پنجاب حکومت نے تعلیمی نصاب سے عربی مضمون کے اخراج کا فیصلہ کرکے دینی حلقوں کو مایوس کیا ۔ سینیٹر ساجد میر
لاہور( 20مئی2010 ء) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹرپروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے تعلیمی نصاب سے عربی مضمون کے اخراج کا فیصلہ کرکے دینی حلقوں کو مایوس کیا ہے۔ قرآن اور محمد عربی ؐ کی زبان سے پنجاب حکومت کو اس قدر چڑ ہوگی اسکا قطعا اندازہ نہیں تھا ، بہتر ہوگا کہ پنجاب حکومت عربی مضمون کو واپس شامل نصاب کرے وگرنہ انہیں علماء کی بددعائوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس فیصلے سے سیکڑوں گھرانوں کا روز گار متاثر ہوگا، ہم عربی اساتذہ کے ساتھ ہیں اور انکی ہرسطح پر مدد کریں گے۔اس امر کا اظہار انہوں نے مرکز اہل حدیث میں عربی اساتذہ کی ایکشن کمیٹی کے ارکان کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، جسکی قیادت حافظ عبدالستارنے کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک خاص نظریاتی تشخص کی وجہ سے مسلم لیگ ن کا ساتھ دیا، مگر ان کی پالیسیوں سے نظر آتا ہے کہ وہ بھی مغرب کو خوش کرنے کی راہ پر گامزن ہے، اور اگر یہ کام پرویز مشرف کرتا تو مسلم لیگ ن سراپا احتجاج بن جاتی، ملک کو سیکولر بنانے کی جس راہ کا انتخاب پرویز مشرف نے کیا تھا ، اگر اسی راستے پر مسلم لیگ ن چلے گی تو یہ ہماری بدقسمتی ہوگی۔ قوم نے انہیں ووٹ اس لئے دیئے تھے کہ یہ پاکستان کی نظریاتی ساکھ کو بحال کرے گی اور دینی اقدار کا تحفظ کرے گی۔ عربی زبان نہ صرف ہمارے مذہب کی شان ہے بلکہ عرب ممالک کے ساتھ تہذیبی وثقافتی رشتوں کو مضبو ط کرنے کا بھی باعث ہے ۔ حکومت کے اس اقدام کو عرب ممالک نے بھی پسند نہیں کیا۔ انہوں نے وزیر اعلی سے اپیل کی کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کریں اور ہزاروں عربی ٹیچرز کا مستقبل تاریک ہونے سے بچائیں۔