حکمران عوام کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چھوڑ خود بینکرز میں چھپے بیٹھے ہیںقادیانیوں پر حملوں کو بنیادبناکر مدارس پر حکومت نے چڑھائی کی کوشش کی تو ہم مزاحمت کریں گے۔ پارٹی وفود سے گفتگو
لاہور (30مئی2010ء) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ ا مریکہ اپنے ملک میں حملے کاکوئی نیا ڈرامہ رچاکر پاکستان پر حملے کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے،پاک فوج امریکی دھمکیوں کامنہ توڑ جواب دے ،قوم وطن کی سلامتی کے تحفظ کے پاک فوج کے ساتھ ہے ،حکمران بھی بزدلی کی چادر اتارکر قوم میں دفاع وطن کا جذبہ پیدا کریں ۔پاکستان پر یکطرفہ امریکی حملے کی دھمکی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت شمالی وزیر ستان پر آپریشن کے لئے امریکی دبائو مسترد کردے۔مرکز اہل حدیث میں پارٹی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمران ملک کی بجائے اپنی کرپشن بچانے کی فکر میں لگے ہوئے ہیںاورعوام کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چھوڑ خود بینکرز میں چھپے بیٹھے ہیں، حوصلے پست نہ ہونے اور الفاظ کی حد تک کے گھسے پٹے بیانات دیکر اپنی جان چھڑانا حکمرانوں کا وتیرہ بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر لاہور میں ہونے والے واقعات کو بنیاد بنا کر مدارس پر حکومت نے چڑھائی کی کوشش کی تو ہم مزاحمت کریں گے۔کوئی دینی مدرسہ دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا۔ اگر کوئی ہے تو بتایا جائے ہم خود اسے بند کردیں گے ۔ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ حکومت مدراس کی اتھارٹی کے قیام میں سست روی کا مظاہرہ کررہی ہے ، جن امور پر تما م مکاتب فکر کا اتفاق ہوچکا ہے انہیں قانونی شکل ملنی چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کرنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے۔ ملک پہلے ہی ایسے آپریشنوں کی وجہ سے آگ وخون میں ڈوبا ہوا ہے۔ اگر پھر غلطی کی گئی تو اسکا شدید ردعمل سامنے آسکتا ہے۔ جہاں تک دہشت گردوں کو ناکام بنانے اور ان کاقلع قمع کرنے کا تعلق ہے تو حکومت کو اصل اسباب تلاش کرنا ہوں گے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی غیر ملکی مداخلت اورڈرون حملوں نے لوگوں میں انتقام کا جذبہ پیدا کیا، اور امریکہ بھی تصادم پسند کرتا ہے جسکا اصل نقصان ہمیں برداشت کرنا پڑے گا۔