میثاق جمہوریت پر عمل نہ کرنے کی غلطی کا اعترافی بیان وزیر اعظم کی محرومیوں کا آئینہ دار ہے۔ پروفیسر ساجد میر
لاہور( 4جنوری 2010) مرکزی جمعیت اہل حدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ میثاق جمہوریت پر عمل نہ کرنے کی غلطی کا اعترافی بیان وزیر اعظم کی محرومیوں کا آئینہ دار ہے۔ وزیر اعظم کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زیاد ہ بہتر ہوتا کہ یہ اعتراف صدر کرتے کیونکہ اصل قصوروار وہ ہیں کیونکہ اس ضمن میں ہونے معاہدوں کو تورنے کی تمام تر زمہ داری بھی صدر پر ہی عائد ہوتی ہے البتہ اسے غلطی تسلیم کرکے وزیر اعظم نے نہ صرف اعلی ظرفی کا مظاہرہ کیا بلکہ اگر غور کیا جا ئے تو اس میں انکی اپنی محرومیاں بھی دکھائی دیتی ہیں۔تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم کو اپنے آئینی اختیارات کے حصول کی کوشش جاری رکھنی چاہیے اور اس سلسلے میں تما م اپوزیشن جماعتیں انکے ساتھ ہیں۔ پروفیسر ساجد میر نے میاں نوازشریف کی طرف سے7 ویں ترمیم کے خاتمے میں تیسری بار وزیر اعظم کی پابندی کو برقرار رکھ کر ختم کرنے کی پیشکش کو داد دی ہے تاہم کہا ہے کہ یہ میاں نوازشریف کی کسر نفسی اور اعلی ظرفی ہے مگر ہم سمجھتے ہیں کہ چونکہ یہ پابندی ایک آمر نے بے نظیر اور نوازشریف کے لئے ذاتی دشمنی کی بنیاد پر لگائی تھی لہذا ہم سمجھتے ہیں کہ ایک آمر کی تما م غیر آئینی ترامیم کے خاتمہ ہونا چاہیے تب ہی حقیقی معنوں میں جمہوریت بحال ہوگی۔