صفحہ اول > مضامین > طب وصحت > نزلہ وزکام

نزلہ وزکام

نزلہ وزکام

جناب حکیم راحت نسیم سوہدروی

ایسے امراض جو بار بار ہوتے ہیں جن میں عوام و خواص یکساں طور پر مبتلا ہوتے ہیں ان میں نزلہ و زکام سرفہرست ہے۔ان امراض کے لئے کسی خاص موسم یاعمر کی تخصیص نہیں ہوا کرتی۔نزلہ و زکام میں غَشائے مخاطی یالعاب دارجھلی متورم ہوجاتی ہے جس سے رقیق رطوبت بہنے لگتی ہے۔ اگر ناک کے اندر کے غشائے مخاطی میں سوزش ہو جائے، اس سے رطوبت اور سیال فضلات بہنے لگیں تو زکام کہلاتا ہے۔ اگر غشائے مخاطی کی سوزش کا اثر گلے اور سینے کے اندر کی طرف ہو اوریہ رقیق مادہ گلے اور سینے کی طرف گرنے لگے تو نزلہ کہلاتا ہے۔

نزلہ و زکام عموماً موسم سرما، موسم خزاں یا یوں کہہ لیں کہ تبدیلی موسم کے زمانے میں شدت سے ہوا کرتا ہے تاہم یہ ایک متعدی مرض ہے، اگرچہ گاہے وبائی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ اگر کیفیت شدت اختیار کرجائے تو انفلوئینزا بن جاتا ہے۔موسم خزاں میں ہونے والا نزلہ زکام بالعموم سردی کی شدت ،سرد ہوا لگنے،ٹھنڈے پانی میں بھیگنے ،گردو غبار ،کسی گرم جگہ سے یکدم ٹھنڈی جگہ پر جانے، برف ،لسی ،دہی، مرطوب اور ثقیل اشیاء کے استعمال سے ہوجاتاہے۔موسم کی تبدیلی کے ایام میں بدپرہیزی اور لاپرواہی سے یہ مرض لاحق ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگ جن میں قوت مدافعت کمزور ہو وہ جلد متاثر ہو جاتے ہیں ۔ان حالات میں نظام ہضم کی خرابی ،صفرا کی زیادتی،،ترش اشیائ، سنگترے اور مالٹے کا استعمال بھی اس مرض کا سبب بن جاتے ہیں۔

نزلہ زکام شروع ہونے پر چھینکیں آکر پتلی رقیق رطوبت کا اخراج شروع ہوجاتا ہے۔طبیعت میں سستی اور اعضا بدن میں کسلمندی،پستان میں جکڑن،کنپٹیوں پروزن اور بوجھ جبکہ ناک بند معلوم ہوتی ہے۔

گاہے ناک کے نتھنوں کے کنارے سرخ ہوجاتے ہیں اگر گرمی کے سبب شکایت ہوتو رطوبت رقیق اور نمکین ہوگی اور اگر سردی کے باعث ہوتو رطوب غلیظ ہوگی۔تبدیلی موسم پر سردی یاٹھنڈی ہوا لگنے سے ہوتو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قوت مدافعت کے کمزور ہونے سے ایسا ہوا ہے۔بعض لوگوں میں مستقل روگ کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور آج کل ماحولیاتی آلودگی کے سبب بھی نزلہ زکام رہنے لگا ہے۔نزلہ زکام سے بچائو کے لئے حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔موسم بدلنے کے ایام میں خصوصی طور پر احتیاط کرنا چاہیے، ٹھنڈے پانی سے پرہیز کیا جائے۔کٹھی اور مرطوب ثقل اشیاء سے بچا جائے۔موسم سرما کے آغاز پر گرم لباس،گرم بستر اور نیم گرم پانی کا استعمال کیا جائے۔موسم سرما میں مفلر،ٹوپی وغیرہ سے سر ڈھانپنا ضروری ہے۔

طب مشرقی کے اصول علاج کے مطابق نزلہ زکام کو روکنے کی بجائے نکلنے دیا جانا چاہیے تاکہ اس کے مادے جمع نہ ہوں کیونکہ اس طرح اور دیگر پیچید گیاں پیداہوجاتی ہیں۔نزلہ زکام کی رطوبت اور فضلات کا اخراج ہی صحیح طریق ہے اور دوائی تدبیر کے طور پر ذیل کا نسخہ مفید ہے:

پوست خشخاش بنفشہ دار چینی

چھ گرام پانچ گرام ایک گرام

ایک کپ میں جوش دے کر، چھان کرقدرے چینی ملا کرصبح و شام نوش جاں کریں۔

بعض لوگوں میں یہ بگڑ کر دائمی زکام کی شکل اختیار کرلیتا ہے یا ماحولیاتی اور فضائی آلودگی کے سبب ناک کے اندرونی غشائے مخاطی (جھلی) متورم ہو کر اکثر پانی کی طرح بہتا ہے اور چھینکیں آتی ہیں یاکسی سبب الرجی کے باعث ایسا ہوتا ہے۔ایسے لوگ ذیل کی تدبیر کریں:

برگ بنفشہ تخم میتھی دار چینی

چھ گرام چھ گرام تین گرام

آدھے گلاس پانی مین جوش دے کر، چھان کر رات سونے سے قبل دس یوم تک پی لیں۔استاد محترم شہید پاکستان حافظ حکیم محمد سعید اس نسخے کو استعمال کراتے رہے جس کے اکثر مفید نتائج سامنے آئے اور میرے بھی معمولات مطب میں شامل ہے۔

2 comments

  1. برگ بنفشہ کو انگریزی میں کیا کہتے ہیں اور برگ سے مراد پتے ہی ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*