متنازعہ ترامیم اعلان کے باوجود مارچ میں ختم نہ کی گئیں تو پھر مارچ میں ڈبل مارچ ہوگا۔پروفیسر ساجد میر
اسلام آباد(11جنوری 2010) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ اگر میثاق جمہوریت کے تحت متنازعہ ترامیم اعلان کے باوجود مارچ میں ختم نہ کی گئیں تو پھر مارچ میں ڈبل مارچ ہوسکتا ہے۔ مرکزی دفترمیں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے دوسالوں میں عوام سے کیے گئے کسی ایک وعدہ کو بھی پورا نہیں کیا ‘ لوٹ مار اور بدعنوانی کی وجہ سے ملک کنگال ہورہا ہے اور اگر عدالت لوٹی دولت کی واپسی کے لئے کوشش کرتی ہے تو اسکو آنکھیں دکھائی جاتی ہیں یہ اندازحکمرانی جرنیل آمریت سے مختلف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی بالادستی کی سب باتیں کرتے ہیں مگر جب عمل کی باری آتی ہے تو اسے جمہوریت کے خلاف سازش تصور کرلیا جاتا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم گیلانی کے اس بیان پر افسو س کا اظہار کیا کہ صدر کے خلاف اخلاقی بنیادوں پر کارروائی نہیں کی جاسکتی‘ اگر گیلانی صاحب اپنی اہلیہ کا نام این آراو کی فہرست میں آنے کی صورت میں مستعفی ہونے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں تو کیا یہ اخلاقی بنیاد نہیں تھی جو اخلاقیات کا معیار وہ اپنے لیے پسند کرتے ہیں صدر زرداری کے لیے کیوں نہیں پسند کرتے۔ پروفیسرساجد میر نے کہا کہ حکومتی وزراء نے 17 ترمیم کے خاتمے کے لئے مارچ کا اعلان کیا ہے اگر اس پر بھی عمل نہیں ہوتا تو پھر مارچ میں ڈبل مارچ ہوگا‘ انہوں نے کہا کہ کراچی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم اگر متصادم نہیں ہیں تو پھر صلح کس چیز پر کی گئی ہے اگر ٹارگٹ کلنگ میں لینڈ اور ڈرگ مافیا ملوث ہے تو پھر انکی بجائے ایم اکیو ایم اور پیپلزپارٹی کے لوگ کیوں نشا نہ بنے۔ حکومت حقائق نظر انداز کرکے عوام کو بیوقوف بنارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کراچی کے واقعات کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