جنوبی ایشیاء میں امن کا راستہ کشمیر سے ہوکر آتاہے، امریکہ خطے میں بھارت کو تھانیدار بنانا چاہتا ہے حکمران امریکہ کے تابع ہیں، جنوبی ایشیاء کی دینی قوتیں اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں، ساجد میر
لاہور(19 اپریل 2010 ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ا میر سینیٹر پروفیسرساجد میر نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں امن کا راستہ کشمیر سے ہوکر آتاہے ایٹمی ودیگر معاہدے کرکے امریکہ خطے میں بھارت کو تھانیدار بنانا چاہتا ہے ، پاکستانی حکمران امریکہ کے تابع ہیں، جنوبی ایشیاء کی دینی قوتوں کو اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی۔ دہشت گردی امریکی سامراجی کی ظالمانہ پالیسی کا ردعمل ہے جسکی ہم مذمت کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈھاکہ میں جنوبی ایشیاء کی اہل حدیث تنظیمات کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی لہر کو اسلام کے ساتھ نتھی کرنا مغربی سازش ہے، کسی مسلمان ملک میں خود کش حملے جائز نہیں ہیں، جو عناصر اس میں ملوث ہیں انہیں غیر ملکی طاقتوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارت نے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے اور یو این او کی قرارداوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے ،آزادی کشمیر یوں کا بنیادی اور انسانی حق ہے جسے زیادہ دیر تک دبایا نہیں جاسکتا۔ دریں اثناء انہوں نے 18 ویں ترمیم کے آئین کا حصہ بننے پر ردعمل میں کہا کہ متنازعہ آمرانہ ترامیم کا خاتمہ اور صدارتی اختیارات کی پارلیمنٹ کو منتقلی خوش آئند ہے تاہم پختون خواہ نام اور پارٹی الیکشن سے جماعتوں کو آزاد کرنے، صدر کے دوعہدے کے حوالے سے تحفظات ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے 19 ویں ترمیم لانا پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ صدر نے جن حادثات کے رونما ہونے کا خطرہ ظاہر کیا ہے اسکی وضاحت کرنی چاہئے، اس ترمیم کے آئین کا حصہ بن جانے کے بعد آمرانہ قوتیں چار قدم پیچھے چلی گئی ہیں اور جمہوری قوتیں دوقدم آگے بڑھی ہیں اب سانپ اور سیڑھی کا کھیل ختم ہو گیا ہے۔