صفحہ اول > مضامین > اصلاح معاشرہ وحالات حاضرہ > زلزلے … قرب قیامت کی نشانیاں یا اعمال کی سزا؟

زلزلے … قرب قیامت کی نشانیاں یا اعمال کی سزا؟

تحریر: جناب رانا محمد شفیق خاں پسروری 

shafiq pisroriایک بار پھر زلزلے نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت انسان کو گاہے گاہے تنبیہ کرتا رہتا ہے کہ ’’اس کو بھول کر دنیا کی رنگا رنگی میں کھو جانے والے‘ اس کی طرف لوٹ آئیں۔‘‘ اس بار کا زلزلہ اپنی شدت میں پچھلے زلزلوں سے کہیں زیادہ شدید تھا۔ اب تک اڑھائی سو کے قریب ہلاکتوں اور بے شمار کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جبکہ مالی نقصان کا اندازہ ابھی ممکن نہیں۔ زلزلے کے فوراً بعد سے دینی وسیاسی تنظیمیں اور سرکاری ادارے متاثرین کے لیے اپنی سی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کوششوں میں عوام خواص کو ایک اور کوشش بھی کرنی چاہیے اور وہی سب سے اہم ہے کہ ’ہم سوچیں کہ یہ زلزلے‘ کہیں اللہ رب العزت کے غیظ وغضب کی علامت تو نہیں؟ ہمارا مولا‘ ہمارا رب‘ ہم سے ناراض تو نہیں؟ ہمارا‘ ہمارے مالک سے تعلق ٹوٹا ہوا یا کم زور تو نہیں؟ 

قرآن پاک کی سورہ اعراف اور سورہ عنکبوت میں قوم ثمود اور قوم شعیب پر زلزلوں کے عذاب کا تذکرہ ہے اور الفاظ ہیں: (فَاَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِہِمْ جٰثِمِیْنَ) یعنی ’’ان کو زلزلہ نے آلیا اور جب ان پر صبح ہوئی تو گھروں میں اوندھے پڑے تھے۔‘‘ 

سورۂ عنکبوت‘ آیت نمبر 40 میں فرمایا: ’’پھر ہر ایک کو ان کے گناہوں کے باعث ہم نے پکڑا‘ ان میں سے بعض پر ہوا کے ساتھ پتھر برسائے‘ بعض کو سخت چیخ نے پکڑ لیا‘ بعض کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا‘ اور بعض کو غرق کر دیا۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا‘ یہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم ڈھاتے تھے۔‘‘

سورۂ اعراف آیت نمبر 97‘ 98‘ 99 میں فرمایا: ’’کیا شہروں میں بسنے والوں کو اس بات کی امان مل گئی ہے کہ ہمارا عذاب راتوں رات نازل ہو اور وہ پڑے سوتے ہوں؟ یا انہیں اس بات سے امان مل گئی ہے کہ دن دہاڑے عذاب نازل ہو جائے اور وہ کھیل کود میں مصروف ہوں؟ کیا انہیں اللہ کی مخفی تدبیروں سے امان مل گئی ہے؟ تو یاد رکھو! اللہ کی مخفی تدبیروں سے بے خوف نہیں ہو سکتے مگر وہی جو تباہ ہونے والے ہیں۔‘‘

سورۂ نور آیت نمبر 63 میں (صحابہ کرام رضوان اللہ علیم اجمعین کو مخاطب کر کے) ارشاد ہوا: ’’تم لوگ رسول کے بلانے کو ایسا نہ جاننا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے ان لوگوں کا جو آنکھ بچا کر نکل جاتے ہیں۔ پس ان لوگوں کو جو آپe کی حکم عدولی کرتے ہیں‘ بچ جانا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی آفت نہ آجائے یا ان کو درد ناک عذاب پہنچے۔‘‘

سورۂ توبہ آیت نمبر 23 اور 24 میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین (اور مومنوں) کو مخاطب کر کے فرمایا: ’’اے مومنو! تمہارے باپ اور بھائی ایمان کے مقابلے میں کفر کو عزیز رکھیں تو تم انہیں اپنا رفیق اور پیارا نہ بناؤ‘ جو کوئی بنائے گا وہ (اپنے آپ پر) ظلم کرنے والا ہے۔ کہہ دو! اگر ایسا ہے کہ تمہارے باپ‘ تمہارے بیٹے‘ تمہارے بھائی‘ تمہاری بیویاں‘ تمہاری برادری‘ تمہارا مال جو تم نے کمایا‘ تمہاری تجارت جس کے مندا پڑ جانے سے ڈرتے ہو۔ تمہارے رہنے کے مکانات جو تمہیں پسند ہیں۔ (یہ ساری چیزیں) تمہیں اللہ‘ اس کے رسولؐ اور جہاد سے زیادہ پیاری ہیں تو انتظار کرو اللہ کے ’’امر‘‘ کا (آزمائش‘ فتنے یا انتباہ میں سے کچھ کا) اللہ فاسقوں پر (بچنے کی) راہ نہیں کھولتا۔‘‘

