صفحہ اول > سوالات/جوابات > خواتین واطفال > طلاق کے بعد بیوی کے حقوق

طلاق کے بعد بیوی کے حقوق

سوال:

مجھے میرے خاوند نے طلاق دے دی ہے‘ جبکہ میرا ایک سال کا شیر خوار بچہ بھی ہے۔ میرے خاوند نے ابھی تک مجھے حق مہر بھی نہیں دیا اور مجھے گھر سے نکال دیا ہے۔ مجھے بتایا جائے کہ طلاق کے بعد میرے خاوند کے ذمے کون کون سے حقوق ہیں؟

جواب: 

طلاق کی دو صورتیں حسب ذیل ہیں:

الف: خاوند نے بیوی کو پہلی یا دوسری طلاق دی ہے‘ اس صورت میں اگر عدت ختم نہیں ہوئی تو بیوی کا نان ونفقہ اور رہائش کا بندوبست خاوند کے ذمے ہیں کیونکہ طلاق دیتے ہی نکاح ختم نہیں ہوتا بلکہ عدت ختم ہونے تک نکاح برقرار رہتا ہے‘ عدت ختم ہونے کے بعد نکاح ختم ہوتا ہے۔

ب: خاوند نے بیوی کو تیسری طلاق دی ہے تو اس صورت میں طلاق دیتے ہی نکاح ختم ہو جاتا ہے‘ البتہ بیوی کو عقد ثانی کرنے کے لیے عدت گذارنا ہوتی ہے‘ ایسے حالات میں بیوی کا نان ونفقہ یا رہائش کا بندوبست خاوند کے ذمے نہیں۔ کیونکہ وہ اس کی بیوی نہیں رہی‘ البتہ وہ بچہ جو والدہ کے پاس ہے اس کے دودھ پلانے کی اجرت اسے ادا کرنا ہو گی‘ ماں اس زیر پرورش بچے کی پرورش کا معاوضہ بھی اپنے سابقہ شوہر سے وصول کر سکتی ہے۔ اگر ان کے پاس رہائش نہیں تو رہائش کا بندوبست بھی خاوند کے ذمے ہے۔ باقی رہا حق مہر وہ تو خاوند کے ذمے واجب الادا ہے‘ اسے ہر صورت میں ادا کرنا خاوند کی ذمہ داری ہے۔ واللہ اعلم

9 comments

  1. Muhammad Umar Ansari

    بسمہ سبحانہ و تعالی حامداََ و مصلیا۔
    مفتیان عظام و علماء محققین ۔۔۔
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔۔۔
    کیا فرماتے ہیں علماءِ شریعت محمدی ﷺ کہ آج کل فیس بک پر اک نئی وبا پھیلی ہوئی ہے وہ یہ کہ کوئی بدبخت گستاخ۔۔۔ حضرت آقاکریم ﷺ کی شان میں گستاخی و سب و شتم کرتا ہے تو نہ جانے انتہاء سادگی کی وجہ سے یا فقدان تربیت کی وجہ سے ان گستاخوں کی طرف سے کی گئی گستاخی مثلاََ: ویڈیو بیان و پیغام میں اللہ پاک و حضور وﷺ کی شان میں بے انتہاء بے ادبی گستاخی، قران پاک کو جلانا، قرآن پاک پر جوتا یا پاؤں رکھا جانا یا گٹر میں پھینکنے کی تصاویر یا ویڈیو وغیر ذالک من الخرافات شیئر کرتے ہیں اور لکھتے ہیں لعنت بھیج کر آگے شیئر کریں ۔ اسی طرح مسلم قوم کے دل سے گستاخی بے ادبی کی وقعت اور اس پر آنے والی غیرت ناپید ہوتی چلی جارہی ہے گویا یہ طریقہ قوم کو بے حس اور سن کرنے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے، کہ یہ تو روز مرہ کا معمول ہے۔۔۔ وضاحت فرمائیں کہ کیا اس طرح کا مواد کو پھیلنے دینا جائز ہے؟؟؟ نقل کفر در حقیقت کفر نباشد کا اصول کہاں استعمال کرنا چاھئے کہاں نہیں؟؟؟
    نیز اسی طرح کسی عورت کی تصویر شیئر کرنا خواہ وہ کسی بھی تناظر میں ہو چاھے بستر علالت پر ہو یا اپنی نمائش کرتی ہو یا دنیا سے رخصت ہوگئی ہو!!! کیسا ہے شریعت محمدیﷺ کی نظر مبارک میں۔۔۔
    آسان الفاظ میں تحقیقی اور ترغیبی جواب مطلوب ہے ان شاءاللہ جواب و فتوہ مبارک کروڑوں لوگوں میں پہنچایا جائیگا۔۔۔
    ۔
    خادم دین:
    محمد عمر انصاری
    غفر اللہ لہ۔

