ایم ایم اے کی بحالی کا کوئی امکان نہیں ہے ، 12مئی کے اجلاس میں نئے اتحاد کے قیام پر غور کیا جائے گا۔ پروفیسر ساجد میر
لاہور( 8مئی2010 ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹرپروفیسر ساجد میر نے واضح کیا ہے کہ ایم ایم اے کی بحالی کا کوئی امکان نہیں ہے ، 12مئی کو اسلام آباد میں مولنا فضل الرحمان کی دعوت پر دینی قیادت کے غیر رسمی اجلاس میں نئے اتحاد کے قیام کی تجویز پر غور کیا جائے گا جواگرچہ ایم ایم اے کی طرز پر نہیں ہوگاتاہم اسکاایجنڈا دینی اقدار کے تحفظ اور غیر ملکی مداخلت کے خلاف ہوگا ۔ ہم نئے اتحاد کے حامی ہیں ،قاضی حسین احمدسمیت تمام دینی راہنمائوں کو نئے اتحاد کے لیے کوشش کرنی چاہئے اور حالات کی نزاکت کو سمجھنا ہوگا۔مرکز اہل حدیث میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ ایم ایم اے کسی جرنیل کی پیداوار تھی اسکی قیادت محب وطن اور اسلام پسند ہے اور ہم سب اس امر پرمتفق ہیں کہ دینی قوتوں کو متحد ہونا چاہیے،اس وقت ملکی سلامتی کی حفاظت اور غیر ملکی مداخلت کو روکنا بہت ضروری ہے، پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے امریکہ نئی نئی سازشیں کررہا ہے ، بعض شدت پسندوں کی طرف سے امریکہ پر حملوں کی دھمکیاں خود امریکی سی آئی اے کاکھیل ہے تاکہ پاکستان پر دبائو برقرار رکھا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کا کوئی بھی گروپ امریکہ پر حملہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، جنگ اور تصادم کا مصنوعی جواز پیدا کرنے کے لیے اور خطے میں مداخلت برقرار رکھنے کے لیے اس طرح کے اعلا نات کروائے جاتے ہیں ۔