کرسمس کیا ہے؟

کرسمس کیا ہے؟

تحریر: جناب ڈاکٹر صہیب حسن، لندن

کرسمس میں لفظ کرائسٹ عبرانی کے مسیح کا مترادف ہے اور کرسمس سے مراد حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کا یوم ولادت منانا ہے۔ اس دن کیلئے 25 دسمبر کی تاریخ کیوں وضع کی گئی؟ اس کا جواب خود عیسائی محققین اس طرح دیتے ہیں کہ ولادت مسیح کا نہ سال ہی متعین ہو سکتا ہے اور نہ ہی تاریخ۔ 

سات سال قبل مسیح سے لے کر دو سال قبل مسیح تک کوئی بھی سال ہو سکتا ہے۔ جہاں تک تاریخ کا تعلق ہے تو اس کیلئے نومبر16، دسمبر25، جنوری 6یا 7، مارچ 25، اپریل 18 یا 19 یا مئی 20 کی تاریخیں پیش کی جاتی رہی ہیں۔ مشرقی کلیسا جس میں ایتھوپیا، روس، یوکرین، سربیا، مقدونیہ اور مالدوا شامل ہیں، 7 جنوری کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ اس لئے کہ جولین کیلنڈر اور گریگورین کیلنڈر میں 13 دن کا فرق پایا جاتا ہے، اس لئے اصل تاریخ 25 دسمبر نہیں بلکہ 13 دن بعد 7 جنوری ہے۔ یونانی اور مغربی کلیسا نے 25 دسمبر کی تاریخ کو اپنا لیا اور اس تاریخ ہی کو قبول عام حاصل ہوا۔ 

لیکن کیا واقعی عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش 25 دسمبر کو ہوئی تھی؟ ایک جرمن مؤرخ کے مطابق رومن دیومالا میں 25دسمبر سورج دیوتا کی ولادت کا دن منایا جاتا تھا اور جب بعہد قسطنطین (325) عیسائیت کو سرکاری مذہب کی حیثیت حاصل ہو گئی تو عیسائیت نے باقی کئی رومن روایات کی طرح اس تاریخ کو بھی بحیثیت ولادت مسیح (یا ولادت آفتاب ہدایت) کے طور پر قبول کر لیا۔ 

سورۃ مریم میں اللہ تعالیٰ نے ولادت مسیح کا تذکرہ کیا ہے اور مندرجہ ذیل آیات سے کم از کم اس موسم کا تعین کیا جا سکتا ہے جب عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی۔ حضرت مریم علیہا السلام کے پاس فرشتے کا آنا، آپ کے گریبان میں پھونکنا، حضرت مریم کا حاملہ ہونا اور پھر بغیر شوہر کے اس حمل کی وجہ سے بدنامی کا خوف، یہ سب باتیں ان آیات میں ذکر کی گئیں اور پھر کہا گیا: 

’’ فَأَجَاء ہَا الْمَخَاضُ إِلَی جِذْعِ النَّخْلَۃِ قَالَتْ یَا لَیتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ہَذَا وَکُنتُ نَسْیْاً مَّنسِیّاً ‘‘  (مریم: ۲۳) 

’’اور وہ دردِ زہ سے مجبور ہو کر کھجور کے درخت کے تنے تک پہنچیں اور کہا کہ اے کاش! میں اس وقت سے پہلے ہی مرچکی ہوتی اور بالکل بھلا دی جاتی۔‘‘ 

’’ فَنَادَاہَا مِن تَحْتِہَا أَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیّاً ‘‘ (مریم: ۲۴) 

’’اور پھر پیچھے سے آواز دی کہ غم نہ کر تیرے رب نے تیرے پائوں تلے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔‘‘

’’ وَہُزِّیْ إِلَیکِ بِجِذْعِ النَّخْلَۃِ تُسَاقِطْ عَلَیکِ رُطَباً جَنِیّاً ‘‘ (مریم: ۲۵) 

’’اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، یہ تیرے سامنے ترو تازہ کھجوریں گرا دے گا۔‘‘

’’ فَکُلِیْ وَاشْرَبِیْ وَقَرِّی عَیناً ‘‘ (مریم: ۲۶) 

’’اب چین سے کھا پی اور آنکھیں ٹھنڈی رکھ۔‘‘

یہاں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ولادت مسیح کے وقت کھجوروں کے پکنے کا موسم تھا، وہ اس لئے کہ آپ سے کہا گیا: ’’کھجور کا تنا ہلائو تو پکی ہوئی کھجوریں (رطب) تمہارے اوپر گرنا شروع ہو جائیںگی۔‘‘

یہاں پر برسبیل نکتہ ذکر کیا جاتا ہے کہ مریم علیہا السلام تن تنہا تھیں، جبکہ بائبل کے مطابق ولادت کا واقعہ ایک باغ میں پیش آیا جہاں مریم علیہا السلام کے شوہر یوسف النجار (بڑھئی) ان کی مدد کیلئے موجود تھے، یہ باغ بیت لحم کے مضافات میں تھا۔ اکیلی عورت کو ولادت کے وقت مدد کی ضرورت تھی اور غذا کی بھی، اس لئے کہا گیا کہ کھجور کے درخت کے تنے کو زور زور سے ہلائو اور اس طرح ولادت میں آسانی ہو گی پھر بطور غذا کھجور کھائو اور بہتے چشمے کا پانی پیو۔ 

اب آئیے دوسری بات کی طرف کہ آیا یوم ولادت مسیح کا منایا جانا عیسائیوں کا عقیدہ رہا ہے؟303ء میں اسکندریہ کا پادری آرنوبیونس اس عقیدے کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتا ہے کہ ’’فرعون اور ہیرڈ جیسے گنہگار اپنی پیدائش کا دن مناتے ہیں۔‘‘