  2. Muhammad Umar Ansari

    مجهے جواب ای میل کردیں آپکے دارالافتاء کو طلاش نہیں کرپارہا لہذا تکلیف فرمالیں۔۔۔ جزاکم اللہ

  3. Question:
    Asalam o Alaikum Warehmat ullah hi wa barakatuhu Mufti sb 2 din qabal mene
    apni wife ko apne ghar walo k kehne par gysay mai 3 talaq whatsapp par voice
    message se bhaiji thi. Jo k usne mukalmal nai suni aur pehli talaq sunany k
    bad message close kar diya tha albata us k walid ne suni thi bad mai. To kiya
    teeno talaq nafiz hongi k Nai.
    Dosra ye k mene phir next din court mai ja kar 1st, 2nd Aur 3rd talaq stamp
    paper par type karwa kar apne sign Aur angoothy ka nishan laga kar ghar aa
    gaya magar abhi take Usko bazariya daak Post Nai kiya. Ab mujhe meri wife ne
    contact kiya Aur kaha k 1 sath 3 dafa talaq dene se Shari lehaz se 1 talaq hi
    mani jati hai. Aur mujhse maafi bhi mangi Aur ruju ka kaha Aur mai bhi ab
    yehi chahta hu. Please islah farmaiye.
    Apki duaon ka talab gar
    Touseef Abrar.

    • وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

      محترم بھائی! آپ نے وٹس ایپ پر ایک ہی میسج میں تین بار طلاق طلاق طلاق کہا، تو یہ ایک طلاق واقع ہوئی ہے، اس کے بعد جو آپ نے کورٹ میں جاکر طلاقیں لکھیں، اگر تو وہ اس وٹس ایپ والے میسج کی تاکید میں لکھی ہیں، یعنی نئی طلاق آپ نے نہیں دی، بلکہ اس دی گئی طلاق کو دوبارہ سے پیپر پر لکھا ہے تو تبھی آپ کی ایک طلاق واقع ہوگئی ہے، لیکن اگر آپ نے ایک بار طلاق دینے کے بعد دوسری بار طلاق دینے کی نیت سے پھر سے تین بار پیپر پر طلاق طلاق طلاق لکھی تو یہ آپ کی دوسری طلاق واقع ہوگی۔ مزید بس آپ کے پاس ایک چانس ہے۔ باقی آپ رجوع کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔

      باقی طلاق میاں کا حق ہوتا ہے، بیوی کو علم ہو یا نہ ہو، طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ مطلب بیوی کو بتانا ضروری نہیں ہوتا کہ میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے۔

      واللہ اعلم بالصواب

    • Dear brothers aoa
      We got married two years back and spend few days alone but didn’t had relation after that he left abroad we never meet but we’re in contact. After two years my family and he had some argument and my family asked divorce he don’t want to give but he under pressure signed dicumrnt and wording was
      With my free will I pronounce divorce divorce divorce and I have no concerns with you and you are free.
      He sent this to my family I lived abroad and my family forwarded me by whatsup
      My question is Idah period is over we both want reconciliation written thrive on one paper. Is it one divorce ???
      2. Do I had Idah though we live together but don’t had relation ??
      3- can we do nikah again if it is one divorce ??
      Please help in this regard

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*