عدلیہ کو باندی بنانے کی کوشش حکومت کو مہنگی پڑے گی،بنگلا دیش کے دورے سے واپسی پر گفتگو
لاہور( 22 اپریل 2010 ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے بنگلادیش کے تین روزہ تبلیغی دورے سے واپسی پر میڈیا اور کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلہ دیش کے مسلمان پاکستان کے ایٹمی ملک ہونے پر فخر کرتے ہیںاور ان میں دینی اقدار کے تحفظ اور خطے میں مسلمانوں کے استحکام کا جذبہ کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا ہے ،باقی مسلمانوں کی طرح انہیں بھی پاکستان میں بڑھتی ہوئی امریکی مداخلت پر تشویش ہے انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیاء میں قیام امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے، اس سلسلے میں اسلامی دنیا کو اپنا کردار ادا کرنا چا ہئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کی منظوری کے باوجود عوام کے چہروں پرخوشی کا نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے، جوڈیشل کمیشن کی تشکیل اور ججز کی تقرری پر سپریم کورٹ بار کے تحفظات درست ہیں، انہوں نے عدلیہ کو اس لئے بحال نہیں کرایا تھا کہ اسے حکمران باندی بنا نے کی کوشش کریں، اس طرح کی کوشش اسے مہنگی پڑسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پارٹی الیکشن کے حامی ہیں اور جماعتوں میں خاندانی آمریت نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو قتل کی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد صدر زرداری پرانکی پارٹی اور کارکنوں کا دبائو بڑھ گیا ہے اب انہیں قاتلوں کے نام بتانا پڑیں گے۔