صفحہ اول > مضامین > اصلاح معاشرہ وحالات حاضرہ > تحفظ حرمین الشریفین کے لئے مرکزی جمعیت اہلحدیث کی سفارتی مہم

تحفظ حرمین الشریفین کے لئے مرکزی جمعیت اہلحدیث کی سفارتی مہم

پروفیسرمحمد عاصم حفیظ

Asim Hafeezیمن تنازعے کے بعد پیدا ہونیوالی صورتحال، قومی اسمبلی کی قرارداد اور افواج پاکستان کو نہ بھیجنے کے اعلانات اور اس کے بعد سانحہ منی کے بعد ملکی میڈیا میں ہونیوالی منفی پروپیگنڈے نے پاک سعودیہ تعلقات میں کئی غلط فہمیوں کو جنم دیا ہے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ دونوں ممالک کو دور کرنے کی کوششیں کرنے والے عناصر کامیاب رہے ہیں۔ بدقسمتی سے یمن تنازعے کے بعد ملکی سیاست میں خوب ہلچل مچی، میڈیا اور کچھ مخصوص حلقوں کی جانب سے پاک سعودیہ تعلقات کو مشکوک بناکے رکھ دیا گیاج بکہ سانحہ منی کو بھی ملکی ذرائع ابلاغ نے انتہائی غلط رنگ میں پیش کیا اور من گھڑت واقعات کو لے کر خادمین الحرمین الشریفین کو ہدف تنقید بنایا گیا۔ قومی اسمبلی کی یمن تنازعے کے حوالے سے قرارداد نے بھی دونوں ممالک کے درمیان کئی غلط فہمیوں کو جنم دیا تھا ۔ لیکن گزشتہ دنوں ہونیوالے کچھ اہم واقعات نے اس تاثر کی نفی کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ ان حالات میں کسی اعلی ترین عہدیدار کا سعودی عرب جانا انتہائی ضروری تھا جس کا آرمی چیف نے بھرپور احساس کیا دوسری جانب مرکزی جمعیت اہلحدیث اور کئی دیگر جماعتوں نے بھی تحفظ حرمین الشریفین کی بھرپور مہم چلائی، جس کے انتہائی مفید اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ خادم الحرمین الشریفین کی جانب سے پاکستانی آرمی چیف جنرل راحیل کے حالیہ دورہ سعودی عرب میں ان کی بھرپور پذیرائی نے دونوں ممالک کے درمیان پائی جانے والی کئی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد دی ہے جس کے دو طرفہ تعلقات میں بہتری کے حوالے سے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ سپہ سالار کا استقبال، شاہی پروٹوکول اور ان کی تکریم سے واضح پیغام ملا ہے کہ سعودی حکام پاک فوج کے کردار سے انتہائی خوش ہیں۔ آرمی چیف کی یہ سفارت کاری دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں مدد دے گی۔ اب حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ اس دورے کے اثرات سمیٹنے کے حوالے سے بھرپور سرگرمی کا مظاہرہ کرے تاکہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی ہو سکے جو کہ دونوں ممالک کے درمیان دوریاں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اسی دوران سعودی کمانڈوز کی جنگی تیاریوں اور ان کی پیشہ ورانہ مہارت پر مشتمل ایک ویڈیو کلپ نے بھی پوری دنیا میں ہلچل مچا دی تھی۔ وہ حلقے جو یہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب محض تیل کی دولت کے بل بوتے پر ہی اپنا دفاع کرتا آیا ہے ان کے لئے واضح پیغام تھا کہ سعودی عرب کے یہ کمانڈوز کسی بھی قسم کے حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سعودی افواج نے یمن کے معاملے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ دراصل سعودی عرب کے یہ کمانڈوز اپنے پاکستانی عسکری ماہرین کی صلاحیتوں کا اظہار ہیں کہ جنہوں نے کئی مشترکہ جنگی مشقوں اور تربیتی کورسز میں ان کو پروفیشنل انداز میں فنون حرب سکھائے ہیں۔ سعودی نوجوان نسل اور افواج کے چاک و چوبند دستے اپنی پاکستانی عسکری ماہرین کے احسان مند ہیں کہ جنہوں نے نہ صرف ان کے ملک کی مشکل حالات میں نہ صرف مدد کی بلکہ جنگی مہارتوں سے مزین کیا۔
آرمی چیف کے بے مثال کردار کے ساتھ ساتھ ہمیں ان سرگرم عوامی حلقوں کی کاوشوں کو بھی سراہنا چاہیے کہ جنہوں نے اس نازک دور میں پاک سعودیہ تعلقات کے حوالے سے بھرپور آواز بلند کی ہے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان پاک سعودیہ تعلقات میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کے خاتمے کے لئے سب سے آگے نظر آتی ہے۔ الحمداللہ اس جماعت کے اکابرین کا سعودی عرب سے محبت و پیار، اخلاص اور توحید باری تعالی کی الفت کی بنیاد پر ایک مضبوط رشتہ استوار رہا ہے جسے تمام کارکنان اور جماعتی عہدیداران بخوبی نبھا رہے ہیں۔ سعودی حکام بھی جماعت کے اس بے مثال کردار کو بھرپور سراہتے ہیں۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کی جانب سے بحرین میں شرپسند عناصر کی شورش، یمن تنازعے اور سانحہ منی کے بعد سعودی عرب کے حوالے سے جھوٹے پروپیگنڈے کے تدارک اور حرمین الشریفین کی خدمات کے متعلق عوامی شعور بیدار کرنے کے لئے بھرپور مہم چلائی گئی۔ یمن تنازعے کے حوالے سے سعودی عرب کی حمایت میں ملک بھر میں بڑی بڑی ریلیوں اور جلسے جلوسوں کا اہتمام کیا گیا جن میں لاہور کے مال روڈ پر نکالی جانے والی تاریخی ریلی بھی شامل تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا میں حرمین الشریفین کی حمایت اور دیگر جماعتوں کو بھی سرگرم کرنے کے حوالے سے بھی مرکزی جمعیت اہلحدیث کے قائدین نے بھرپور کردار ادا کیا۔ امیر محترم سینیٹر ساجد میر کی زیر قیادت بھرپور عوامی مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا جس میں ناظم اعلی مرکزیہ ڈاکٹر حافظ عبدالکریم، امیر بلوچستان الشیخ علی محمد ابو تراب، امیر پنجاب پروفیسر عبدالستار حامد، امیر خیبر پی کے مولانا فضل الرحمن مدنی، امیر سندھ مولانا یوسف قصوری اور دیگر قائدین کی کاوشیں بے مثال تھیں۔ اہلحدیث یوتھ فورس نے ان تمام جلسوں اور تقریبات کی کامیابی میں بھرپور کردار ادا کیا جبکہ گوجرانوالہ اور کئی شہروں میں تحفظ الحرمین کانفرنسز بھی منعقد کیں۔ اسلام آباد میں بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس میں سعودی وزیر مذہبی امور عبدالعزیز بن عبداللہ العمارنے شرکت کی۔
مرکزی جمعیت کی اس تحفظ حرمین الشریفین مہم کی خاصیت یہ تھی کہ اس میں دیگر مذہبی جماعتوں اور سماجی حلقوں کو بھی شامل کیا گیا تھا تاکہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جا سکے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کی کانفرنسز میں امیر جماعت الدعوہ پروفیسر حافظ سعید، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، لیاقت بلوچ، قاری زوار بہادر، پیر اعجاز ہاشمی سمیت دیگر جماعتوں کے اہم ترین راہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ اس کے بعد جب امام کعبہ الشیخ خالد غامدی پاکستان تشریف لائے تو ان کے اعزاز میں ہونے والی تقریبات میں مرکزی جمعیت اہلحدیث کو نمایاں حیثیت حاصل رہی جس کا انہوں نے بھرپور اظہار بھی کیا۔ وہ مرکز اہلحدیث تشریف لائے اور لاہور کے ایک ہوٹل میں کارکنان مرکزی جمعیت اہلحدیث کے اجتماع سے بھی خطاب کیا۔ اس بڑی آل پارٹیزکانفرنس نے بھی پوری دنیا کو ایک بھرپور پیغام دیا کہ پاکستانی عوام کے دل سعودی عرب کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں سانحہ منی کے بعد جب ایک بار پھر سعودی عرب کے خلاف منفی پروپیگنڈا شروع کیا گیا تو مرکزی جمعیت اس کے تدار ک کے لئے صف اول میں موجود تھی۔ اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں سینیٹر ساجد میر کی سربراہی میں ایک اعلی سطحی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ناظم اعلی مرکزیہ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالکریم اور امیر بلوچستان واسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر الشیخ علی محمد ابو تراب اس کے میزبان تھے۔ اس تقریب میں وفاقی وزرا جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ ، سردار محمد یوسف کے ساتھ ساتھ حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے چئیرمین راجہ ظفرالحق اور کئی دینی جماعتوں کے قائدین اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ اس تقریب کا مقصد سانحہ منی کے حوالے سے پاکستانی میڈیا میں ہونیوالے من گھڑت پروپیگنڈے کا جواب دینا اور دونوں ممالک کے درمیان پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا تھا۔ وفاقی وزرا اور تمام مقررین نے حرمین الشریفین کے تحفظ کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ حرمین الشریفین کا تحفظ پاکستان کے استحکام اور سلامتی کے لئے ناگزیر ہے۔ جنرل (ر) عبدالقادر نے واضح کیا کہ اگر ارض حرمین کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان فوجی تعاون سمیت کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔ وفاقی وزیر سردار یوسف نے سانحہ منی کے حوالے سے سعودی حکومت پر تنقید کو محض جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیا۔ امیر محترم سینیٹر ساجد میر کا کہنا تھا کہ خادمین الحرمین الشریفین کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے پاکستان اور عالم اسلام کے دشمن ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حرمین الشریفین کی حفاظت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ ہمارا دینی رشتہ ہے جو کہ سب رشتوں سے بڑھ کر ہے۔ ڈاکٹر عبدالکریم نے حجاج کرام کی خدمت کے حوالے سے سعودی حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی شاہ سلمان پہلے سے بڑھ کر حجاج کرام کی خدمت کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی عوام کے درمیان دین کا رشتہ ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی۔ اس موقعے پر اپنے خطاب میں الشیخ علی محمد ابو تراب نے واضح کیا کہ پاکستانی محب وطن حلقے سعودی عرب کے دشمنوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام کے دکھ درد سانجھے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میڈیا کو چاہیے کہ سعودی عرب کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کرے۔ بعض ہمسایہ ممالک پاک سعودیہ تعلقات میں دراڑیں ڈالنا چاہتے ہیں۔ان شاءاللہ دونوں ممالک کے عوام اس سازش کو کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کی تحفظ الحرمین الشریفین اور تحفظ پاکستان کے نعرے کے تحت تقریبات اور عوامی مہم کے سلسلے میں تازہ ترین تقریب کا انعقاد گزشتہ دنوں رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل الشیخ عبداللہ عبدالمحسن الترکی وفاقی دارالحکومت میں تشریف آوری کے موقعے پر کیا گیا۔ اس تقریب میں بھی ملک بھر سے جماعتی قائدین، کارکنان، علمائے کرام کے ساتھ ساتھ دیگر جماعتوں اور سماجی حلقوں کی نامور شخصیات کو بھی مدعو کیا گیا۔ الشیخ عبداللہ عبدالمحسن الترکی نے اس استحکام پاکستان سیمینار سے خطاب میں اہل توحید کے ساتھ اپنی بھرپور محبت اور اہل پاکستان کی قربانیوں کو سلام پیش کیا۔ الشیخ عبداللہ عبدالمحسن الترکی سعودی عرب کے سابق وزیر مذہبی امور رہے ہیں اور وہ شہید ملت علامہ احسان الہی ظہیر کے انتہائی قریبی دوست تھے۔ اس حوالے سے ان کی پاکستانی اہل توحید سے محبت مثالی ہے۔ اس تقریب کا مقصد دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا اور گزشتہ کچھ عرصے کے دوران پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا تھا۔ امیر محترم سینیٹر ساجد میر کی زیر صدارت ہونے والی اس تقریب میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار یوسف، اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر الشیخ علی محمد ابوتراب، اسلامک یونیورسٹی کے صدر الشیخ درویش اور ان کے علاوہ مختلف دینی جماعتوں کے قائدین اور نامور شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معزز مہمان نے پاکستانی قوم کی محبت و خلوص کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی عوام کے درمیان اخلاص کا رشتہ ہے جس میں کوئی بھی سازشی ٹولہ دراڑ نہیں ڈال سکتا۔ اس موقعے پر اپنے خطابات میں سینیٹر ساجد میر، الشیخ علی محمد ابوتراب اور دیگر مقررین نے بھی ارض حرمین کے ساتھ بے لوث محبت اور بھرپور مدد کی یقین دہائی کرائی۔
جنرل راحیل شریف کے دورے مرکزی جمعیت اہلحدیث کی سفارتی مہم کے ساتھ ساتھ دیگر دینی جماعتوں اور عوامی حلقوں کے سرگرم کردار کی بدولت پاک سعودیہ تعلقات کو مزید فروغ ملا ہے۔ اب حکومت اور اعلی طبقات کا فرض ہے کہ وہ بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ اسی طرح ذرائع ابلاغ میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سعودی عرب کے پاکستان میں فلاحی منصوبہ جات کے متعلق آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ ان عناصر کی نہ صرف نشاندہی کرے بلکہ ان کے پروپیگنڈے کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات بھی اٹھائے جو کہ پاک سعودیہ تعلقات میں دراڑیں ڈالنے کی مزموم کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عوام کے درمیان محبت واخلاص کا رشتہ ہے۔ دونوں ممالک مشترکہ حکمت عملی سے عالم اسلام کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ عالمی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے پاکستانی عوام کی ہر مشکل گھڑی میں مدد، سینکڑوں طلبہ کی تعلیم و کفالت، رفاحی سرگرمیوں میں دل کھول کر خرچ کرنا حتی کہ قرضے میں جکڑی پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کے لئے بغیر کسی شرط کے ڈیڑھ ارب ڈالر کے تحفے سمیت ان گنت احسانات کو کون بھلا سکتا ہے۔ پاکستانی قوم، افواج پاکستان سمیت ہر طبقہ حرمین الشریفین کے تحفظ کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے کو ہر وقت تیار ہے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کی قیادت ارض حرمین الشریفین کے تحفظ کے لئے چلائی جانے والی سفارتی مہم پر مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے توحید واخلاص کے رشتے کو بخوبی نبھایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ قائدین، اکابرین، کارکنان جماعت سمیت ہر ایک کی ان مخلصانہ کوششوں کو قبول فرمائے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*