دہشت گردی کانیٹ ورک توڑنے کے لیے انٹیلی جنس نظام کو فعال بنانے کی ضرورت ہے،پروفیسر ساجد میر
لاہور ( 16جون2010 ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے دہشت گردی کانیٹ ورک توڑنے کے لیے انٹیلی جنس کے نظام کو فعال بنانے کی ضرورت ہے،کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات لسانی کے علاوہ فرقہ وارانہ کشیدگی کا بھی نتیجہ ہیں جس میں بیرونی ہاتھ بھی ہوسکتا ہے، ان کو روکنے کے لئے تما م مذہبی راہنماﺅں کو ملی یکجہتی کونسل کی طرز پر مشترکہ فورم بنانا چاہئے، جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دے اور تما م مکاتب فکر کے لئے ضابطہ اخلاق ترتیب دے۔ اہل بیت ؓ ،صحابہ کرامؓ ا ور ازواج سول ﷺ کے خلاف غلیظ اور متنازعہ لٹریچر ضبط کیا جائے اور ایسی تقاریراور تحریریں لکھنے والے مسلمان نہیں بلکہ اسلام دشمنوں کے ایجنٹ ہیں۔ تما م مذہبی راہنماﺅں کو اپنی صفوں میں چھپے ہوئے ایسے فرقہ وارانہ عناصر کو تلاش کرکے ان کی بیخ کنی کرنا ہوگی۔ علماءکے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے دشمن نت نئے ایشوز کھڑے کررہا ہے۔ لسانی کے بعد اب شیعہ سنی تصادم کرانا چاہتا ہے۔ کراچی میں اچانک دینی تنظیموں سے وابستہ افراد کا قتل گھناﺅنی سازش ہے۔ جسے ملک بھر میں پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے، اسے روکنے کے لیے سنجیدہ فکر علماءکو سامنے آنا ہوگا۔ اس سلسلے میں تما م مکاتب فکر کی قیادت کو ایسا ضابطہ اخلاق بنانا ہوگا جس میں کسی کے خلاف اشتعال انگیزی کو سختی سے روکا جائے۔وزیر داخلہ ہر واقعہ میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے کہہ کر جان چھڑانے کا سلسلہ بند کریں اور صرف بڑھکیں نہ ما را کریں عملی کام کرکے دکھائیں۔وطن عزیر کا استحکام ہم سب کے لئے اولین ترجیح ہو نی چاہئے۔