سورۂ حم سجدہ آیت نمبر 21 میں فرمایا: ’’اور ہاں! ہم انہیں بڑے عذاب سے پہلے چھوٹا عذاب چکھاتے ہیں تا کہ وہ (ہماری طرف) لوٹ آئیں۔‘‘

ابوداود کی حدیث ہے (جو مشکوٰۃ المصابیح میں بھی منقول ہے) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری امت پہلی امتوں کی طرح مکمل تباہ وبرباد نہیں ہو گی‘ البتہ اس میں فتنے‘ زلزلے اور قتل وغارت گری ہو گی۔‘‘

ترمذی شریف کی روایت ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب قومی خزانے کو اپنی ملکیت‘ امانتوں کو مال غنیمت جان لیا جائے۔ زکوٰۃ کو تاوان سمجھا جائے‘ بیوی کی اطاعت اور ماں کی نافرمانی ہو‘ باپ کا احترام نہ ہو اور دوستوں سے اچھا سلوک ہو‘ گانے بجانے والیوں کی کثرت اور موسیقی کی بہتات ہو‘ امانتیں نا اہلوں کے سپرد کی جائیں‘ شراب اور جوا عام ہو جائے‘ مسجدوں سے آوازیں اونچی ہوں‘ (جھگڑے شروع ہو جائیں) تو لوگوں کو زلزلوں اور آفات کا انتظار کرنا چاہیے۔‘‘  قرآن پاک میں ہے کہ (ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاس)’’ خشکی اور تری میں جو بھی بگاڑ ظاہر ہو وہ لوگوں کے کیے کا نتیجہ ہے۔‘‘

زلزلہ کی سائنسی توجیہ کچھ بھی ہو‘ آتا تو یہ بہرحال قدرتِ الٰہی اور حکم الٰہی ہی سے ہے اس لیے اہل ایمان اس کو لوگوں کے لیے مالک کی طرف سے تنبیہ ہی سمجھتے ہیں۔ جبکہ بعض لوگوں نے اس تباہ کن زلزلے کو قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ’’علامات قیامت‘‘ کا بھی کچھ تذکرہ کر دیا جائے۔ (یہ ہم رفیع عثمانی صاحب کی کتاب سے اخذ کر رہے ہیں۔) ’’قیامت صور اسرافیل کی اس خوفناک چیخ کا نام ہے جس سے پوری کائنات زلزلہ میں آجائے گی‘ اس ہمہ گیر زلزلہ کے ابتدائی جھٹکوں ہی سے دہشت زدہ ہو کر دودھ پلانے والی مائیں‘ اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھول جائیں گی‘ حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہو جائیں گے۔ اس چیخ اور زلزلہ کی شدت دم بدم بڑھتی جائے گی جس سے تمام انسان اور جانور مرنے شروع ہو جائیں گے یہاں تک کہ زمین وآسمان میں کوئی جاندار زندہ نہ بچے گا۔ زمین پھٹ پڑے گی‘ پہاڑ دھنی ہوئی روئی کی طرح اُڑتے پھریں گے‘ ستارے اور سیارے ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیں گے‘ آفتاب کی روشنی فنا اور پورا عالم تیرہ وتار ہو جائے گا‘ آسمانوں کے پرخچے اڑ جائیں گے اور پوری کائنات موت کی آغوش میں چلی جائے گی۔

اس عظیم دن کی خبر تمام انبیاء کرام علیہم السلام اپنی اپنی امتوں کو دیتے آئے تھے مگر رسول خدا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر یہ بتایا کہ قیامت قریب آپہنچی اور میں اس دنیا میں اللہ کا آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ قرآن پاک میں قیامت کا متعدد جگہ تذکرہ ہوا ہے۔ قیامت کی علامات انبیاء سابقین نے بھی اپنی اپنی امتوں کو بتائی تھیں اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا نبی آنے والا نہ تھا۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی علامات سب سے زیادہ تفصیل سے ارشاد فرمائیں‘ تا کہ لوگ یوم آخرت کی تیاری کریں‘ اعمال کی اصلاح کر لیں اور نفسانی خواہشات ولذات میں انہماک سے باز آجائیں‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو انفراداً اور اجتماعاً کبھی اختصار اور کبھی تفصیل سے ان علامات کی تعلیم فرماتے رہے‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تبلیغ کا کتنا اہتمام فرمایا اس کا کچھ اندازہ صحیح مسلم کی ان روایتوں سے ہو گا۔