354ء میں پہلی مرتبہ 25 دسمبر کو عیسیٰ علیہ السلام کا سب سے پہلے یوم ولادت منایا گیا۔ گویا عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے ساڑھے تین سو سال بعد اس بدعت کو رواج عام حاصل ہوا لیکن عیسائیوں کے پیورٹن فرقے نے ہمیشہ اس بدعت کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک کیتھولک عقیدہ ہے جس کی بائبل سے کوئی سند ثابت نہیں ملتی۔ 

1647ء جب انگلینڈ میں پیورٹن کے ہاتھ حکومت آئی تو انہوں نے کرسمس ڈے منانے کی روایت کو ختم کر دیا، لیکن 13 سال بعد ان کی حکومت کے خاتمے اور چارلس دوئم کے دوبارہ بحال ہونے پر یہ روایت دوبارہ زندہ ہو گئی۔ ایسے ہی بوسٹن (امریکہ) میں پیورٹن کے بائیس سالہ دور (1647ء سے 1669ئ) تک کرسمس منانا معطل رہا۔ گویا جس طرح مسلمانوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت کو منانا تین صدیوں کے بعد کی ایک بدعت ہے اسی طرح عیسائیوں میں بھی اسے بدعت کہا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں یہودیوں اور عیسائیوں کی بدعات کو اھواء (خواہشات) کا نام دیا ہے۔ 

’’ قُلْ یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لاَ تَغْلُواْ فِیْ دِیْنِکُمْ غَیرَ الْحَقِّ وَلاَ تَتَّبِعُواْ أَہْوَاء قَوْمٍ قَدْ ضَلُّواْ مِن قَبْلُ وَأَضَلُّواْ کَثِیْراً وَضَلُّواْ عَن سَوَاء السَّبِیْلِ ‘‘ (المائدۃ: ۷۷) 

’’کہہ دیجئے، ۱ے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو اور زیادتی نہ کرو اور ان لوگوں کی نفسانی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جو پہلے سے بہک چکے ہیں اور بہتوں کو بہکا بھی چکے ہیں اور سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں۔‘‘

کرسمس کے ساتھ کئی دوسری چیزیں بھی وابستہ ہیں، آئیے ان پر بھی ایک سرسری نظر ڈال لیں۔ 

کرسمس ٹری 

ایک سدا بہار درخت کو سجایا جاتا ہے اور رات کے اندھیرے میں اسے روشنیوں سے نہلایا جاتا ہے۔ اس کی ابتداء کب ہوئی؟ 

کہا جاتا ہے کہ مارٹن لوتھر نے سولہویں صدی میں اس بدعت کا آغاز کیا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ جرمنی میں اٹھارہویں صدی اس کا نقطۂ آغاز ہے۔ انگریزی لٹریچر میں اس کا قدیم ترین حوالہ 1853ء کا ہے جب کہ امریکہ میں 1870ء سے پہلے اس کا وجود نہیں ملتا۔ 

کرسمس کارل 

قدیم ترین حوالہ 1426ء میں پادری جون آڈلی کا بتایا جاتا ہے لیکن 1843ء میں چارلس ڈکنز نے اپنے ناول A Christmas Carol سے اسے دوام بخشا اور پھر کرسمس کے یہ گیت اس تہوار کا جزء قرار پائے۔ 

سانتا کلاز 

اس بدعت کو ’سینٹ نکلس‘ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جو موجودہ ترکی کے قصبہ Myra کا پادری تھا لیکن ہالینڈ میں اسے خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ انگلینڈ میں اس نے فادر کرسمس کے نام سے شہرت حاصل کی اور پھر اپنے سرخ لبادے اور برف کی طرح چمکتی داڑھی سے اس کی شخصیت کو نیا رنگ و روپ حاصل ہوا۔ 

کرسمس کارڈ اور تحفوں کا تبادلہ 

1843ء میں سب سے پہلے سرہنری کول نے کرسمس کے موقع پر مبارکباد کے کارڈ جاری کرنا شروع کئے۔ کرسمس کو ایک پیار بھری تقریب کا رنگ دینے کیلئے تحفے تحائف کا تبادلہ عوام میں مقبولیت حاصل کرتا گیا جس کا سب سے بڑا فائدہ تاجروں اور صنعت کاروں کو ہوا۔ نت نئے تحفوں کو بازار میں لایا جاتا ہے اور صارفین کی جیبوں پر اندھا دھند ہاتھ صاف کیا جاتا ہے۔ 

2010ء کے شماریات کے مطابق برطانیہ میں دوران کرسمس آٹھ بلین پونڈ کی خریداری کی جاتی ہے جس میں تحائف کے علاوہ کرسمس کے نام پر بہت سی چیزوں کی فروخت بھی شامل ہے۔ 

ہمیں بطور مسلمان یہ دیکھنا ہے کہ ہم کہاں تک اپنی عید کے موقع پر اس عیسائی تہوار کی بدعات کو قبول کرتے چلے آ رہے ہیں؟ کیا ہماری عیدوں اور تہواروں پر ایسے کام تو نہیں ہوتے کہ جن میں عیسائیوں سے مشابہت پائی جاتی ہو؟ کیا ہم سورۃ المائدہ کی متذکرہ بالا آیت کا واقعی مصداق تو نہیں بنتے چلے جا رہے ؟

2 comments

  1. ڈاکٹر صہیب حسن حفظہ اللہ کا یہ مضمون کس کتاب یا رسالے میں شائع ہوا ہے؟ ہمارے کچھ انڈین دوست اسے انڈیا میں نشر کرنا چاہتے ہیں، جزاکم اللہ خیرا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*