اگر ملکی ترقی واستحکام کے منصوبے ہم نے غیروں کی اجازت سے بنانے ہیں توپھر عالمی طاقتیں تو ہماری ایٹمی طاقت کے بھی خلاف ہیں تو کیا اسے بھی منجمد کردیں؟ وزیر دفاع کابیان بدنیتی پر مبنی ہے،ساجد میر
لاہور(3 مئی2010 ء) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹرپروفیسر ساجد میر نے وزیر دفاع احمد مختارکے اس بیان کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی راہ میں عالمی طاقتیں رکاوٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے بدنیتی پر مبنی قراردیا ہے ،اگر ملکی ترقی واستحکام کے منصوبے ہم نے غیروں کی اجازت سے بنانے ہیں تو عالمی طاقتیں تو پھر ہماری ایٹمی طاقت کے بھی خلاف ہیں تو کیا اسے بھی منجمدکردیں؟، اور وہ تو پاکستان کے وجود کو مٹانا چاہتی ہیں تو کیا اس پر بھی ہم انکا ایجنڈا مان لیں ؟ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے وزیر خارجہ وداخلہ سٹھیا گئے ہیں، انہیں بالکل اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا بول رہے ہیں اور انہیںکیا بولنا چا ہئے، اور کون سی بات ملکی مفاد میں ہے اور کونسی بات ملکی مفاد کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتوں کی کبھی خواہش نہیں رہی کہ پاکستان جمہوری طور پر مستحکم ہو وہ ہمیشہ آمروں کی سرپرستی کرتی رہیں ،کیا امریکہ چا ہتا تھا کہ 18 ترمیم منظور ہو ، اور جمہوری ادارے مضبوط ہوں مگر اسکے باوجود وعوام اور میڈیا کے دبائو پر آمرانہ ادوار کی ترامیم خارج ہوئیں اور اختیارات وزیر اعظم کی طرف منتقل ہوئے، انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کالا باغ ڈیم کا منصوبہ ترک کرکے پچھتا رہی ہے اور اپنی سیاسی مجبوری کی بنا پر اعلان تو کربیٹھی مگر اب بڑھتا ہوا عوامی دبائو دیکھ کر سارا ملبہ عالمی طاقتوں پر ڈالنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس سست روی اور غیر حکیمانہ طرز عمل سے حکومت انرجی بحران کا حل نکالنا چاہتی ہے 10 بھی لگا لے حل نہیں نکل سکتا، اور اس ملک کو نئے ڈیمز کی ضرورت ہے ااور اس میں کالا باغ ڈیم سرفہرست ہونا چاہئے ۔