ابونوید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر چڑھ کر ہمارے سامنے خطبہ دیا‘ یہاں تک کہ ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا‘ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتر کر نماز پڑھی‘ پھر منبر پر تشریف لے گئے اور ہمیں خطبہ دیتے رہے یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتر کر نماز پڑھی اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور ہمیں خطبہ دیتے رہے۔ یہاں تک کہ آفتاب غروب ہو گیا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (اس خطبہ میں) ان اہم واقعات کی خبر دی جو ہو چکے اور جو آئندہ ہونے والے ہیں۔ پس ہم میں سے جس کا حافظہ زیادہ قوی تھا وہی ان واقعات کو زیادہ جاننے والا ہے۔

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے‘ اس قیام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت تک ہونے والا کوئی اہم واقعہ نہیں چھوڑا جو ہمیں نہ بتلایا ہو جس نے یاد رکھا‘ یاد رکھا‘ جو بھول گیا بھول گیا‘ میرے یہ ساتھی بھی یہ بات جانتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جن واقعات کی خبر دی ان میں سے جو میں بھول گیا ہوں وہ بھی جب رونما ہوتا ہے تو مجھے یاد آجاتا ہے‘ جیسے کوئی آدمی‘ جب غائب ہو تو آدمی اس کا چہرہ بھول جاتا ہے پھر جب وہ نظر پڑتا ہے تو یاد آجاتا ہے۔

امت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دیگر احادیث کی طرح علاماتِ قیامت کی حدیثیں بھی محفوظ رکھنے اور آئندہ نسلوں تک پہنچانے کا بڑا اہتمام کیا حتی کہ بچوں کو ابتدائے عمر ہی سے یہ احادیث یاد کروائی جاتی تھیں‘ کتب حدیث میں اس باب کی احادیث کا ایک عظیم ذخیرہ محفوظ ہے جو نسلاً بعد نسلاً حفظ وروایت کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے۔

یوں تو حدیث کی کوئی جامع کتاب ان احادیث سے خالی نہیں مگر اکابر محدثین نے اس موضوع پر مستقل تصانیف چھوڑی ہیں‘ ایک ایک علامت پر بھی مستقل تصانیف موجود ہیں۔ علامات قیامت میں بعض واقعات کی تو اتنی تفصیلات ملتی ہیں کہ بہت چھوٹی چھوٹی چیزوں کی نشاندہی بھی موجود ہے۔ مثلاً فتنہ دجال اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کے دور کی اتنی تفصیلات بیان فرما دی گئیں کہ کسی دوسری علامات میں اس کی نظیر نہیں ملتی‘ وجہ یہ ہے کہ فتنہ دجال مومنین کے ایمان کی نہایت کڑی آزمائش ہو گا اگر اس کی تفصیلات لوگوں کے سامنے نہ ہوں تو دجال کے دام فریب میں پھنس جانے کا قوی اندیشہ تھا‘ اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا حلیہ اور دیگر تفصیلات بھی اس لیے ضروری تھیں کہ کوئی بوالہوس اگر ’’مسیح موعود‘‘ ہونے کا دعویٰ کر بیٹھے تو اس کے مکر وفریب کا پردہ چاک کیا جا سکے اور جب وہ تشریف لائیں تو ان کو بآسانی پہچان کر مسلمان ان کے جھنڈے تلے دجال سے جہاد کر سکیں۔ اتنی کثیر علامات اور ان کی تفصیلات سے بعض اوقات قاری یہ توقع بھی کرنے لگتا ہے کہ واقعات کی کڑیاں ملا کر وہ قیامت کا ٹھیک ٹھیک زمانہ متعین کرنے میں کامیاب ہو جائے گا‘ لیکن نہ ایسا ہوا ہے نہ ہو سکے گا۔ قرآن حکیم کا واضح ارشاد ہے کہ ( لَا تَاْتِیْکُمْ اِلَّا بَغْتَۃً ) ’’قیامت تم پر اچانک آپڑے گی۔‘‘

