اہل حدیث یوتھ فورس پاکستان کے زیر اہتمام عیدگاہ سرگودھا میں ’’ختم نبوت کانفرنس‘‘ شروع ہو گئی
اہل حدیث یوتھ فورس پاکستان کے زیر اہتمام عیدگاہ سرگودھا میں ’’ختم نبوت کانفرنس‘‘ شروع ہو گئی، کانفرنس میں سرگودھا کے گردونواح اور پورے پنجاب سے یوتھ فورس کے ہزاروں کارکن شریک ہیں۔ کانفرنس کی صدارت قاضی ریاض قدیر مرکزی صدر اہل حدیث یوتھ فورس کر رہے ہیں جب کہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان اور قائم مقام ناظم اعلیٰ مولانا عبدالرشید حجازی مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک کانفرنس ہیں۔ کانفرنس کے ابتدائی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے مرکزی صدر قاضی ریاض قدیر نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج کی یہ عظیم الشان کانفرنس جہاں برصغیر میں انگریز کے خودکاشتہ پودے مرزائیت کی اسلام اور پاکستان کے خلاف سازشوں کو بے نقاب کرے گی وہیں مرزائیت کے ناسور کی حقیقت کو آشکار کرنے مین علمائے اہل حدیث کے شاندار اور تابناک کردار کو بھی واضح کیا جائے گا، اور ختم نبوت کی اس تحریک کو پورے ملک میں پھیلا کر قادیانیت کے فتنہ کی تباہ کاریوں سے لوگوں کو آشنا کیا جائے گا۔ حافظ ذاکر الرحمن صدیقی جنرل سیکرٹری A.Y.F پاکستان نے اپنے پرجوش خطاب میں کہا کہ آج آئے روز محسن کائناتؐ کی شان اقدس میں گستاخی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، کفار آئے روز مسلمانوں کی غیرت کا امتحان لینے کے لےے ایسی نازیبا اور غیر اخلاقی، گھٹیا حرکات کے مرتکب ہو رہے ہیں، کفار کی ان ناپاک جسارتوں کے پیچھے یہود و نصاریٰ کے ساتھ ساتھ ان کے ایجنٹ اور آلہ کار مرزائی حضرات کا ہاتھ ہے، پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے اور اسے پارہ پارہ کرنے، ملک میں فرقہ واریت کو ہوا دینے میں بھی امریکہ، بھارت، اسرائیل کے ساتھ بھی مرزائیت کا ناسور ملوث ہے کیونکہ پاکستان ہی وہ اولین ملک ہے جس نے قانونی طور پر قادیانی عقائد کے حاملین کو کافر قرار دیا تھا، ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قادیانیوں کی سرگرمیوں کو مانیٹر کرے۔ سینیٹر پروفیسر ساجد میر صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں قادیانیوں کی عبادت گاہ میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات بلاشبہ قابل مذمت ہیں‘ دہشت گردی کسی بھی ملک و مذہب کے خلاف کیوں نہ ہو وہ یقینا قابل مذمت ہے، ایسے واقعات پاکستان اور اسلام کو بدنام کرنے کی کوششوں کا صلہ ہیں کیونکہ پاکستان کفار کو ایک آنکھ نہیں بھاتا اور وہ آئے روز پاکستان کے استحکام اور سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لےے دہشت گردی کے واقعات کرواتے رہتے ہیں تا کہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ پاکستان انتہا پسند اور اجڈ قوم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہیں، کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالرشید حجازی نے کہا کہ علمائے اہل حدیث نے غلام احمد قادیانی کی حرکات کو دیکھتے ہوئے شروع ہی میں بھانپ لیا تھا کہ یہ شخص کسی فتنے کا باعث بنے گا، یہی وجہ ہے کہ مرزائیت کے روز اول ہی سے علمائے اہل حدیث نے اس کے سدباب اور تدارک کے لےے نہایت تندہی سے کاوشوں کا آغاز کر دیا تھا اور مشہور اہل حدیث عالم دین مولانا محمد حسین بٹالویؒ نے سب سے پہلے کوشش
