امریکی حکام ڈومور کی بین بجانے پاکستان آتے ہیں ہمارے حکمرانوں میں نومور کہنے کی جرات نہیں، پروفیسر ساجد میر
لاہور(21 جون 2010 ) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے امیر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے امریکی حکام ڈومور کی بین بجانے پاکستان آتے ہیں، حکمرانوں میں نومور کہنے کی جرات نہیں ہے۔ دہشت گردی کی دلدل میں دھکیل کرپاکستان کو اقتصادی طور پرکنگال کرنے والے امریکہ نے امداد کے وعدے پورے نہیں کئے ،جمہوری حکمران امریکی غلامی قبول کرنے کے باوجود فوجی آمر پرویز مشرف سے زیادہ امریکی امداد حاصل نہیں کرسکے۔ مرکز اہل حدیث راوی روڈ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت افغان سر زمین پاکستان کی سا لمیت کے خلاف سازشوں کا مرکز بن چکی ہے۔اتحادی افواج بھارتی خواہش پورا کرنے کے لیے پاکستان کے خلاف منفی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئی ہیں۔ افغان بارڈر سے انڈیا اپنے ایجنٹ پاکستان میں تخریب کاری کے لئے داخل کررہا ہے، اور امریکہ نے آنکھیں بند کررکھی ہیں۔پاکستان اور افغانستان کو چاہئے کہ انہیں غیر مستحکم کرنے والے عناصر کا مقابلہ کریں اور دہشت گردی کے نام پر لڑی جانے والی جنگ سے علیحدہ ہوجائیں۔ دونوں ممالک کی قیادت نیٹو افواج کو انکے ممالک واپس بھجوانے کی کوئی مشترکہ حکمت عملی طے کرے۔ انہوں نے کہا کہ رچرڈ ہالبروک سمیت دیگر امریکی حکام ہمارے حکمرانوں کو ڈومور کا درس دینے آتے ہیں۔ بدقسمتی سے موجودہ حکمرانوں میں اتنی جرات نہیں کہ ملکی خودمختاری کے خلاف امریکی دباءمسترد کرتے ہوئے نومور کہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر طے شدہ ہے کہ اس خطہ میں امریکی اتحادی افواج کی موجودگی میں قیام امن کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