وجہ یہ ہے کہ اول تو بہت سی علامتوں میں ترتیب ہی کا ادراک نہیں ہوتا کہ کونسا واقعہ پہلی اور کونسا بعد میں ہو گا اور جن واقعات کی ترتیب احادیث میں بیان کر دی گئی ہے ان میں بھی متعدد مقامات پر یہ پتہ چلتا ہے کہ دونوں واقعات کے درمیان کتنے زمانہ کا فاصلہ ہے۔ پھر بہت سی احادیث میں ایسا اجمال ہے کہ ان کی مراد یقینی طور پر متعین نہیں ہوتی‘ حتی کہ بعض مقامات پر پڑھنے والے کو تعارض کا شبہ ہونے لگتا ہے‘ حالانکہ وہاں اجمال ہے تعارض نہیں۔ قرآن حکیم میں جو علامات قیامت ارشاد فرمائی گئیں وہ زیادہ تر ایسی علامات ہیں جو بالکل قرب قیامت میں ظاہر ہوں گی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں قریب اور دور کی چھوٹی بڑی ہر قسم کی علامات بیان فرمائیں۔

علامہ محمد بن عبدالرسول برزنجی رحمہ اللہ(متوفی ۱۰۴۰ھ) نے اپنی کتاب الاشاعۃ لاشراط الساعۃ میں علامات قیامت کی تین قسمیں کی ہیں: (۱) علامات بعیدہ (۲) علامات متوسطہ جن کو علامات صغریٰ بھی کہا جاتا ہے۔ (۳) علامات قریبہ جن کو علامات کبریٰ بھی کہا جاتا ہے۔

علامات بعیدہ وہ ہیں جن کا ظہور کافی پہلے ہو چکا ہے‘ ان کو ’’بعیدہ‘‘ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کے اور قیامت کے درمیان نسبتاً زیادہ فاصلہ ہے۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات‘ جنگ صفین وغیرہ یہ سب واقعات از روئے قرآن وحدیث علامات قیامت میں سے ہیں اور ظاہر ہو چکے ہیں۔

قیامت کی علامات متوسطہ وہ ہیں جو ظاہر تو ہو گئی ہیں‘ ابھی انتہاء کو نہیں پہنچیں‘ ان میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے اور ہوتا جائے گا یہاں تک کہ تیسری قسم کی علامات ظاہر ہونے لگیں گی‘ علامات متوسطہ کی فہرست بھی بہت طویل ہے۔

مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ دین پر قائم رہنے والے کی حالت اس شخص کی طرح ہو گی جس نے انگارے کو اپنی مٹھی میں پکڑ رکھا ہو‘ دنیاوی اعتبار سے سب سے زیادہ نصیبہ ور وہ شخص ہو گا جو خود بھی کمینہ ہو اور اس کا باپ بھی کمینہ ہو‘ لیڈر بہت اور امانت دار کم ہوں گے‘ قبیلوں اور قوموں کے لیڈر منافق‘ رذیل ترین اور فاسق ہوں گے‘ بازاروں کے رئیس فاجر ہوں گے‘ پولیس کی کثرت ہو گی (جو ظالموں کی پشت پناہی کرے گی) بڑے عہدے نا اہلوں کو ملیں گے لڑکے حکومت کرنے لگیں گے‘ تجارت بہت پھیل جائے گی‘ یہاں تک کہ تجارت میں عورت اپنے شوہر کا ہاتھ بٹائے گی مگر کساد بازاری ایسی ہو گی کہ نفع حاصل نہ ہو گا۔ ناپ تول میں کمی کی جائے گی‘ لکھنے کا رواج بہت بڑھ جائے گا‘ مگر تعلیم محض دنیا کے لیے حاصل کی جائے گی‘ قرآن کو گانے باجے کا آلہ بنا لیا جائے گا‘ ریاء شہرت اور مالی منفعت کے لیے گا گا کر قرآن پڑھنے والوں کی کثرت ہو گی اور فقہاء کی قلت ہو گی۔ علماء کو قتل کیا جائے گا اور ان پر ایسا سخت وقت آئے گا کہ وہ سرخ سولے سے زیادہ اپنی موت کو پسند کریں گے۔ اس امت کے آخری لوگ پہلے لوگوں پر لعنت کریں گے۔ امانت دار کو خائن اور خائن کو امانت دار کہا جائے گا۔ جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا کہا جائے گا۔ اچھائی کو برا اور برائی کو اچھا سمجھا جائے گا‘ اجنبی لوکوں سے حسن سلوک کیا جائے گا اور رشتہ داروں کے حقوق پامال کیے جائیں گے۔ بیوی کی اطاعت اور ماں باپ کی نافرمانی ہو گی‘ مسجدوں میں شور وشغب اور دنیا کی باتیں ہوں گی۔ سلام صرف جان پہچان کے لوکوں کو کیا جائے گا۔ (حالانکہ دوسری احادیث میں ہے کہ سلام ہر مسلمان کو کرنا چاہیے‘ خواہ اس سے جان پہچان ہو یا نہ ہو) طلاقوں کی کثرت ہو گی‘ نیک لوگ چھپتے پھریں گے اور کمینے لوکوں کا دور دورہ ہو گا۔ لوگ فخر اور ریاء کے طور پر اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کریں گے۔ شراب کا نام نبیذ‘ سود کا نام بیع اور رشوت کا نام ہدیہ رکھ کر انہیں حلال سمجھا جائے گا۔ سود‘ جوا‘ گانے‘ باجے کے آلات‘ شراب خوری اور زنا کی کثرت ہو گی۔ بے حیائی اور حرامی اولاد کی کثرت ہو گی‘ دعوت میں کھانے پینے کے علاوہ عورتیں بھی پیش کی جائیں گی‘ ناگہانی اور اچانک اموات کی کثرت ہو گی‘ لوگ موٹی موٹی گدیوں پر سواری کر کے مسجدوں کے دروازوں تک آئیں گے۔ ان کی عورتیں کپڑے پہنتی ہوں گی مگر (لباس باریک اور چست ہونے کے باعث) وہ ننگی ہوں گی‘ ان کے سر بختنی اونٹ کے کوہان کی طرح ہوں گے‘ لچک لچک کر چلیں گی اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کریں گی۔ یہ لوگ نہ جنت میں داخل ہوں گے نہ اس کی خوشبو پائیں گے‘ مومن آدمی ان کے نزدیک باندی سے بھی زیادہ رذیل ہو گا‘ مومن ان برائیوں کو دیکھے گا مگر انہیں روک نہ سکے گا جس کے باعث اس کا دل اندر ہی اندر گھلتا رہے گا۔

