صفحہ اول > سوالات/جوابات > ایڈوانس بیلنس

ایڈوانس بیلنس

ایڈوانس بیلنس

سوال:

مختلف موبائل کمپنیوں نے صارفین کو ایڈوانس بیلنس کی سہولت دے رکھی ہے کہ اگر کبھی بیلنس ختم ہو جائے تو مخصوص نمبر ملانے سے بیلنس آجاتا ہے لیکن وہ دئیے ہوئے بیلنس سے زیادہ وصول کرتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب:

 آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاید ایسے حالات کے متعلق پشین گوئی فرمائی تھی۔ آپ کا ارشاد گرامی ہے: ’’لوگوں پر ایسا وقت آئے گا کہ انسان اپنی روزی کے متعلق حلال و حرام کی پروا نہیں کرے گا۔‘‘ (بخاری، البیوع: ۲۰۵۹)

حرام کی کمائی میں سودی کاروبار بھی شامل ہے، جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگوں پر وہ وقت آنے والا ہے کہ وہ بلا دریغ سود کا استعمال کریں گے، دریافت کیا گیا کہ آیا سب لوگ اس وباء میں مبتلا ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: جو سود نہیں کھائے گا اسے سود کا دھواں یا غبار ضرور اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ (مسند امام احمد ص ۴۹۴، ج ۲)

صورت مسئولہ میں اسی قسم کا کاروبار ہے، مختلف موبائل کمپنیاں اپنا کاروبار چمکانے کیلئے اس طرح کی سہولیات صارفین کو دیتی ہیں۔ مثلاً:

٭ جاز کمپنی 10 روپے کا بیلنس دے کر 13.20 روپے کاٹتی ہے۔

٭ یوفون کمپنی 30 روپے دے کر 34 روپے واپس لیتی ہے۔

٭ ٹیلی نار والے 40 روپے دے کر 45.12 روپے وصول کرتے ہیں۔اور اسے سروس چارجز کا نام دیا جاتا ہے۔

ہمارے رجحان کے مطابق یہ سود ہے جس کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اگر تم اس سود سے باز نہیں آئو گے تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ لڑنے کیلئے تیار ہو جائو۔‘‘ (البقرۃ: ۲۷۹)

اس بناء پر ہمارا صارفین کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ اس طرح کے ایڈوانس بیلنس کو ہمیشہ کیلئے خیر باد کہہ دیں جو ہمیں اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے پر آمادہ کرتا ہے۔

2 comments

  1. اس سلسلے میں میرا رجحان یہ ہے کہ یہ سود کے زمرے میں نہیں آتا ہے ،جس کے دو بنیادی سبب ہیں۔
    1۔پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ اضافی رقم کمپنی کے سروس چارجز اور حکومتی ٹیکس ہوتا ہے جو وہ ایزی لوڈ اور کارڈ لوڈ پر بھی کاٹ لیتے ہیں۔آج کل اگر 100 روپے کا کارڈ لوڈ کریں تو 75 روپے آتے ہیں،اب کیا ہم یہاں بھی یہ کہیں گے کہ کمپنی نے 75 دے کر ہم سے 100 روپے لئے ہیں۔یہاں ایسا کوئی بھی نہیں کہتا ہے،ہر کوئی یہی سمجھتا ہے کہ یہ حکومتی ٹیکس اور سروس چارجز ہیں جو ہر کارڈ کے ساتھ ساتھ ہر کال پر بھی کٹتے رہتے ہیں اور یہ ایسے اصول ہیں جو سم لیتے وقت ہی کمپنی آپ کو بتا دیتی ہے کہ ہم ان ان شرائط پر آپ کو اپنی کمپنی کی سروس مہیا کریں گے،اور ہم کمپنی کی ان شرائط کو نہ صرف قبول کرتے ہیں بلکہ تحریری معاہدہ بھی کرتے ہیں کہ ہم کمپنی کی تمام شرائط سے متفق ہیں۔
    2۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم نے کمپنی سے نقد رقم نہیں لی ہوتی بلکہ ایک سروس اور خدمت لی ہوتی ہے ،جس کے چارجز ہم خدمت کے حصول کے بعد ادا کرتے ہیں۔(جبکہ کارڈ یا ایزی لوڈ میں پہلے ہی ادا کر دیتے ہیں۔)اب اس کو سود کیسے کہا جا سکتا ہے۔سود تو یہ ہے کہ نقدی رقم کے بدلے میں ہم زیادہ رقم ادا کر یں،یہاں تو ہم نے نقدی رقم لی ہی نہیں ہے۔اور پھر یہ بھی یاد رہے کہ یہ سروس چارجز ایزی لوڈ اور کارڈ پر کاٹے گئے چارجز سے کم ہیں۔فرق صرف تقدیم وتاخیر کا ہے۔
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*