توہین رسول صلی اللھ علیھ وسلم کو ’’تہذیب و شرافت‘‘ سے برداشت کرلینا اپنے ایمان سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہے، ساجد میر
لاہور (27مئی2010ء) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ آنحضور صلی اللھ علیھ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنے کے علاوہ اس دنیا میں بھی گردن زنی ہے۔خود نبی نے اپنے اور اسلام کے بے شمار دشمنوں کو (خصوصاً فتح مکہ کے موقع پر ) معاف فرمادینے کے ساتھ ساتھ ان چند بدبختوں کے بارے میں جو نظم و نثر میں آپ کی ہجو اور گستاخی کیا کرتے تھے فرمایا تھا کہ اگر وہ کعبہ کے پردوں سے چمٹے ہوئے بھی ملیں تو بھی انہیں واصل جہنم کیا جائے۔یہ حکم (نعوذ باللہ)آپ صلی اللھ علیھ وسلم کی ذاتی انتقام پسندی کی وجہ سے نہ تھا کہ آپ صلی اللھ علیھ وسلم کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ اور صحابہ کرام رضی اللہ کی شہادت موجود ہے کہ آپ صلی اللھ علیھ وسلم نے کبھی بھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا، بلکہ اس وجہ سے تھا کہ شاتم رسول صلی اللھ علیھ وسلم دوسروں کے دلوں سے عظمت و توقیر رسول صلی اللھ علیھ وسلم گھٹانے کی کوشش کرتا اور ان میں کفر ونفاق کے بیج بوتا ہے ،اس لئے توہین رسول صلی اللھ علیھ وسلم کو ’’تہذیب و شرافت‘‘ سے برداشت کرلینا اپنے ایمان سے ہاتھ دھونا
ا ور دوسروں کے ایمان چھن جانے کا راستہ ہموار کرنے کے مترادف ہے۔ وہ یو تھ فورس کی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ذات رسالت مآب صلی اللھ علیھ وسلم چونکہ ہر زمانے کے مسلمان معاشرہ کا مرکز و محور ہے اس لئے جو زبان آپ صلی اللھ علیھ وسلم پر طعن کے لئے کھلتی ہے،اگر اسے کاٹانہ جائے اور جو قلم آپ صلی اللھ علیھ وسلم کی گستاخی کے لئے اٹھتا ہے اگر اسے توڑانہ جائے تو اسلامی معاشرہ فساد اعتقادی و عملی کا شکار ہوکر رہ جائے گا۔نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کو (نعوذ باللہ) نازیبا الفاظ کہنے والا امام ابن تیمیہ کے الفاظ میں ساری امت کو گالی دینے والا ہے اور وہ ہمارے ایمان کی جڑ کو کاٹنے کی کوشش کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کے گستاخوں نے پیارے رسول صلی اللھ علیھ وسلم کی شان اقدس میں خاکے اڑانے کی جو جسارت کی تھی،ابھی انہی سے امت مسلمہ کے دل دکھے ہوئے تھے اور زخم مند مل نہیں ہوئے تھے کہ اب ان گستاخوں نے اپنی ویب سائٹ ’’فیس بک‘‘ کے ذریعے خاکوں کا مقابلہ رکھ کر ایک بار پھر امت مسلمہ کے کلیجے کو ہاتھ ڈالنے کی جسارت کی ہے۔ہمارا ایمان ہے کہ دنیا کے گستاخ جتنی چاہے کوشش کرلیں،پیارے رسول صلی اللھ علیھ وسلم کی عظمت کی تابناکی میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔چاند پر تھوکا ہوا خود ان کے منہ پر آگرے گا۔مگر معاملہ ہے غیرت ایمانی کا کہ نبی کریم صلی اللھ علیھ وسلم کی عظمت و توقیر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے ۔