امریکہ افغان طالبان کا رخ پاکستان کرکے آپریشن کے نئے محاز کھولنا چاہتا ہے، مرکز میں مختلف وفود سے گفتگو۔
لاہور (16 مئی 2010ء) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے حکمرانوں کی لالچ اور بزدلی کی وجہ سے امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ افغانستان سے پاکستان کی طرف کھینچ لانے میں کامیاب ہو گیا ہے اور وہ طالبان کا رخ پاکستان کی طرف کرنا چاہتا ہے تاکہ اسے پورے پاکستان میں جہاں چاہے طالبان کی موجودگی کی آڑ میں آپریشن کاجواز مل سکے۔ اسکا اصل مقصد پاک فوج کو کمزور اور ہماری ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔ مرکز اہل حدیث میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے خودکش بمبار پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں، بڑھتی ہوئی امریکی مداخلت نے حکمرانوں کی حب الوطنی کو مشکوک بنادیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے شمالی وزیرستان آپریشن کا مطالبہ کرکے ہماری غیرت اور خودمختاری کو چیلنج کیا ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی کابنیادی مقصد ملکی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حفاظت ہے جسے وزارت خارجہ بھول چکی ہے۔ ڈالروں کے لالچ نے قومی غیرت اورحمیت کا جنازہ نکل چکا ہے۔ حکمرانوں کو وطن کی سالمیت سے زیادہ اپنی کرپشن بچا نے کی فکر ہے۔دریں اثناء انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم صدر صاحب سے پوچھیں کہ انہوں نے این آروا کے خالق کو گارڈ آف دیکر کیوں رخصت کیا۔ عدالت نے تو انہیں باہر نہیں بھیجا۔ حکومت کرپٹ افراد کو تحفظ دینے کی بجائے عدالت کی معاونت کرے اور اپنے کردار سے ثابت کرے کہ وہ عدلیہ کے تمام فیصلوں کا احترام کرتی ہے۔