دینی مدارس ہر دور میں نشانے پر رہے موجودہ حالات بھی مدارس کے لیے ساز گار نہیں ہیں، سالانہ تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب
لاہور (11اپریل2010 ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ دینی مدارس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے ، دینی مدارس ہر دور میں نشانے پر رہے موجودہ حالات بھی مدارس کے لیے ساز گار نہیں ہیں،
مدارس کے فاضلین کو نئے رحجانات کے مطابق تحقیق وتدریس کے میدان میں آنا ہو گا، برصغیر میں دینی اقدار کی حفاظت اور آبیاری کے لئے دینی مدارس نے ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ سلفیہ کی سا لانہ تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ جس سے ناظم اعلی حافظ عبدالکریم ، چوہدری یسین ظفر نے بھی خطاب کیا۔ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ حکومت اور وفاق المدارس کے مابین دینی اسناد کو تسلیم کرنے کے معاملے پر پیش رفت ہورہی ہے اور اس ضمن میں مجوزہ بورڈ کے قیام پر اتفاق ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ا مریکہ نے دینی مدارس کے طلباء کو استعمال کرنے کے بعد معتوب بنایا، کل کے مجاہدکو آج کا دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے امریکہ کو افغانستان میں شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، صدر زرداری مشرف سے بڑھ کر امریکہ کے وفادار بن گئے، ڈرون حملوں پر حکومت نے رسمی احتجاج بھی بند کردیا ہے۔ 18 ویں ترمیم کی بعض شقوں پر تحفظات ہیں، مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے حکومت کے خلاف عوامی نفرت بڑ ھ گئی ہے، انرجی بحران پر قابو پانے کے لیے ایران کی سستی بجلی کی پیشکش کو قبول کرلینا چاہئے، وگرنہ پاکستان میں بھی کرغستان جیسے حالات پیدا ہوسکتے ہیں۔