خیبر پختون خواہ نام سے ملک میں لسانیت کا طوفان اٹھے گا جس سے انارکی پھیلے گی اور وفاق کمزور ہو گا، سینیٹ میں مخالفت میں ووٹ ڈالا،اٹھارویں ترمیم کی بعض شقوں پر تحفظات ہیں تاہم اس کی منظوری سے جمہوری قوتیں دو قدم آگے جبکہ اسٹیبلشمنٹ چار قدم پیچھے چلی گئی اور سانپ اور سیڑھی کا کھیل مستقل ختم ہوگیا۔ سینیٹرپروفیسر ساجد میر کی میڈیا سے گفتگو
لاہور(15 اپریل 2010 ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ا میر سینیٹر پروفیسرساجد میر نے کہا ہے کہ خیبر پختون خواہ نام سے ملک میں لسانیت کا طوفان اٹھے گا جس سے انارکی پھیلے گی اور وفاق کمزور ہو گا، ہم نے سینیٹ میں مخالفت میں ووٹ ڈالا۔ 19 ویں ترمیم لانا پڑے گی۔ اٹھارویں ترمیم کی بعض شقوں پر تحفظات ہیں تاہم اس کی منظوری سے جمہوری قوتیں دو قدم آگے جبکہ اسٹیبلشمنٹ چار قدم پیچھے چلی گئی اور سانپ اور سیڑھی کا کھیل مستقل ختم ہوگیا۔ اس امر کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ مسلم لیگ( ن) کی پالیسی کے برعکس ووٹ ڈال کر اپنا جمہوری حق استعمال کیا، ہم ان کے حلیف ضرور ہیں مگر قومی معاملات میں اپنی پارٹی کی لائن پر چلتے ہیں۔ ہم نے پرویز مشرف کی صدارت کے خلاف بھی ووٹ ڈالا تھا جو تنہا میرا ہی تھا جس پر آج ہمیں فخر ہے۔ انہوں نے اعلی عدلیہ میں ججز کی تقرری کے ضمن میں پارلیمانی کمیشن کے اختیارات پر تنقید کی اور کہا کہ اس سے عدلیہ کی آزادی پر حرف آئے گا، حکومتی اداروں اور وزیروں کا عدلیہ کے بارے میں گستاخانہ رویہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، بلکہ حکومتی رویہ عدلیہ کا منہ چڑا رہا ہے۔ تاہم حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ اب جمہوریت اور منتخب نمائندوں پر کسی آمر کو شب خون مارنے کی جرات نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی اختیارات کی پارلیمنٹ منتقلی سے جمہوریت کو تقویت ملے گا تاہم حکمرانوں کے رویوں میں بھی جمہوریت آنی چاہئے اور ون مین شو کلچر ختم ہونا چاہئے۔