حکومت کو عدلیہ سے لڑائی مہنگی پڑے گی،این آراو کے زریعے کالا دھن سفید کرنے والوں کا قوم احتساب چاہتی ہے،
لاہور(7مئی2010 ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹرپروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ حکومت کو عدلیہ سے لڑائی مہنگی پڑے گی،این آراو کے زریعے کالا دھن سفید کرنے والوں کا قوم احتساب چاہتی ہے، عدلیہ لوٹی ہوئی قومی دولت کی واپسی کی کوششوں میں خود کو تنہا نہ سمجھے پوری قوم اس کی پشت پر کھڑی ہے، حکومت عدلیہ سے تعاون کرے۔ جامعہ ابراہیمیہ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو آئین اور عدلیہ کی پرواہ نہیں رہی، اور وہ اداروں میں تصادم چاہتی ہے۔جسکا نتیجہ موجودہ نظام کے تلپٹ ہونے کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے ۔ا نہوں نے کہا کہ اگرصدر نے کوئی کرپشن نہیں کی تو و ہ مقدمات کا سامنا کرنے سے کیوں گھبراتے ہیںانہیں رضا کارانہ طور پر قومی دولت واپس کرنے کا اعلان کردینا چاہئے۔ اس سے انکی گری ہوئی ساکھ بحال ہوسکتی ہے۔اس موقع پر قائد مسلم لیگ میاں نوازشریف کو اپنے اصولی موقف پر ڈٹ جانا چاہئے۔اور اپنے اعلانات اور اقدامات کو عملی شکل دینی چاہیے ۔ اس طرح تمام اپوزیشن جماعتوں کو اس مسئلے پر یکساں موقف اپنا نا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے کی بحالی مردہ زندہ کرنے کے مترادف ہے،مولنافضل الرحمان اور جماعت اسلامی کی باہمی رنجش کے باعث دینی جماعتوں کے اتحاد کو نقصان پہنچا،اسکی انتخابی اتحاد کی حیثیت سے بحالی ناممکن ہے البتہ دینی اقدار کے تحفظ کے لئے اسے بحال اور موثر بنایا جاسکتا ہے۔