مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان نے وکلاء کی ہڑتال کی حمائت کردی اگر صدر کو استثناء ہے تو حکومت باقی لٹیروں کا ٹرائل کیوں نہیں کررہی ‘حکومت عدلیہ کے فیصلے کا مذاق اڑا رہی ہے پر وفیسر علامہ ساجد میر
لاہور(25جنوری 2010 ء) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیرسینیٹر پروفیسر ساجد میر نے عدلیہ سے محازآرائی اور این آراو کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے کے حکومتی رویئے کو مشرف کا ری پلے قرار دیا ہے اور 28 جنوری کو وکلاء کی کال کردہ ہڑتال کی حمائت کردی ہے ۔ وہ جامعہ اثریہ میں اہل حدیث یوتھ فورس پنجاب کے نائب صدرسعد مدنی کی دعوت ولیمہ کے موقع پر میڈیا کے نمائندوں اور کارکنوں سے گفتگو کرتے کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے این آراو کے متعلق عدالتی فیصلے کودل سے قبول نہیں کیا صرف میڈیا کے سامنے مجبورََا احترام کی باتیں کی جارہی ہیں اگر صدر کو استثناء حاصل ہے تو باقی لٹیرے کیوں آزاد پھر رہے ہیں وہ کیوں حکومتی مناصب پر فائز ہیں اگر واقعی و زیراعظم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں تووہ اپنی کابینہ سے این آراو زدہ وزراء کو باہر کیوں نہیں نکالتے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ادارہ جمہوریت کی بساط نہیں لپیٹ رہا اور نہ ہی کوئی تصادم چا ہتا ہے‘ پیپلزپارٹی گیم کررہی ہے اور ایک طرف اسے میثاق جمہوریت پر عمل درآمد کے وعدے پر عمل کرنے بوجھ ہے تو دوسری طرف این آراو اسکے گلے کی ہڈی بننے جارہا ہے‘ وہ دونوں پر عمل کرنے کی بجائے راہ فرار اختیار کررہی ہے اورجمہوریت کے خلاف سازش کا واویلہ کررہی ہے ۔ مگر ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کی بقا ان پر عمل کرنے میں ہی ہے وگرنہ جو نقشہ بنے گا وہ ملک کے لیے نیک فال نہیں ہوگا۔ انہوں نے خواتین کو ہراساں کرنے کے متعلق پارلیمنٹ کے منظور کردہ بل بارے سوال کے جواب میں کہا کہ ہمیں اس بل پر تحفظات ہیں ‘ ہم سمجھتے ہیں کہ اس میں یہ ترمیم ہونی چاہیے کہ اگر کوئی عورت شرعی تقاضوں کا اہتما م کرنے کے باوجود ہراساں کی جائے تو پھر ہراساں کرنے والا مجرم ہے تاہم اسکی جو سزا متعین کی گئی ہے وہ بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو شرعی ‘معاشرتی اور قانونی تمام پہلوئوں کا جائزہ لیکر قانون سازی کرنی چاہیے اس قانون کے بعد شریف مردوں پر بعض پیشہ ور اور بازاری عورتوں کی طرف سے الزامات اور غیر اخلاقی حملوں کی جرات اور حوصلہ بڑھے گا جس کے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام خواتین کی عصمت کا بہترین محافظ ہے اسکے حجاب اور حیاء کے قوانین پر عمل پیرا ہوکر خواتین ہرقسم کی ہراسمنٹ سے بچ سکتی ہیں۔