عدلیہ کی آزادی کی حفاظت کے لیے بحالی سے بھی بڑی قربانی دینا پڑے گی ،جمعہ کے اجتماع سے خطاب
لاہور (30اپریل2010ء) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ کرپٹ بیورو کریسی کو نکیل ڈالنے کی ضرورت ہے، جعلی ڈگریاں رکھنے والے عوام کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے، جمہوریت اور آزاد عدلیہ کی باتیں کرنے والے اس کے فیصلے بھی مانیں،مسئلہ کشمیر اور پانی کے تنازعہ کے حل کے بغیر بھارت سے تعلقات کی بحالی کی باتیں فضول ہیں، جامعہ ابراہیمیہ میں جمعہ کے اجتماع اور کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کی حفاظت کے لیے بحالی سے بھی بڑی قربانی دینا پڑے گی انہوں نے کہا کہ جعلی ڈگریوں کے حامل ارکان کے خلاف پارٹیوں کو ایکشن لینا چاہیے اور قطعا انہیں دوبارہ ٹکٹ نہیں دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کو پارلیمنٹ کے زریعے سلب کرنے کی ہرکوشش کے خلاف مذاحمت کریں گے۔ مسلم لیگ ن کو عدلیہ کی آزادی کے نعرہ پرکامیابی ملی اس لئے اس آزادی کی حفاظت کی زمہ داری سب سے زیادہ اس پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ پاک بھارت کشیدگی کی بنیاد کشمیر اور پانی کا تنازعہ ہے انکے حل کے بغیر بات چیت فضول ہے۔ وزیر اعظم کو بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں بھارتی مداخلت پر بھی آواز اٹھانی چاہئے۔اورآزادی کشمیر کی تحریک کو ہر حال میں کامیاب بنانے کے لیے سفارتی، اخلاقی اورسیاسی حمایت تیز کرنی چاہئے۔