صدرکا رحمان ملک کی سزا معاف کرناعدلیہ پر عدم اعتماد ہے ،ایوان صدر تصادم کی راہ ہ پر چل پڑا ہے ،ساجد میر
لاہور( 18مئی2010 ء )مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹرپروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ صدرکا رحمان ملک کی سزا معاف کرناعدلیہ پر عدم اعتماد ہے ایوان صدر نے تصادم کی راہ پر چل پڑا ہے۔ عدلیہ سے لڑائی حکومت کو مہنگی پڑے گی ۔اہل حدیث یو تھ فورس کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر رحمان ملک پر لگنے والے الزامات جھوٹے ہیں تو وہ عدالت میں اپنی بے گناہی کیوں ثابت نہیں کرتے۔ صدر نے قبل ازاوقت انہیں معاف کرکے یہ تاثر دیا ہے کہ انہیں اپنے عدالتی نظام پراعتماد نہیں رہا، اس اقدام سے عدلیہ کے وقار اور اسکی آزادی کو بھی دھچکا لگا ہے اور پوری قوم اسے ناپسند یدگی کی نگا ہ سے بھی دیکھتی ہے۔ حکمران آنے والی نسلوں کے لئے اچھی مثا لیں قائم نہیں کررہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دو متوازی طاقتیں اپنی اپنی طاقت کا مظاہرہ کررہی ہیں۔ ایک ایوان صدر اور دوسری عدلیہ ، یہ جنگ جمہوریت اور ملک کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگی۔ انصاف کا گلا دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ امیر اور غریب کے لیے الگ الگ قانون بناکر عادلانہ معاشرہ نہیں قائم کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ این آراو کی بحالی کے عدالتی فیصلے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے والے عناصر ملک وقوم کے خیر خواہ نہیں کہلا سکتے۔ اے وائی ایف کے وفد نے پروفیسر ساجد میر کو 29 مئی کو سرگودھا میں منعقدہ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کرلی۔