اقوام متحدہ ’’تحفظ ناموس انبیاء علیہ السلام‘‘ کیلئے قانون سازی کرکے ملوث افراد کے لئے سزائے موت مقرر کرے، وگرنہ عالمی سطح پر مذاہب کے درمیان ٹکرائو ہو گا جس کے عالمی امن پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، علامہ پروفیسر سینیٹر ساجد میر
لاہور( 19مئی2010 ء ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹرپروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہاقوام متحدہ ’’تحفظ ناموس انبیاء علیہ السلام‘‘ کے لئے قانون سازی کرے اور ملوث افراد کے لئے سزائے موت مقرر کرے، وگرنہ عالمی سطح پر مذاہب کے درمیان ٹکرائو ہو گا جس کے عالمی امن پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آنحضورؐ کے خلاف اہانت آمیزی کا سلسلہ امت مسلمہ برداشت نہیں کرسکتی، اس قبیح حرکت کو روکنے کے لیے او آئی سی کے پلیٹ فارم پر اسلامی ممالک کی قیادت نہ صرف مذمتی قرارداد منظور کرے بلکہ وہ اقوام متحدہ کے سامنے مطالبہ رکھے کہ تحفظ ناموس انبیائؐ کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہرمسلمان کا عقیدہ ہے کہ تما م انبیاء قابل احترام ہیں اور کسی پیغمبر کی بھی توہین مسلمان کے نزدیک قابل برداشت نہیں ہو سکتی۔ خصوصا نبی آخرالزمانؐ پر ہونے والے رکیک حملے نا قابل برداشت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی امن کے دشمن تہذیبوں کے درمیان تصادم کی راہ ہموار کررہے ہیں ۔ اس سلسلے سے مغرب کے خلاف مسلمانوں کی نفرت میں اضافہ ہوگا۔ جس سے شدت پسندی، اور انتہا پسندی کو فروغ ملے گا،۔ انہوں نے کہا کہ فیس بک پر اہانت آمیزی کا سلسلہ انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے حکومت پاکستان کو بھی سرکاری سطح پر ملوث ممالک اور افراد کے خلاف سخت کارروائی کے لیے آواز بلند کرنی چا ہیے۔