صفحہ اول > سوالات/جوابات > ایام میں میت کو غسل دینا

ایام میں میت کو غسل دینا

ایام میں میت کو غسل دینا

سوال:

 وہ عورت جو ایام میں ہو، کیا وہ کسی مردہ عورت کو غسل دے سکتی ہے، کیونکہ وہ خود تو ناپاک ہے، کیا یہ حالت‘ غسل دینے کے منافی ہوگی، قرآن و حدیث کی روشنی میں مسئلہ کی وضاحت کریں؟

جواب:

حائضہ عورت‘ اس معنی میں ناپاک ہے کہ وہ نماز نہیں پڑھ سکتی اور نہ ہی روزے رکھ سکتی ہے۔ اس حالت میں اس کا مسجد میں جانا بھی منع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بیت اللہ کا طواف بھی نہیں کر سکتی لیکن ذکر و اذکار اور تسبیح و تہلیل کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا جبکہ وہ ایام میں تھیں: ’’تم وہ سارے کام کرو جو حاجی کرتے ہیں لیکن بیت اللہ کا طواف نہیں کرنا حتیٰ کہ پاک ہو جائو۔‘‘ (بخاری، الحج: ۱۶۵۰)

صورت مسئولہ میں حائضہ عورت، کسی مردہ عورت کو غسل دے سکتی ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: ’’مجھے چٹائی پکڑا دو۔‘‘ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں تو ایام میں ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے چٹائی پکڑا دو، اس لئے کہ حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں۔‘‘ (صحیح مسلم، الحیض: ۲۹۸)

ایک دوسری حدیث میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر مبارک مسجد میں کھڑے ہو کر باہر نکالتے جبکہ آپ حالت اعتکاف میں ہوتے، میں آپکا سر دھو دیا کرتی تھی، درآں حالیکہ میں حالت حیض میں ہوتی۔ (بخاری، الحیض: ۲۹۶) ایک تیسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمان ناپاک نہیں ہوتا۔‘‘ (مسلم‘ الحیض: ۳۷۱)

ان تمام دلائل کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ حائضہ عورت، کسی بھی مسلمان مردہ عورت کو غسل دے سکتی ہے اور غسل دینے میں تعاون بھی کر سکتی ہے، واضح رہے کہ اس کی ممانعت کے متعلق کتاب و سنت سے کچھ بھی ثابت نہیں۔ محض ایک موہوم عقلی بات ہے کہ حیض آنے کی وجہ سے وہ ناپاک ہے، اس لئے وہ غسل نہیں دے سکتی اور نہ ہی غسل دینے میں کسی کا ہاتھ بٹا سکتی ہے۔ لیکن مذکورہ بالا شرعی دلائل کے مقابلہ میں اس عقل کے مفروضے کی کچھ بھی حیثیت نہ ہے۔ (واللہ اعلم)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*