امریکی بیان ’’اسرائیلی حملہ قابل مذمت نہیں‘‘ انتہائی شرمناک اور انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ قاضی ریاض قدیر
اہل حدیث یوتھ فورس پاکستان کے صدر قاضی ریاض قدیر نے ختم نبوت کانفرنس کی کامیابی پر کارکنان کے اعزاز میں دئیے گئے ظہرانے کے موقع پر کہا کہ غزہ کے امدادی سامان لے جانے والے قافلے پر حملے اور اس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے نقصان پر پوری دنیا عالمی غنڈے اسرائیل کی مذمت کر رہی ہے اور مسلم ممالک میں اسرائیلی کی ننگ انسانیت جارحیت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ انسانیت پر اسرائیل کے اس گھنائونے حملے پر امریکی وائٹ ہائوس کا بیان جس میں کہا گیا ہے کہ ’’اسرائیلی حملہ قابل مذمت نہیں‘‘ انتہائی شرمناک اور انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے۔ وائٹ ہائوس نے ایک بار پھر اپنے ناجائز بچے کی دہشت گردی کی حمایت کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کا سرپرست‘ معاون اور نگران ہے۔ اسرائیل اور دیگر دہشت گرد قوتیں امریکی امداد اور آشیر باد ہی سے انسانیت کے خلاف یہ قوتیں کارروائیاں کر رہی ہیں۔ قاضی ریاض قدیر نے کہا کہ دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا ہے تو تمام ممالک کو اسرائیلی اور امریکہ کے خلاف ڈٹ جانا چاہےے۔ اسرائیل اور امریکہ کے وجود کو دنیا سے مٹائے بغیر امن کا خواب پورا نہیں ہو سکتا، امریکہ خود دنیا بھرمیں دہشت گردی گروپوں اور تنظیموں کو منظم کرتا اور انہیں امداد فراہم کرتا ہے اور بعد ازاں بہانہ بنا کر خود ہی مصنوعی دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ہو کر دیگر ممالک کو بھی اپنی نام نہاد جنگ میں جھونک کر اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے، مسلم ممالک کو چاہےے کہ اسرائیل کو تباہ کرنے کے لےے اکٹھے ہو جائیں۔ تمام اسلامی ممالک متحد ہو جائیں تو پھر یہود و نصاریٰ کو مسلمانوں کے خلاف کسی اقدام کی جرأت نہیں ہوگی۔ تمام مسلمان یہود نصاریٰ اور اسرائیل کی تباہی کے لےے بددعائیں کریں۔ کشمیر و فلسطین کی آزادی کے لےے دعائیں کی جائیں۔