امریکہ کی طرف سے ڈرون حملے جاری رکھنے کے اعلان کے بعد دفاعی اقدامات ناگزیر ہوگئے ۔ساجد میر
لاہور(09جنوری 2010 ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیرسینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ امریکی سینیٹر جان مے کین کی طرف سے ڈرون حملے جاری رکھنے کے اعلان کے بعد دفاعی اقدامات ناگزیر ہوگئے ہیں‘ حکومت نیازمندانہ رویہ بدلے‘ وطن کے دفاع اور سلامتی کے لیے قوم پاک فوج کے ساتھ ہے۔ حکومت پاک فضائیہ کی دفاعی صلاحیت سے فائدہ اٹھائے اور ڈرون حملے روکے ۔ مرکز اہل حدیث میںعلماء کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے خودکش حملوں کو فروغ دے رہے ہیں‘ بدقسمتی سے دونوں صورتوں میں اموات پاکستانیوں کی ہورہی ہیں جسکے ملکی سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے عالمی پالیسیاں نہ بدلیں تو عسکریت پسندی اور انتہاپسندی سے نجات نہیں ملے گی۔ افغانستان میں اسے القائدہ اور طالبان کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اسکی طاقت کی پالیسی ناکام ثابت ہو ئی ہے ۔ کسی نئے نائن الیون سے بچنے کےلئے امریکہ کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ انہوں نے کراچی میں ٹارگٹ کلنک کے واقعات کی پرزور مذمت کی اور کہا کہ دوپارٹیوں کی سیاسی جنگ میں معصوم اور بے گناہ لوگوں کو زبح کیا جارہا ہے۔ کراچی کی عوام کو دہشت گردوں کے حوالے کردیا گیا ہے اور وہاں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے ایم کیو ایم کی طرف سے فوج کو دعوت دینا حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ دریں اثناء پروفیسر ساجد میر نے جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی اہلیہ کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور مرحومہ کی مغفرت کی دعا کی ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے لاہور پریس کلب کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارک باد دی ہے۔