قرآن مجید خاتم الوحی اور علم الٰہی کا سرچشمہ ہے۔ قرآن کی تعلیم و تفہیم کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔
لاہور: اہل حدیث یوتھ فورس پاکستان کے زیر اہتمام ملک بھر میں 40 روزہ فہم قرآن کلاسز شروع کرنے کیلئے اساتذہ کی تربیت کیلئے 2 روزہ تربیتی کیمپ لگایا گیا۔ جس میں پروفیسر عبدالرحمن طاہر، حافظ عبدالوحید مدیر ادارہ الفلاح، قاضی ریاض قدیر صدر اہل حدیث یوتھ فورس پاکستان، حافظ ذاکر الرحمن صدیقی مرکزی جنرل سیکرٹری، حکیم عبداللطیف مدنی صدر پنجاب، پروفیسر مزمل احسن شیخ، میاں محمد افضل چیئرمین اسلامک فائونڈیشن پاکستان نے اساتذہ کی تربیت کیلئے لیکچرز دئیے۔ پہلے روز مرکز اہل حدیث 106 راوی روڈ میں فہم قرآن کلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ امت مسلمہ کی بے عملی اور قرآن سے دوری کے باعث اہل کفار کو توہین رسالتؐ کی ناپاک جسارت کی جرأت ہوئی۔ قرآنی تعلیمات بنی نوع انسان کو ظلمت کے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتی ہیں، قرآن مجید خاتم الوحی اور علم الٰہی کا سرچشمہ ہے، قرآن کریم میں انسانوں کی ضروریات، مسائل اور مشکلات کا حل پوشیدہ ہے۔ قرآن انسانیت کے لےے برہان، نور، شفاء، ہدایت اور رحمت ہے۔ یہ حق و باطل کی امتیازی کسوٹی اور انقلابی کتاب ہے۔ صدر اہل حدیث یوتھ فورس پاکستان قاضی ریاض قدیر نے کہا کہ قرآن مسلمانوں کی سب سے قیمتی متاع ہے اس میں فکر و تدبر سے حکمت کا جوہر حاصل ہوتا ہے۔ طاغوتی تہذیب کو اعتدال پسندی اور روشن خیالی کا نام دے کرمسلمانوں پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ قرآن مجید پر عمل کرنے والی قوم نے روئے زمین سے ابلیسی قوتوں کا خاتمہ کر کے اس کو توحید سے منور اور امن کا گہوارہ بنایا۔ چیف کنوینر فہم قرآن کلاسز حکیم عبداللطیف مدنی نے کہا کہ قرآن کی تعلیم و تفہیم کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ علم و فہم کے بغیر قرآن پر عمل پیرا ہونا ممکن نہیں۔ پروفیسر مزمل احسن شیخ، حافظ عبدالوحید نے کہا کہ قرآن کا قیامت تک محفوظ رہنا سب سے بڑا اعجاز، معجزہ اور عالم کفر کے لےے چیلنج ہے۔ انسان اپنے شرف کے حصول کے لےے قرآن پاک کا محتاج ہے، اس کے بغیر معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ نہیں بن سکتا۔ چیئرمین اسلامک فائونڈیشن میاں محمد افضل نے کہا کہ قرآن پاک طہارت و عبادت، معاشرت و معاشیات، سیاست و عدالت، صنعت و تجارت اور قانون سازی سمیت زندگی کے ہر شعبے میں انسان کی مکمل رہنمائی کرتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کو سمجھ سوچ کر پڑھا اور اس پر عمل کیا جائے۔
نوٹ: یہ خبر ای میل بھی کر دی گئی ہے۔