مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے بھی مجوزہ 18 ترمیم کے سلسلے میںسینیٹ میں آئینی ترامیم پیش کردیں،
لاہور(13اپریل2010 ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے بھی مجوزہ 18 ترمیم کے سلسلے میںسینیٹ میں آئینی ترامیم پیش کردی ہیں،جس میں کہا گیا ہے کہ( 1)سر حد کے نام کی تبدیلی کا فیصلہ سرحد کے عوام کی مرضی سے کیا جائے اور اس مقصد کے لیے حکومت ایک ماہ کے اندر عوامی ریفرنڈ م کرائے،( 2 )اعلی عدلیہ کے ججوں کی تقرری کے لیے پارلیمانی کمیشن کی بجائے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، جس میں پارلیمنٹ کی بھی نمائندگی ہو، تاکہ عدلیہ کوپارلیمنٹ کے تابع ہونے سے بچا یا جاسکے۔(3)دستور کی اسلامی دفعات کو موثر بنانے کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل درآمد ہونا چاہئے ، اور اسکی سفارشات کو قانونی حیثیت دلانے کا طریقہ کار آسان بنا یا جائے، اسکی منظوری کے لیے 2/5 کی بجائے 1/5 ووٹ درکار ہو نے چاہئیں۔مرکز اہل حدیث کے میڈیا سیل سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی ملکی سلامتی سے زیادہ عزیز نہیں ہونی چاہیے، ریفرنڈم کے سوا اسکا کوئی حل نہیں ہے۔ پہلے سرحد کی عوام کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھا یا گیا اور اب صوبہ کے نام پر لاشیں گرائی جارہی ہیں۔ اے این پی کی قیادت کو ضد اور ہٹ دھرمی کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر دیگر ایشوز پر آئینی ترامیم ہو سکتی ہیں تو نفاذ اسلام کے لیے کیوں ترامیم نہیں ہو سکتیں۔ اس مقصد کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو آئینی حیثیت ملنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی ،جماعتوں کے اندر الیکشن کرانے کی حامی ہے۔