حکومت عدلیہ کا احترام کرنا سیکھے،اور وکلاء کو خریدنے کی بجائے عطاء آباد کے متاثرین کی امداد کرے۔ پروفیسر ساجد میر
لاہور( 23مئی2010 ء) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ حکومتی رویوں سے لگتا ہے کہ اس نے ابھی تک عدلیہ کا احترام کرنا نہیں سیکھا، ہر بڑا مجرم صدر سے دوستی کا خواہشمند ہے، ایک یا دو لوگوں کی خاطر نظام کو خطرے میں ڈال کر دانشمند ی کاثبوت نہیں دیا جارہا۔ عوام عدلیہ کی پشت پر کھڑی ہے، این آراو پر عمل درآمد کا فیصلہ سڑکوں پر ہوگا، حکومت کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں۔ ملتان کے تنظیمی دورے سے واپسی پر ائیر پورٹ پر میڈیا اور کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کو ئی سیاسی جماعت عدلیہ کو تباہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی ، مگر موجودہ حکومت نے این آراو کے معاملے پر عدلیہ سے تصادم کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اور ایک یا دولوگوں کی خاطر پورے نظام کو دائو پر لگایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے بغیر جمہوریت نہیں چل سکتی۔ قوم نے اور خود حکمران جماعت نے بڑی قربانیوں کے بعد عدلیہ کو آزادی دلائی ہے۔ ہم اس آزادی کو پارلیمنٹ کی بالادستی کے نام پر غارت نہیں ہونے دیں گے، اس سے بڑی جمہوریت اور ملک دشمنی نہیں ہوگی اگر ہم عدلیہ کی آزادی کے درپے ہو گئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر قانون سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے وکلاء اور بار کے نمائندوں کو بانٹ کر عدلیہ کے خلاف صف آراء ہونے کی تیاری کررہے ہیں۔ حکومت کے پاس عطاء آباد کے متاثرین کو تو دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں مگر وکلا ء کے لئے نوٹوں کی بوریاں کھولی جارہی ہیں۔ حکومت حریت پسند وکلاء کے ضمیر نہیں خرید سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ رحمان ملک کی صدارتی معافی کے بعد ہر بڑ امجرم صدر کے ساتھ دوستی کا خواہشمند ہے۔ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ انصاف کے بغیر اچھی حکمرانی کا تصور ناپید ہے ہمارے پاس انصاف کے راستے پر چلنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں کیونکہ وہی راستہ ہی حق کا راستہ ہے۔