پنجاب پیپکو کو 26 ارب روپے کا ریونیو دیتا ہے جبکہ باقی تینوں صوبے ملکر ساڑھے چار ارب روپے سالانہ دیتے ہیں، اس سے واضح ہوتا ہے کہ باقی صوبے بجلی کا بل ادا نہیں کرتے بلکہ چوری کا ارتکاب کرتے ہیں،پروفیسر ساجد میر
لاہور (23اپریل2010) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے ایڈہاک ازم کی بجائے، مستقل حل نکالنا ہوگا اس مقصد کے لیے کالاباغ ڈیم سمیت مختلف ڈیمز ودیگر وسائل بروئے کار لائے جائیں ، پنجاب کے علاوہ باقی تینوں صوبوں میں بجلی چوری کے رحجان پر قابو پانا ہوگا، پنجاب پیپکو کو 26 ارب روپے کا ریونیو دیتا ہے جبکہ باقی تینوں صوبے ملکر ساڑھے چار ارب روپے سالانہ دیتے ہیں، اس سے واضح ہوتا ہے کہ باقی صوبے بجلی کا بل ادا نہیں کرتے بلکہ چوری کا ارتکاب کرتے ہیں،کراچی میں سب سے زیادہ بجلی چوری ہوتی ہے، حکومت اگر شارٹ فال ختم کرنا چاہتی ہے تو اسے بجلی چوری اور اپنی شاہ خرچیوں پر قابو پانا ہوگا۔ جامعہ ابراہیمہ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سارا قصور سابق حکومت پر عائد کرکے اپنے آپ کو بری الزمہ قرارنہیں دے سکتی، کالا باغ ڈیم پر پابندی پرویز مشرف نے نہیں بلکہ موجودہ حکومت نے عائد کی ہے۔ حکومت اپنے انداز حکمرانی اور طور طریقوں میں سادگی لائے ، صرف باتوں سے کام نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران ،ترکی اور چین کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے ان سے کم قیمت پر بجلی لینی چاہئے۔ صدر زرداری جن سیاسی اداکاروں کو ہدف تنقید بنارہے ہیں، کیا بجلی اور مہنگائی کابحران بھی سیاسی اداکاروں نے پیدا کیا ہے۔ قوم کو شہیدوں کے نام لیکر لولی پاب دینے کی بجائے وعدے پورا کرنا ہوں گے ۔