وزیر خارجہ نے بھارت کے خوشامندی ہونے کامظاہرہ کیا، اغیار کی غلامی نے انہیں اندھا کردیا ہے، ساجد میر
لاہور( 2 مئی 2010) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ شاہ محمود قریشی نے’’ پانی بھارت نہیں روک رہا‘‘ بیان دیکرقوم کو مایوس کیا اور اس سے عالمی سطح پر پاکستان کا موقف کمزور ہوا ہے، وزیر خارجہ نے امریکہ کے ساتھ ساتھ بھارت کے خوشامندی ہونے کابھی مظاہرہ کیا ہے حکومت کو اس بیان پر نوٹس لینا چاہیے، انہیں اپنے بیان کی وضاحت کرنی چاہئے وگرنہ انہیں اس منصب پر قوم کی نمائندگی کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اپنے ردعمل میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی آبی جارحیت کے باعث پاکستان قحط سالی کا شکار ہے، جسکا اعترف بھارتی انڈس واٹر کمشنر رنگاناتھن بھی کرچکے ہیں، انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے حصے کا پانی 62 ڈیمز اور نہریں تعمیر کرکے روک رہا ہے، ایسی صورت حال میں وزیر خارجہ کابیان بھارت کی خوشامد اور پاکستان دشمنی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت پانی چوری نہیں کررہا تو بھارتی وزیر اعظم نے وزیر اعظم گیلانی کو پانی کا مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کیوں کرائی ہے۔ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ حکومت داخلہ اور خارجہ محاز پر قومی امنگوں کے منافی پالیسیاں اپنائے ہوئے ہے، جن میں حب الوطنی نظر نہیں آتی۔ملکی سلا متی کے تقاضے نظرانداز کرکے حکو مت نہیں چل سکتی، خودمختار اورخوددار پالیسیاں اپنا نے کی بجائے غلامانہ اور نیاز مندانہ راستے پر چل رہی ہے جس سے ہمیں ہر محاز پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