مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان اپنے اہداف، مقاصد اور جدوجہد میں منفرد حیثیت رکھتی ہے۔ دین اسلام کی حقیقی ترجمانی کی جھلک اس میں نمایاں نظر آتی ہے۔ اس جماعت سے منسلک افراد بھی اپنی مثال آپ ہیں، وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لےے ہر وقت اسلام کی سربلندی کے لےے برسر پیکار رہتے ہیں۔ تبلیغ کے میدان میں ہزاروں مبلغ سخت اور دشوار ترین راستوں سے ہوتے ہوئے دن اور رات کی تمیز کےے بغیر لوگوں کو شرک و بدعت کی ظلمت سے نکالنے کے لےے محنت کر رہے ہیں۔ جماعتی نظم کی اہمیت سے آشنا ذمہ داران جماعت کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنے کے لےے مصروف عمل ہیں۔ مختلف طبقہ ہائے زندگی سے منسلک افراد طلبائ، اساتذہ، نوجوان، وکلائ، قراءکرام، تاجر اور بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ شعبہ تبلیغ انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ اپنی اہمیت کو منواتا ہوا نظر آتا ہے۔
اس تمام کوشش میں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کا شعبہ خدمت خلق گذشتہ دہائیوں سے دکھی، بے کس اور مجبور انسانیت کی خدمت کے لےے اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔ پاکستان میں بالخصوص اور عالم دنیا میں بالعموم اس شعبہ پر خاصی توجہ دی گئی ہے۔ 2005ءمیں سونامی طوفان نے جس طرح بہت سے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لیا اور بہت سے شہروں اور ساحلی گاﺅں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جس کی مثال پہلے نظر نہیں آتی۔ پھر اس کے بعد صوبہ سرحد، آزاد کشمیر کے مختلف شہروں اور شمالی علاقہ جات زلزلہ کی زد میں آئے۔ سکردو میں ایک مخصوص فرقہ کے لوگوں نے مرکز الاسلامی سکردو کو نشانہ بنایا اور مسلک اہل حدیث کے ادارے کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ 7 گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ لائبریری کو جلا کر خاک کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، راجن پور کے اضلاع میں سیلابی ریلے نے جو تباہی مچائی اس سے انسانی نگاہیں پتھرا گئیں، اس کے ساتھ ساتھ سندھ کے دیہی علاقے شدید بارشوں کی زد میں آئے اور انسان سسکتا ہوا نظر آنے لگا۔ ان تمام حالات میں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان نے امدادی کام بخوبی سر انجام دیا اور لوگوں کے بہتے آنسوﺅں کو خوشیوں میں تبدیل کیا۔ ننھے معصوم بچوں کی اداسی کو مسرتیں مہیا کیں۔ بے کس مزدوروں کو روٹی کا نوالا مہیا کیا۔ مجبور بہن کے سر پر شفقت کی چادر رکھی، اس طرح مسلک اہل حدیث کی حقیقی ترجمانی کی گئی اور اسوہ¿ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کر کے سنت کا احیاءکیا گیا۔ حالیہ دنوں بلوچستان میں تباہی کے مناظر کسی سے مخفی نہیں ہیں۔ وہاں ہونے والی تباہی اب کسی بیان کی محتاج نہیں اور نہ ہی موسم کی شدت اب کسی زبان کے اظہار کی متمنی ہے۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کا شعبہ ریلیف برائے بلوچستان ان لوگوں کو مختلف سہولتیں دینے کے لےے کام کر رہا ہے۔ خیمے مہیا کےے جا چکے ہیں اور مزید کا انتظام کیا گیا ہے۔ پانچ ہزار گھرانوں میں امدادی خوراک دی جا چکی ہے اور مزید بندوبست کیا جا رہا ہے۔ سردی سے بچنے کے لےے رضائیاں دی جا چکی ہیں۔ متاثرہ علاقے میں 500 گھرانوں کو از سر نو تعمیر کرنے کے لےے سٹیل کی چادریں خریدی جا چکی ہیں اور تعمیر عنقریب شروع ہونے والی ہے۔ ادویات کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے تا کہ کسی بھی وبائی مرض سے بچاﺅ کا اہتمام کیا جائے۔ ڈاکٹرز کی ٹیم جماعت کے پلیٹ فارم سے خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ جب مصیبت آتی ہے تو تمام راستے بند ہو جاتے ہیں لیکن ایک راستہ کھلا رہتا ہے جس کا نام انسانی ہمدردی، اسلامی بھائی چارہ اور رشتہ توحید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے کفن میتوں کو کفن پہنانے کے لےے جماعت نے وسائل مہیا کےے۔ تا کہ میتوں کی بے حرمتی نہ ہو۔ اس طرح اب تک یہ شعبہ چار کروڑ ایک لاکھ روپے کی امداد مہیا کر چکا ہے۔ جو پاکستان میں امدادی کام کرنے والی جماعتوں میں سے سب سے زیادہ امدادی رقم ہے۔ گو اسے ہم فخر کی بات نہیں سمجھتے۔ مگر یہ جماعت کے لےے اعزاز کی بات ضرور ہے۔ کیونکہ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان مسلک اہل حدیث کی حقیقی نمائندہ جماعت ہے جو ملک گیر بھی ہے اور اس کی سرگرمیوں کا دائرہ کار بین الاقوامی حیثیت کا حامل بھی ہے۔
عیدالاضحی بہت قریب آ گئی ہے اور جب یہ تحریر آپ کے ہاتھوں میں پہنچے گی تو اس میں شاید چند دن باقی رہ جائیں۔ اس عید کی خوشی کے موقع پر جماعت نے زلزلہ متاثرین بلوچستان کے لےے خصوصی عید پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ ریلیف کمیٹی برائے بلوچستان نے اس کے لےے 50 لاکھ مالیت کا پیکیج تیار کر لیا ہے اور ان شاءاللہ عید سے پہلے متاثرہ علاقوں کی طرف روانہ کر دیا جائے گا۔ یہاں یہ بات خصوصی طور پر ذکر کرنا ضروری ہے کہ جماعت کے ذمہ داران پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی، حافظ شاہد امین، پروفیسر مطیع الرحمن، پروفیسر محمود ارشد، چوہدری محمد یونس، ڈاکٹر خالد صدیقی، عرفان اللہ ثنائی، پروفیسر نجیب اللہ طارق، مولانا عبدالرشید حجازی، حکیم سلیمان اظہر، رانا محمد نصراللہ خاں، عمران حمید مرزا، مولانا مبشر مدنی، مولانا منیر احمد وقار، مولانا عبدالمنان سلفی، حافظ سعد رفیق، مولانا قاری عزیر، حافظ عبدالمجید بٹ، مولانا مشتاق چیمہ، مولانا ادریس گوہڑوی، حافظ عبدالحمید عامر، حافظ طارق یزدانی، حافظ حسن محمود کمیرپوری، حافظ سیف اللہ عابد، مولانا عبدالرشید راشد ہزاروی، مولانا بہادر علی سیف، نذیر احمد سلفی ایڈووکیٹ، مولانا طارق ضیائ، مفتی اسلم، میر اشرف، قاضی ریاض قدیر، نعمت اللہ ظفر، حافظ یونس مدنی، حافظ منظور الٰہی، راشد گلزار سلفی، ذاکر الرحمن صدیقی نے اپنی تمام تر توجہ سے اس جماعت کے عید پیکیج میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان اس امدادی سامان کے ذریعہ سے مزید 3000گھرانوں کو خود کفیل بنانے کی کوشش کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی ان گھرانوں کی تعداد 20,000 ہو جائے گی۔ جن کی امداد جماعتی پلیٹ فارم سے کی جا چکی ہے۔ احباب جماعت سے خصوصی اپیل ہے کہ ابھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اور امداد کی اشد ضرورت ہے، برف باری کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ جس سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ یہاں پر ایک بات بلوچستان کے ان غیور پٹھانوں کے حوالے سے ضرور ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ جب چیئرمین مرکزی ریلیف کمیٹی مولانا علی محمد ابو تراب متاثرہ علاقے میں گئے اور انہوں نے کچھ گھرانوں کو اکٹھا کر کے امدادی نقد رقم ان کو دی تو سب نے یہ کہہ کر رقم لینے سے انکار کر دیا کہ ہم کو اس کی ضرورت نہیں اگر آپ ہمارے ساتھ نیکی کرنا چاہتے ہیں تو کچھ سامان تحفہ کی حیثیت سے دے دیں وہ ہم قبول کر لیں گے، مشکل کے اس وقت میں بھی ان جواں ہمت پٹھانوں نے اپنی علاقائی اور مذہبی غیرت کا ثبوت دیا۔ جماعتی کوشش کے ساتھ ساتھ اہل حدیث یوتھ فورس پاکستان کے ذمہ داران زلزلہ متاثرین کی امدادی سرگرمیوں کو فوکس کےے ہوئے ہیں۔ اہل حدیث یوتھ فورس بلوچستان کے صدر مولانا حبیب اللہ مجاہد اور جنرل سیکرٹری صلاح الدین ضامرانی اپنی پوری ٹیم کے ساتھ متاثرہ علاقے میں موجود ہیں اور عنقریب جماعت کے ذمہ داران کا وفد زیارت کے لےے روانہ ہو گا اور اپنے ہاتھ سے عید پیکیج متاثرہ لوگوں میں تقسیم کرے گا
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر