پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف کومذہب پسندی کی سزا دی جارہی ہے۔ سینیٹر ساجد میر
لاہور( 22مئی2010) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سوشل ویلفیئر اینڈ سپیشل ایجوکیشن کے چئیرمین پروفیسر ساجد میرنے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف کومذہب پسندی کی سزا دی جارہی ہے،قومی کرکٹ ٹیم میں محمد یوسف کی واپسی ٹیم کی مضبوطی کے لئے ناگزیر ہے، کرکٹ بورڈ محمد یوسف پر لگائی گئی پابندیاں ختم کرے اور اسے دوبارہ کرکٹ میں واپسی کی درخواست کرے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کرکٹ ٹیم میں ڈسپلن قائم رکھنا اور کھلاڑیوں کی منفی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنا بورڈ کی زمہ داری بنتی ہے تاہم کسی بے گناہ کو عتاب کا نشانہ نہیں بنانا چا ہیے۔ محمد یوسف کے خلاف سیکولر لابی متحرک ہے جنہیں اسکی مذہب پسندی برداشت نہیں ہے، کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ کارکردگی میں اتار چڑھائو آتا رہتا ہے۔ اس سے مایوس ہوکر کھلاڑیوں کا وجود ہی برداشت نہ کرنے کی پالیسی درست نہیں ہے، بورڈ کو اس معاملے میں حقائق کا مدنظر رکھنا چاہیے۔ محمد یوسف کرکٹ کا اثاثہ ہے۔ وہ ہمیشہ قومی ٹیم کے وقار اور ملک کی عزت کے لئے کھیلا ہے اور اسکا ریکارڈ بھی شانداررہا ہے۔ انہوں نے محمد یوسف کے بھائی کے قبول اسلام کے فیصلے کو سراہا ااور انکی استقامت کے لئے دعا کی۔