کرتے ہوئے ہندوستان کے دو سو سے زائد علماء کے دستخظوں سے یہ مرزائی حضرات کے کافر ہونے کا فتویٰ جاری کیا تھا، اسی طرح مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کو مرزائیت کے خلاف ان کی شاندار اور بے مثال خدمات کے اعتراف میں فاتح قادیان کا خطاب دیا گیا اور انہیں کے ساتھ مباہلہ کے نتیجے میں مرزا قادیانی مردار ہو کر اپنے آپ کو جھوٹا ثابت کر گیا، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ نے تحریر و تقریر کے ساتھ ساتھ فن مناظرہ کے ذریعے بھی قادیانیوں کو ناکوں چنے چبوائے، اسی طرح مولانا ابراہیم میر سیالکوٹیؒ، مولانا غلام علی امرتسریؒ، مولانا محمد اسماعیل علی گڑھی، مولانا عبدالحق غزنویؒ، مولانا احمد اللہ امرتسریؒ، مولانا غلام دستگیر قصوری اور دیگر بہت سے علمائے اہل حدیث نے مرزائیت کے فتنے کے سدباب کے لےے نہایت جاندار خدمات انجام دیں جن کا اعتراف خود مرزائی حضرات بھی کرتے ہیں۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی امیر پنجاب نے کہا کہ انگریز نے برصغیر پر حکومت کرنے کے لےے مسلمانوں میں ایک نئے فرقے کو پیدا کیا جس نے جہاد حرام قرار دیا اور انگریز کی وفاداری کو لازم یہ فرقہ مرزائی حضرات جو بعد میں اپنی انتہائوں کو چیرتا ہوا دائرہ اسلام سے ہی خارج ہو گیا کیونکہ ان لوگوں نے برطانیہ کی جھولی میں بیٹھ کر محسن انسانیتؐ کی ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا، جنرل سیکرٹری سیاسی کمیٹی رانا محمد نصراللہ خاں نے کہا قادیانی پاکستان کے کلیدی عہدوں پر بیٹھ کر اپنے اثر و رسوخ سے پاکستان کے اندر الگ ریاست قائم کےے ہوئے ہیں۔ جب کہ دوسری طرف طاغوتی طاقتوں کے بل بوتے اور دولت پر برطانیہ سے پوری دنیا میں اپنا نیٹ جاری رکھے ہوئے ہیں اور افریقہ وغیرہ کے غریب ممالک میں لوگوں کو بھلا پھیلا کر قادیانی بنا رہے ہیں۔ جب کہ خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں۔ امتیاز احمد مجاہد ناظم ذیلی تنظیمات مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے دستور میں مرزائی حضرات کو کافر قرار دینے کے باوجود مرزائی مسلمانوں کے شعائر استعمال کر رہے ہیں اور خود کو مسلمان ظاہر کرتے اہم عہدوں پر فائز ہیں جو دستور پاکستان کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ حافظ عمران تبسم جنرل سیکرٹری A.Y.F پنجاب نے کہا کہ مرزائی حضرات نے ربوہ میں اپنی الگ اسٹیٹ قائم کر کے پاکستان کے اندر اپنی ریاست قائم کر رکھی ہے۔ جہاں وہ خود مختار ہیں۔ پاکستان کے تحفظ کے لےے ضروری ہے کہ مرزائی حضرات کے خلاف کلین اینڈ سویپ آپریشن کیا جائے۔ حکیم عبداللطیف مدنی صدر اہل حدیث یوتھ فورس پنجاب نے اپنے خطاب میں کہا کہ قادیانیت کے وار سے بچنے کے لےے ضروری ہے کہ ختم نبوت کے پیغام اور عقیدہ کو اتنا عام کیا جائے کہ لوگ قادیانیت کی حقیقت سے آگاہ ہو جائیں اور ان کی چکنی چپڑی باتوں میں نہ آئیں، کانفرنس سے ڈاکٹر عبدالرشید اظہر، عرفان اللہ ثنائی، مولانا ارشاد الحق اثری، مولانا فضل الرحمن مدنی، علامہ زبیر احمد ظہیر، مولانا منظور احمد، عبدالعلیم یزدانی، مولانا عبداللہ نثار، حافظ عبدالباسط شیخوپوری، قاری عبدالحفیظ فیصل آبادی، حافظ فیصل افضل شیخ، علامہ نصیر احمد عثمانی، حافظ سیف اللہ کمیرپوری، اعجاز احمد شاکر، مولانا بہادر علی سیف، سید سبطین شاہ نقوی، علامہ ابراہیم خادم قصوری، مولانا عبدالوحید عاصم، سلیم اللہ کمیرپوری و دیگر نے خطاب کیا۔