حکومت دہشت گرد اسلامی تنظیموں کی بجائے ملک دشمن عناصر سے تلاش کرے،، بنگلادیش روانگی سے قبل گفتگو
لاہور( 17 اپریل 2010 ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر بنگلا دیش کے دورے پر روانہ ہوگئے ، روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کوہاٹ دھماکوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کی نئی لہر ملکی سلامتی کے خلاف عالمی سازش ہے ،حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینا ہوں گے ، امریکہ کے تابع خارجہ پالیسی تبدیل اورڈرون حملے بند کرنا ہوں گے ، حکومت دہشت گرد اسلامی تنظیموں کی بجائے ملک دشمن عناصر سے تلاش کرے، انہوں نے کہا کہ اس وقت ملکی سلامتی کو لاحق خطرات میں اضافہ ہوگیا ہے، معاشی بدحالی، مہنگائی اور لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا محال کردیا ہے اور اس پر بڑھتا ہوا عوامی ردعمل حکمرانوں کے ایوانوں تک پہنچ سکتا ہے، حکومت نے عوام کی خوشحالی کے زبانی دعووں کے سوا کچھ نہیں کیا، وفاقی وزراء میں عوام کاسامنا کرنے کی جرات نہیں ۔ حکومت کو انرجی بحران پر قابو پانے کے لیے ایران ،ترکی اور چین کی پیشکش قبول کرلینی چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ نے مشرف اور زرداری حکومتوں کو مشکوک بنادیا ہے۔ پروفیسر ساجد میر اپنے دورے کے دوران بنگلا دیش کے صدر، اسلامی تنظیموں کے سربراہوںسمیت دیگر شخصیات سے ملاقاتوں کے علاوہ جنوبی ایشیا ء کی اہل حدیث تنظیموں کے اجلا س کی صدارت بھی کریں گے۔