعبان کے بارہ میں جو بھی مرویا ت ہیں وہ تمام تر موضوع یا ضعیف ہیں ۔ یہی بات امام عقیلی نے الضعفاء ۲۹/۳ میں اور حافظ ابو الخطاب ابن دحیہ نے الباعث علی انکار البدع والحودث ص۲۵ میں کہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*