علامات متوسطہ میں اور بھی بہت سی علامات ہیں‘ ان سب کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے دور میں دی تھی جب کہ ان کا تصور بھی مشکل تھا۔ مگر آج ہم اپنی آنکھوں سے ان سب کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ کوئی علامت اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے اور کوئی ابتدائی مراحل سے گزر رہی ہے۔ جب یہ تمام علامات اپنی انتہا کو پہنچیں گی تو قیامت کی بڑی بڑی اور قریبی علامات کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ (اللہ عز وجل ہمیں ہر فتنہ کے شر سے محفوظ رکھے اور سلامتی ایمان کے ساتھ قبر تک پہنچا دے۔ آمین!)

جبکہ علامات قریبہ بالکل قرب قیامت میں یکے بعد دیگر ظاہر ہوں گی‘ یہ بڑے بڑے عالمگیر واقعات ہوں گے۔ لہٰذا ان کو علامات کبریٰ بھی کہا جاتا ہے۔ مثلاً ظہور مہدی‘ خروج دجال‘ نزول عیسیٰ علیہ السلام‘ یاجوج ماجوج‘ آفتاب کا مغرب سے طلوع اور دابۃ الارض اور یمن سے نکلنے والے آگ وغیرہ‘ جب اس قسم کی تمام علامات ظاہر ہو چکیں گی تو کسی وقت بھی اچانک قیامت آجائے گی۔

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے (اغاثۃ اللہفان: ۲/۲۹۷) میں لکھا ہے: ’’بعض اوقات اللہ تعالیٰ زمین کو سانس لینے کی اجازت دیتا ہے تو زمین میں بڑے بڑے زلزلے بپا ہوتے ہیں تو اس سے اللہ تعالیٰ کے بندوں میں خوف اور خشیت الٰہی اور اس کی طرف رجوع‘ گناہوں سے دوری اور اللہ تعالیٰ کی جانب گریہ زاری اور اپنے کیے پر ندامت پیدا ہوتی ہے۔‘‘

ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات وفرامین کو زندگی میں داخل کر لیں‘ فرائض کا خصوصی خیال رکھیں اور ہر دم استغفار کرتے اور رب العالمین کے ذکر وپیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام سے اپنی زبانوں کو مرطوب اور دلوں کو منور رکھیں اسی طرح متاثرین کی دل کھول کر مدد کریں۔ تا کہ ہمارا مالک ہم سے راضی اور خوش رہے اور ہم پر اپنی رحمت وبرکات اور سکینت جاری فرما دے۔ (آمین!)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*